03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پلاٹ خریدنےکےبعدمسجد بنانےکی نیت  کی بعدمیں مسجد کی نیت ختم ہوگئی تو کیااس جگہ کی مزید خریدوفروخت کی جاسکتی ہے؟
90468وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

ایک بندے نے دو پلاٹوں کی زمین دوسرے بندے کو بیچی، جس نے خریدی اس نے کہا کہ میں گھر کے لیے خرید رہا ہوں یعنی گھر تعمیر کرنے کے لیے ، بعد میں جب کمروں کی دیواریں وغیرہ کھڑی ہو گئی تو اس نے کہا میں اس کو مسجد بنانا چاہتا ہوں یعنی خریدتے وقت انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہم مسجد تعمیر کریں گے،اس وقت  انہوں نے گھربنانے کا کہا تھا لیکن بعد میں انہوں نے مسجد بنانے کا ارادہ کر لیا ،جو مسجد تعمیر کرنا چاہتے تھے وہ بریلویوں کی تھی،اس کے سامنے دیو بندیوں کا ایک مدرسہ تھا تو دیو بندیوں نے علاقے والوں کو بلا کر اس مسجد کا کام تعمیر کرنے سے روک دیا،انہوں نے کہا کہ یہاں ہم اس مدرسے کے سامنے یہ مسجدبننے نہیں دیں گے،پھرعلاقےکےذمہ دار حضرات نے وہاں آکر ان کو منع کیا اور جو دیوار وغیرہ کھڑی کی تھی وہ گرادی  اورفیصلہ کرکے ان حضرات کو (جنہوں نے مسجد تعمیر کرنی تھی) دوسری جگہ پر زمین خرید کر دی کہ یہاں پر آپ اپنے لیے مسجد بنائیں  یا گھر بنائیں جو دل کرے ،بریلوی مسلک کے حضرات نے وہ  جگہ قبول کر لی اور جن ذمہ داروں اور علاقے والوں نے اس تعمیر کو گرایا اور دوسری زمین لے کر دی انہوں نے وہ زمین اس پہلے والے بندے کو واپس کر دی ،اس نے دوبارہ اس زمین کو خرید لیا اور جس قیمت پر زمین کی بات ہوئی وہ پیسے اس نے دے دیے، جس نے زمین بیچی تھی دوبارہ اس کی زمین اس کو واپس مل گئی یعنی اس نے واپس خرید لی ۔

مذکورہ بالا تفصیل کےتحت سوال یہ ہےکہ  مذکورہ  زمین پر مسجد بنانے کی نیت کی تھی، لیکن مسجدبنی نہیں اور نہ ہی اس کے اندر کوئی باجماعت نماز ادا کی گئی تھی   توکیاایسی زمین کی دوبارہ خریدوفروخت شرعاہوسکتی ہے؟اس حوالے سے راہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں مذکورہ جگہ کےبارےمیں چونکہ خریدنےوالےنےبعدمیں صرف نیت کی تھی کہ  مسجد بناونگا،باقاعدہ مسجد کےلیےجگہ وقف نہیں کی گئی اور نیت کےبعد مسجد بناکر باقاعدہ باجماعت نماز بھی اداء نہیں  کی گئی ، لہذا مذکورہ جگہ مسجد نہیں بنی، اس کی خریدوفروخت شرعادرست ہوگی۔

حوالہ جات

"الدر المختار للحصفكي "4 / 538:

 (والملك يزول) عن الموقوف بأربعة بإفراز مسجد كما سيجئ و (بقضاء القاضي)۔۔۔۔۔ و( الْمُوَلَّى مِنْ قِبَلِ السُّلْطَانِ ) ۔۔۔۔۔۔( أو بالموت إذا علق به ) أي بموته كإذا مت فقد وقفت داري على كذا

"الدر المختار للحصفكي" 4 / 542:

 (أو بقوله وقفتها في حياتي وبعد وفاتي مؤبدا)

"الفتاوى الهندية" 19 / 204:

رجل له ساحة لا بناء فيها أمر قوما أن يصلون فيها بجماعة فهذا على ثلاثة أوجه : أحدها إما أن أمرهم بالصلاة فيها أبدا نصا ، بأن قال : صلوا فيها أبدا .

أو أمرهم بالصلاة مطلقا ونوى الأبد .

ففي هذين الوجهين صارت الساحة مسجدا لو مات لا يورث عنه ، وإما أن وقت الأمر باليوم أو الشهر أو السنة ۔

ففي هذا الوجه لا تصير الساحة مسجدا لو مات يورث عنه ، كذا في الذخيرة وهكذا في فتاوى قاضي خان ۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

27/ذیقعدہ1447ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب