| 90450 | زکوة کابیان | عشر اور خراج کے احکام |
سوال
ہمارے علاقے ملاکنڈ، درگئی کے تین چار گاؤں میں حکومت کی طرف سے ایک نہر بہہ رہی ہے۔ حکومت نے اس نہر کا پانی زمین والوں کو دیا اور پہلے تین چار سال تک اس کا ٹیکس (مالیہ) وصول کیا، لیکن اب تقریباً دو سال سے یہ ٹیکس نہیں لیا جا رہا۔ ایریگیشن والوں سے رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ کسی وجہ سے حکومت نے مالیہ کی وصولی روک دی ہے، لیکن امکان ہے کہ آئندہ تین چار یا پانچ سال بعد دوبارہ وصول کرے۔ ایسی زمینوں پر عشر واجب ہوگا یا نصف عشر؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جو زمین بارش، دریا یا قدرتی چشموں کے پانی سے خود بخود (بغیر کسی خرچ کے) سیراب ہوتی ہو، اس کی پیداوار پر "عشر" (یعنی دسواں حصہ) لازم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، جس زمین کو اپنی محنت یا خرچ کے ذریعے سیراب کرنا پڑتا ہو (جیسے خریدا گیا پانی)، اس کی پیداوار پر "نصف عشر" (یعنی بیسواں حصہ) لازم ہوتا ہے۔
آبیانے والی نہروں سے جو زمینیں سیراب ہوتی ہیں، اصولی طور پر وہ بھی دوسری قسم (نصف عشر) میں داخل ہیں؛ چنانچہ ان کی پیداوار میں نصف عشر ہی لازم ہوگا۔ تاہم، اگر حکومت کسی بھی وجہ سے چند سال آبیانہ وصول نہ کرے، تو ان سالوں میں وہ پانی "بغیر خرچ" کے شمار ہوگا اور پورا عشر لازم ہوگا؛ اس لیے کہ پانی کے خرچ کا مطلب یہ ہے کہ جہاں ہر فصل کے لیے پانی کا لازمی خرچہ ہوتا ہو وہاں نصف عشر ہے، اور جہاں پانی کا لازمی خرچہ نہ ہو بلکہ کبھی کبھار پانی کے نظام کا کوئی خرچہ ہو، وہاں عشر واجب ہوتا ہے۔
لہٰذا، صورتِ مسئولہ میں حکومت نے جتنے سال آبیانہ وصول نہیں کیا، وہ پانی بغیر خرچ کے شمار ہوگا اور ان سالوں کی پیداوار میں پورا عشر واجب ہوگا۔
حوالہ جات
رد المحتار (حاشية ابن عابدين) - ط الحلبي (2/ 328): «
(و) تجب في (مسقي سماء) أي مطر (وسيح) كنهر (بلا شرط نصاب) راجع للكل (و) بلا شرط (بقاء) وحولان حول لأن فيه معنى المؤنة ولذا كان للإمام أخذه جبرا ويؤخذ من التركة ويجب مع الدين وفي أرض صغير ومجنون ومكاتب ومأذون ووقف وتسميته زكاة مجاز (إلا فيهما) لا يقصد به استغلال الأرض... (و) يجب (نصفه في مسقي غرب) أي دلو كبير (ودالية) أي دولاب لكثرة المؤنة.
الفتاوى الهندية (ج۲ ص۱۸۶): «
ثم ماء العشر ماء البئر حفرت فی ارض العشر وماء العین التی تظھر فی ارض العشر.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 62): «
وأما بيان مقدار الواجب فالكلام في هذا الفصل في موضعين... أما الأول فما سقي بماء السماء، أو سقي سيحا ففيه عشر كامل، وما سقي بغرب، أو دالية، أو سانية ففيه نصف العشر، والأصل فيه ما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال «ما سقته السماء ففيه العشر وما سقي بغرب، أو دالية، أو سانية ففيه نصف العشر»... ولأن العشر وجب مؤنة الأرض فيختلف الواجب بقلة المؤنة وكثرتها.
المحيط البرهاني (2/ 327): «
وما سقته السماء، أو سقي سيحاً، ففيه العشر، وما سقي بقرب أو دالية أو ساقية، ففيه نصف العشر به ورد الأثر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، والمعنى في التفاوت اختلاف قدر المؤنة وكثرتها.
النهاية في شرح الهداية - السغناقي (5/ 55): «
الْعُشْرِ إنْ سُقِى سَيحًا، وِنصف الْعُشْرِ إنْ سُقِى بغربٍ أو دالية... أي يجب نصف العشر فيما سقي بغرب أو دالية وهو معطوف على الضمير الذي في يجب وجاز ذلك لوقوع الفصل وإنما يجب فيه نصف العشر لما روينا ولأن المؤنة تكثر فيه وتقل فيما سقي سيحا أو سقته السماء.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1/ 293): «
ورد الأثر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ما سقته السماء ففيه العشر وما سقي بغرب، أو دالية ففيه نصف العشر» وفي رواية «ما سقي بعلا، أو سيحا ففيه العشر وما سقي بالرشاء ففيه نصف العشر» وعلل بعض مشايخنا بقلة المؤنة فيما سقته السماء وكثرة المؤنة فيما سقي بغرب، أو دالية وقالوا لكثرة المؤنة تأثير في نقصان الواجب.
المجموع شرح المهذب (ج5 ص 442-446): «
وأما القنوات والسواقي المحفورة من نهر عظيم التي تكثر مؤنتها ففيها العشر كاملاً، هذا هو الصحيح المشهور المقطوع به في كتب العراقيين والخراسانيين... وعلله الأصحاب بأن مؤنة القنوات إنما تشق لإصلاح الضيعة، وكذا الأنهار إنما تشق لإحياء الأرض، وإذا تهيأت وصل الماء إلى الزرع بنفسه مرة بعد أخرى بخلاف النواضح ونحوها، فإن المؤنة فيها لنفس الزرع.
محمدسعید خان آفریدی
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
29/ذی القعدہ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعید خان آفریدی بن معین خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


