| 90157 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | دلال اور ایجنٹ کے احکام |
سوال
یہ معاہدہ فریقین کے درمیان کیا جا رہا ہے اور یہ معاہدہ 16 ایکڑ زمین ( کامران بلوچ والی ) واقع پیر بخش سموں گوٹھ دیھ تا ئیسر کراچی جس پر ترقیاتی کام جس میں سیوریج لائن ، روڈ بھرائی بجلی اور پانی کی لائن وغیرہ شامل ہیں، فی الوقت 10 ایکڑ زمین پر کام شروع کیا جائے گا، جس کا حساب فریقین نقشے کی صورتحال دیکھتے ہوئے کریں گے:
فریق اول: محمد عمیربوٹا ولد محمد بوٹا ، 1-1354836-42501 ، سکنہ غنی آباد، ثناء اللہ ابراہیم ولد محمد ابراہیم ، فون نمبر: 2250455-0318
فریق دوئم: نعمان الله خان ولد نصرت اللہ خان ، 3-0818876-42000، سکنہ ناظم آباد نمبر 5، کراچی، محمد علی ولد مزار خان5-6497559-42501
شرائط مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ فریق اول اس زمین پر ترقیاتی کام کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ جس میں فی پلاٹ الاٹ کروانے والے یعنی خریدارسے ایک لاکھ روپے (/100,000.Rs) ڈیویلپمنٹ کی مد میں وصول کئے جائیں گے۔
2۔ فریق دوئم مبلغ میں لاکھ روپے (20,00,000.Rs کیش فریق اول کو 15 دن میں البرکہ بینک کے اکاؤنٹ میں ادا کرنے کا پابند ہوگا۔ فریق دوئم نے فریق اول کو یقینی دہانی کرائی ہے کہ ترقیاتی کام کرنے کے دوران اگر فریق اول کو رقم کی ضرورت ہوتی ہے تو فریق دوئم ، فریق اول کو مبلغ پانچ لاکھ روپے تک دینے کا ذمہ دار ہوگا۔ فریق دوئم کے شیڈول کا آغاز اس تاریخ کے مطابق ہوگا جب مبلغ بیس لاکھ روپے ( 20,00,000.Rs) فریق اول کے اکاؤنٹ میں بمعہ رسیدموجود ہوں گے۔
3۔فریق اول اس زمین پر ترقیاتی کام کرنے کا ذمہ دار ہوگا،جس میں فریق اول فی پلاٹ فریق دوئم کو مبلغ تیس فیصد15 ماہ کے اندر اندر ادا کرنے کاپابند ہوگا اور جتنے پلاٹ نقشے میں ہوں گے اُن کا حساب کیا جائیگا۔
4۔فریق اول مبلغ چار لاکھ روپے (-/4,00,000.Rs) ہر ماہ فریق دوئم کو شیڈول کے مطابق دینے کا پابند ہوگا۔ رقم کی مد میں گاڑی ، مکان ، موٹر سائیکل ، گولڈ وغیرہ بھی شامل ہوں گے ، اس پر فریق دوئم کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا اور اس کی تمام تر ذمہ داری محمد علی مغیری پر عائد ہوگی۔
5۔فریق دوئم ترقیاتی کام میں مکمل طور پر سپورٹ کرینگے، جیسے زمینی معاملات میں وقتی طور پر قانونی سپورٹ اور عوامی سپورٹ کرنے کا پابند ہوگا، جس کا مطالبہ بظاہر فریق اول کی جانب سے ہوگا اور اس کی تمام تر ذمہ داری محمد علی مغیری پر عائد ہوگی،اس میں مالی تعاون بھی شامل ہے اور یہ تعاون کسی شمار میں نہیں ہو گا، یعنی کورٹ وغیرہ میں اگر پیسے خرچ ہوئے تو اس کی بنیاد پر نفع کا اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
6۔ فریقین کے درمیان باہمی رضا مندی سے یہ معاہدہ طے پایا ہے کہ 4 ماہ تک ترقیاتی کام کی پوزیشن مستحکم ہونے تک درج ذیل شرائط پر عملدرآمد کرتے رہیں گے،وگر نہ فریق اول ، فریق دوئم کو ان کی اصل رقم مبلغ بیس لاکھ روپے (-/20,00,000.Rs) واپس ادا کرنے کے پابند ہونگے اور اس کی ذمہ داری تینوں فریقین یعنی ثناء اللہ مغیری، محمد عمر بوٹا اور محمد علی مغیری پر عائد ہوگی۔اس میں نقصان بھی شامل ہے، اگر بالفرض نقصان ہوا تو بھی فریق دوم کو اس کی مکمل رقم ادا کی جائے گی۔
7- فریق دوم نعمان اللہ خان یعنی سرمایہ لگانے والا کسی بھی طرح کے نقصان سے بری ہوگا۔
8۔فریق دوم ویلفیئر کے اندرونی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کریں گے، اگر کا روباری تعلقات کی بناء پر فائل کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو فائل اور ڈیولپمنٹ چار جز ان کے حصے میں شمار کیے جائیں گے۔
9۔ فریق اول پلاٹوں کی قیمت اور خرید وفروخت پر فیصلہ کرنے کے مجاز ہوں گے ، کا روباری تعلقات کی بناء پر فریق دوم اگرکسی پلاٹ کو فروخت کرتے ہیں تو وہ ان کی طے کردہ رقم میں شامل ہوگا ۔ فریق دوم پلاٹ فروخت کرنے سے پہلے پیر بخش سموں گوٹھ ویلفیئر سے تصدیق کرنے کا پابند ہوگا ، جس کا سر پرست سردار ولی محمد مینگل ہے۔
10۔ بقیہ16 ایکڑ پر ترقیاتی کام شروع ہوگا تو فریق اول، فریق دوئم کو ڈیولپمنٹ کی مد میں مبلغ ایک لاکھ روپے میں سے اُس کا %30 دینے کا پابند ہوگا۔
یہ معاہدہ تمام فریقین کی باہمی رضا مندی اور خوش اسلوبی کے ساتھ گواہان کی موجودگی میں طے کیا جارہا ہے تاکہ سندر ہے اور بوقت ضرورت کام آسکے۔
وضاحت: سائل نے فون پر بتایا کہ یہ زمین کسی اور شخص کی ہے، اس نے پلاٹوں کا نقشہ بنا کر لوگوں کو بیچ دیے ہیں اور قیمت بھی وصول کر چکا ہے، البتہ اس زمین میں ڈیویلپمنٹ کا کام بالکل نہیں ہوا، تو ہم دو فریقوں نے اس سےزمین میں ترقیاتی کام کا معاہدہ کیا ہے، جس میں یہ طے ہوا ہے کہ ہم ہرالائٹی سے ایک لاکھ روپیہ لے کر کام کروائیں گے، سوسائٹی کے مالک کے ساتھ نفع کی کوئی شرح طے نہیں ہوئی، اس نے کہا اپنی مرضی سے کچھ چائے پانی اگر چاہو تو مجھے دے دینا، ہماراآپس میں یہ معاہدہ شراکت کی بناء پر ہوا ہےاورشق نمبر2 میں دیا جانے والا پانچ لاکھ روپیہ سرمایہ میں شمار نہیں ہو گا، اسی طرح شق نمبر5میں قانونی سپورٹ وغیرہ میں اگر فریقِ دوم کی طرف سے کوئی رقم خرچ کی جاتی ہے تو یہ بھی کسی شمار میں نہ ہو گی، بلکہ یہ تمام رقم شراکت داری کی بنیاد پر محض تعاون سمجھا جائے گا۔شق نمبر3کی وضاحت یہ ہے کہ ہمارے پاس کل دو سو پلاٹ ہیں، ان تمام پلاٹوں کے حساب سے فی پلاٹ تیس ہزار روپے فریقِ دوم کو دینا ہوں گے، پلاٹوں کے الائٹی کم آئیں یا زیادہ۔
شق نمبر6میں نقصان بھی داخل ہے، یعنی اگر فریقِ اول کو کسی وجہ سے نقصان ہو گیا اور وہ ڈیویلپمنٹ کا کام نہ کر سکا تو فریق دوم کواس کی بیس لاکھ روپے پر مشتمل مکمل رقم واپس کی جائے گی، فریقِ دوم کسی قسم کے نقصان کا ذمہ دار نہیں ہو گا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق یہ معاہدہ درج ذیل وجوہ کی بناء پر جائز نہیں:
معلومات کے مطابق نئی سوسائٹی میں ترقیاتی کام عام طور پر سوسائٹی کا مالک کرواتا ہے اور وہ پلاٹوں کے مالکان سے اس کے چارجز وصول کرتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں مالک کا آپ دونوں کو ترقیاتی کام کا ٹھیکہ دینا درحقیقت استصناع (کیونکہ اس میں فریقین کی محنت کے ساتھ ساتھ بجلی، گیس اور پانی کی لائن بچھانے، سڑکیں بنوانے اورسیورج لائن بچھانے وغیرہ پر اچھی خاصی رقم خرچ ہو گی) کا معاملہ کرنا ہے، جس کی قیمت فی پلاٹ ایک لاکھ روپیہ مالکان سے لینا طے کی گئی،جبکہ اس کو الائٹی سے وصول کرنے پر چھوڑنا اور مالک کو بری قرار دینا جائز نہیں، کیونکہ شرعی اعتبار سے چیز (مصنوع یعنی تیار کی گئی چیز)کی قیمت کی ادائیگی خریدار کے ذمہ ہی واجب ہوتی ہے۔ اس کے بعد آپ دونوں کا آپس میں ترقیاتی کام کا یوں معاہدہ کرنا کہ ایک فریق پیسہ لگائے گا اور دوسرا کام کرے گا تویہ بھی مذکورہ تفصیل کے ساتھ شرکت کی کسی صورت کے تحت داخل نہیں ہے، لہذا درج ذیل قرائن کی روشنی میں فریقین کے درمیان یہ معاہدہ خلافِ شرع اور ناجائز ہے:
- فریقِ دوم کا بیس لاکھ روپیہ دے کر یہ طے کرنا کہ اس کو ہر پلاٹ پر تیس ہزار روپیہ بہرصورت دیا جائے گا، خواہ الائٹی حضرات کم آئیں یا زیادہ، یہ جائز نہیں، کیونکہ الائٹی نہ آنے کی صورت میں فریقِ اول کو نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
- شق نمبر2اورنمبر5میں فریق دوم کی طرف سے خرچ کیا جانے والا سرمایہ کسی کھاتے میں شمار نہ کرنے کی شرط بھی خلافِ شرع ہے، کیونکہ شرکت میں شرکاء کی طرف سے مشترکہ کاروبار میں لگائی جانے رقم قرض شمار ہوتی ہے یا شرکت کا راس المال یعنی سرمایہ، لہذا شرکت کی صورت میں اتنی بڑی رقم کو محض تعاون قراردیا جا سکتا۔
- مشترکہ کاروبار میں دونوں فریق نفع اور نقصان میں شریک ہوتے ہیں، لہذا نقصان کی صورت میں یہ شرط لگانا کہ فریقِ دوم بالکل نقصان برداشت نہیں کرے گا اور اس کو اس کا مکمل بیس لاکھ روپیہ واپس ادا کیا جائے گا، خلافِ شرع ہے۔
اس لیے مذکورہ بالا وجوہ کی بناء پر فریقین کے درمیان یہ معاملہ قرض مع الشرط کا معلوم ہوتا ہے اور قرض کی بنیاد پر کسی قسم کا نفع حاصل کرنا شرعاًجائز نہیں، لہذا اس معاملےکو ختم کرنا ضروری ہے، اس کی جائز صورت یہ ہے کہ سرمایہ لگانے والا فریق سوسائٹی کے مالک سے ترقیاتی کام کروانے کا ٹھیکہ لے اوراس کی مکمل قیمت بھی سوسائٹی کےمالک سے لینا طے کرے، اگرچہ وہ اس کے چارجز الائٹی حضرات سے وصول کرکے دے، کام کا ٹھیکہ لینے والے شخص پراس کی وصولی کی ذمہ داری ڈالنا جائز نہیں، اس کے بعد یہ شخص کام کرنے والے فریق کو اجارہ پر لے لے اور اس کی مکمل اجرت لم سم صورت میں یا فی پلاٹ کے حساب سے متعین کر دی جائے تو یہ معاملہ جائز ہے، البتہ اس صورت میں کام کرنے والوں کو اپنے کام کی اجرت بہرصورت ملے گی، خواہ الائٹی کم آئیں یا زیادہ۔ الائٹی حضرات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہو گا۔
حوالہ جات
مجلة الأحكام العدلية (ص: 75) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:
(المادة 388) إذا قال شخص لأحد من أهل الصنائع: اصنع لي الشيء الفلاني بكذا قرشا وقبل الصانع ذلك انعقد البيع استصناعا. مثلاً: لو أرى المشتري رجله لخفاف وقال له اصنع لي زوجي خف من نوع السختيان الفلاني بكذا قرشا وقبل البائع , أو تقاول مع نجار على أن يصنع له زورقا , أو سفينة وبين له طولها وعرضها وأوصافها اللازمة وقبل النجار انعقد
الاستصناع. كذلك لو تقاول مع صاحب معمل أن يصنع له كذا بندقية , كل واحدة بكذا قرشا وبين الطول والحجم وسائر أوصافها اللازمة وقبل صاحب المعمل انعقد الاستصناع.
تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (4/ 158) المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:
الثمن دين صحيح مضمون على المشتري والمغصوب والمقبوض على سوم الشراء، والمبيع في البيع الفاسد مضمون عليه حتى إذا هلكت عنده يجب الضمان عليه.
مجلة الأحكام العدلية (ص: 79) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:
(المادة 405) الإجارة في اللغة بمعنى الأجرة وقد استعملت في معنى الإيجار أيضا وفي اصطلاح الفقهاء بمعنى بيع المنفعة المعلومة في مقابلة عوض معلوم.
فقه البيوع للشيخ محمد تقي العثماني(ج:1ص:603) مكتبة معارف القرآن كراتشي:
وإما إذا كانت معظم المواد أو الجوهرية منها من قبل المقاول، فالظاهر أنه استصناع.
فقه البيوع للشيخ محمد تقي العثماني(ج:1ص:606) مكتبة معارف القرآن كراتشي:
الحكومة تفوض بناء مشاريع الشوارع العامة، أو الجسور، أو غيرها من مشاريع البنية التحتية إلى جهة مختصة تلتزم إنجاز المشروع في مدة معلومة، وتمنحها الحكومة حقّ تشغيل هذه الشوارع، أو الجسور، إلى مدة معينة، والحصول على ما يُدر من دخل بتقاضي الرسوم عن العامة الذين يستخدمونها بالمرور عليها. وبعد انقضاء تلك المدة، يُسلم المشروع إلى الحكومة. وتكييفه الفقهي أنه استصناع من قبل الحكومة، وثمنه منفعة المشروع نفسه إلى مدة متفق عليها بين الطرفين.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
8/ذوالقعدة1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


