| 90268 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
ایک شخص نے اپنی زمین کا ایک حصہ مسجد کے لئے وقف کرکے ایک قاری صاحب کو اس کا متولی بنا دیا ، اس دوران قاری صاحب نے اپنے تعلقات سے مسجد کی چار دیواری تک تعمیر کرلی ، چونکہ وہاں کوئی آبادی نہیں تھی اس لیے اذان اور نماز کا کوئی سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا، اسی دوران واقف نے مسجد کے ارد گرد کی ساری زمین مسیحی کمیونٹی کو بیچ دی، انہوں نے پلاٹنگ کرکے اسے مسیحی سوسائٹی کے لئے خاص کردیا اور سستے داموں مسیحیوں کو بیچنا شروع کردیا ، اب مسیحی کے علاوہ کسی کو پلاٹ نہیں ملتا ، سوسائٹی انتظامیہ نے قاری صاحب سے کہا کہ ہم آپ کو مسجد اور جس قدر تعمیر ہے اس کا خرچ آپ کو دیتے ہیں اورآپ کسی اور جگہ مسجد بنا لو، کیونکہ یہاں کوئی مسلمان رہائش پذیر نہیں ہوگا ، واقف بھی قاری صاحب کو یہی مشورہ دے رہا ہے ،قاری صاحب بھی پریشان ہے کیونکہ ارد گر دمسیحیوں کے گھر بننا شروع ہوگئے ہیں، ظاہری صورت میں مسجد کے آباد ہونے کی کوئی توقع نہیں ہے ، مذہبی حساسیت کی وجہ سے لڑائی جھگڑے کا بھی اندیشہ ہے ۔اب شریعت کی رو سے ہم یہ جگہ مسیحیوں کو بیچ کر اس کے متبادل دوسری جگہ مسجد کے لئے خرید سکتے ہیں یا نہیں؟ برائے مہربانی ہماری رہنمائی فرمائیں۔
وضاحت: سائل نے بتایا کہ لوگوں سے چندہ اکٹھا کر کے مسجد کا ڈھانچا کھڑا کیا تھا، اسی دوران واقف نے اردگرد کی زمین ایک عیسائی کو بیچ دی اور اس نے آگے اپنے مذہب کے لوگوں کو بیچنا شروع کر دی، جس میں وہ کامیاب ہو گیا، صرف ایک گھر مسلمانوں کا ہے، ان کے بقول ابھی پانچ چھ گھر مسجد کے سامنے بننے والے ہیں، یہ یاد رہے کہ مسجد میں ابھی تک اذان اور نماز نہیں پڑھی گئی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
امام ابویوسف رحمہ اللہ کے نزدیک صرف زبانی طور پر جگہ مسجد کے لیے وقف کرنے سے وقف مکمل اور تام ہوجاتا ہے اور فقہائے کرام رحمہم اللہ نے انہی کے قول پر فتوی کی تصریح کی ہے، امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کے مکمل ہونے کے لیے متولی کے سپرد کرنا یا عوام میں سے کسی فرد کا وہاں نماز پڑھنا ضروری ہے، اگر ان میں سے کوئی ایک فعل بھی پایا جائے تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھی وقف مکمل ہوجاتا ہے، کیونکہ ان کے نزدیک وقف دراصل صدقہ اور زکوة کی طرح ہے، جس کے لیے قبضہ کا ہونا ضروری ہے اور قبضہ کی مذکورہ بالا دونوں صورتیں ہو سکتی ہیں اور صورتِ مسئولہ میں زمین وقف کر کے متولی کے سپرد کر دی گئی ہےاور متولی نے باقاعدہ وہاں مسجد کے ہال کا ڈھانچہ بھی کھڑا کر دیا ہے، اس لیے حضراتِ صاحبین رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جگہ مسجد کے لیے مکمل طور پر وقف ہو چکی ہے اور مسجد کے لیے وقف جگہ کو شرعاً تبدیل نہیں کیا جا سکتا، لہذا اب اس جگہ مسجد ہی بنےگی، متولی اور دیگر اہلِ علاقہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسجد کو آباد کرنے کی بھرپور کوشش کریں، ابھی تک یہ جگہ آباد نہیں ہوئی، بلکہ زیادہ تر جگہ پلاٹوں کی شکل میں ہے، اس لیے بعض مسلمانوں کو ترغیب دے کر عیسائی شخص سے وہ پلاٹ خریدنے کی کوشش کی جائے اور ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے اس مسجد کی آبادی کی خوب دعا بھی مانگی جائے جائے تو ان شاء اللہ تعالیٰ یہ مسجد مسلمانوں سے آباد ہو جائے گی۔
حوالہ جات
الاختيار لتعليل المختار (3/ 41) دار الكتب العلمية – بيروت:
عند محمد لصحة الوقف أربعة شرائط: التسليم إلى المتولي، وأن يكون مفرزا، وألا يشترط لنفسه شيئا من منافع الوقف، وأن يكون مؤبدا بأن يجعل آخره للفقراء.
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 16) دار احياء التراث العربي – بيروت:
وعند محمد لا بد من التسليم إلى المتولي لأنه حق الله تعالى، وإنما يثبت فيه في ضمن التسليم إلى العبد لأن التمليك من الله تعالى وهو مالك الأشياء لا يتحقق مقصودا، وقد يكون تبعا لغيره فيأخذ حكمه فينزل منزلة الزكاة والصدقة.
تحفة الفقهاء (3/ 377) دار الكتب العلمية، بيروت:
اختلف أبو يوسف ومحمد فيما بينهما قال محمد إنما يجوز بأربع شرائط:
أحدها أن يخرجه من يده ويسلمه إلى المتولي حتى يتصرف فيه فيصرف أولا إلى مصالح الوقف ويصرف الباقي إلى المستحقين.
والثاني أن يكون في المفروز دون المشاع.
والثالث أن لا يشترط لنفسه شيئا من منافع الوقف.
والرابع أن يكون مؤبدا بأن يجعل آخره إلى فقراء المسلمين.
وعلى قول أبي يوسف لا يشترط شيء من هذه الأشياء.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 357) الناشر: دار الفكر-بيروت:
قال في النهر: وإذ قد عرفت أن الصلاة فيه أقيمت مقام التسليم، علمت أنه بالتسليم إلى المتولي يكون مسجدا دونها: أي دون الصلاة، وهذا هو الأصح كما في الزيلعي وغيره وفي الفتح وهو الأوجه لأن بالتسليم إليه يحصل تمام التسليم إليه تعالى، وكذا لو سلمه إلى القاضي أو نائبه كما في الإسعاف وقيل لا واختاره السرخسي. اهـ.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 338) دار الفكر،بيروت:
ولا يلزم إلا بأحد أمرين: إما أن يحكم به القاضي أو يخرجه مخرج الوصية. وعندهما يلزم بدون ذلك، وهو قول عامة العلماء، وهو الصحيح. ثم إن أبا يوسف يقول يصير وقفا بمجرد القول لأنه بمنزلة الإعتاق عنده، وعليه الفتوى.
تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (3/ 329) المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:
(ومن بنى مسجدا لم يزل ملكه عنه حتى يفرزه عن ملكه بطريقه ويأذن بالصلاة فيه وإذا صلى فيه واحد زال ملكه) وهذا عند أبي حنيفة ومحمد أما الإفراز فلأنه لا يخلص لله إلا به لأنه ما دام حق العبد متعلقا به لم يتحرر لله وأما الصلاة فيه فلأنه يشترط التسليم عند أبي حنيفة ومحمد فإذا تعذر يقام تحقق المقصود مقامه أو يشترط فيه تسليم نوعه وذلك في المسجد بالصلاة فيه ولا يشترط فيه قضاء القاضي ولا التعليق بالموت عند أبي حنيفة لحصول المقصود به .
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 268) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:
{فصل} لما اختص المسجد بأحكام تخالف أحكام مطلق الوقف أفرده بفصل على حدة وأخره قوله (ومن بنى مسجدا لم يزل ملكه حتى يفرزه عن ملكه بطريقه ويأذن بالصلاة فيه وإذا صلى فيه واحد زال ملكه) أما الإفراز فإنه لا يخلص لله تعالى إلا به وأما الصلاة فيه فلأنه لا بد من التسليم عند أبي حنيفة ومحمد فيشترط تسليم نوعه وذلك في المسجد بالصلاة فيه أو لأنه لما تعذر القبض يقام تحقق المقصود مقامه ثم يكتفى بصلاة الواحد لأن فعل الجنس يتعذر فيشترط أدناه وعن محمد تشترط الصلاة بالجماعة لأن المسجد مبني لذلك في الغالب وصححها الزيلعي تبعا لما في الخانية لأن قبض كل شيء وتسليمه يكون بحسب ما يليق به وذلك في المسجد بأداء الصلاة بالجماعة أما الواحد يصلي في كل مكان.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
15/ذوالقعده1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


