| 90203 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
میں نے غصہ میں آکر اپنی بیوی کے ماموں کوبذریعہ کال بتایا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین دفعہ طلاق دے دی ہے۔لہٰذا آکر اپنا سامان لے جاؤ۔ اب میں بہت پریشان ہوں ۔
مہربانی فرماکرقرآن کے مطابق اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکرکردہ تفصیل کی روشنی میں آپ کی بیوی کو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ۔ آپ کا ازدواجی رشتہ ختم ہوچکاہے ، اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی فی الحال دوبارہ نکاح سے یہ رشتہ بحال ہوسکتا ہے ۔
نیز یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ اگر بالفرض آپ نے طلاق دینے کے بارے میں حقیقت کے خلاف (یعنی جھوٹا) اظہار کیا ہو، تب بھی چونکہ آپ نے صراحت کے ساتھ تین طلاقوں کا اقرار کیا ہے، اس لیے شرعاً اسی کا اعتبار ہوگا اور تین طلاقیں ہی سمجھی جائیں گی۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 248):
(قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق. اهـ.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 236):
ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة.
یاسر علی گل بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
11/ذیقعدہ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | یاسر علی بن گل بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


