03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وراثت میں تخارج، دھوکہ دہی اور ورثاء کے حقوق
90155میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 میرے نانا کی ملکیت میں ایک گھر اور زرعی زمینیں تھیں، اُن کا انتقال غالباً 1975 میں ہوا، اس کے کچھ سال بعد نانی کا بھی انتقال ہو گیا۔ نانا کا مکان تقریباً 5 کنال اور 10 مرلے سے زائد رقبہ پر محیط تھا جس میں گھر سے باہر کی خالی غیر آباد زمین بھی شامل تھی۔ گھر پر 3 بھائیوں کا تنازعہ سول کورٹ کوہاٹ میں چل رہا تھا۔ 4 بہنوں نے بھائیوں کا تنازعہ ختم کرانے کی کوشش کی۔

دو بھائیوں نے کہا کہ پہلے گھر کی تقسیم ہوگی تو پھر ساری زمینوں کی تقسیم ہوگی۔ 3 بہنوں نے گھر کا معاملہ حل کرنے، وراثت کی تقسیم کے لیے اور بھائیوں میں تنازعہ ختم کرنے کے لیے زبانی اور تحریری طور پر اپنے حصوں سے بھائیوں کے حق میں دستبرداری کی، جیسا کہ ہمارے علم میں آیا اس سے عدالت سے کیس ختم ہو گیا۔ لیکن 3 بھائیوں نے 4 بہنوں کی زمین حاصل کرنے کے بعد پھر باقی زمین کی تقسیم آج تک نہیں کی۔ 2 بھائی اور 3 بہنیں انتقال کر چکے ہیں، صرف 1 بہن اور 1 بھائی حیات ہیں۔

بھائیوں نے اس طرح 1 کنال 10 مرلے گھر کے مکان میں ہر ایک نے حصہ لے لیا۔ نانا کے گھر سے ان کو کچھ نہیں ملا البتہ نانی کے 10 مرلے حصے میں سے 4 بہنوں کو اڑھائی، اڑھائی مرلے حصہ ملا۔ جبکہ بہنوں کا تقریباً 10، 10 مرلہ حصہ بنتا تھا۔ درج بالا حالات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بھائیوں نے زرعی زمینوں کی تقسیم کا لالچ دے کر دھوکے سے نانا کے گھر کی زمین خود لے لی لیکن بہنوں کو اس سے بھی محروم کر دیا اور باقی وراثت میں بھی ان کو حق نہیں دیا۔ ان حالات میں ہماری رہنمائی کے لیے درج ذیل سوالات کے جوابات شریعت کی روشنی میں عنایت فرمائیں:

  1. کیا تینوں بھائی (ماموں) زمین کے ان حصوں کے مالک بن گئے جو انہوں نے دھوکہ دے کر، زرعی زمینوں کی تقسیم کا لالچ دے کر بہنوں سے لی تھی، چاہے زبانی طور پر دی ہو یا تحریری طور پر دی ہو؟
  2. کیا بہنوں کے انتقال کے بعد ان کی اولاد اُس زمین / ترکہ کے مالک بن گئے جو انہوں نے بھائیوں کے درمیان تنازعہ ختم کرانے اور زرعی زمینوں کی تقسیم کی خاطر ان کو زبانی یا تحریری طور پر دی تھی؟
  3. کیا مرحوم بہنوں کے ورثاء (اولاد) نانا کے گھر میں اپنی ماں کا شرعی حصہ لینے کے حق دار ہیں یا وہ حق ختم ہو چکا ہے؟
  4. کیا بہنوں کا بھائیوں کو اپنے گھر میں حصہ دینا شرعاً جائز تھا جو انہوں نے بھائیوں میں جھگڑا ختم کرانے اور زرعی زمینوں کی تقسیم کے دھوکے میں کیا تھا؟
  5. کیا زندگی میں دی گئی زمین / گھر موت کے بعد واپس لے سکتے ہیں؟
  6. تین بھائیوں اور چار بہنوں میں وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حقوق شریعت کا اصول یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان کا مال اس کی طیبِ خاطر (دلی خوشی) کے بغیر دوسرے کے لیے حلال نہیں ہوتا۔ حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے: "خبردار! ظلم نہ کرنا، کسی شخص کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر حلال نہیں" (مسند احمد)۔

وراثت میں کچھ لے کر دستبرداری (جسے فقہی اصطلاح میں 'تخارج' کہا جاتا ہے) اسی وقت معتبر ہوتی ہے جب وہ مکمل رضامندی، بغیر کسی دھوکے اور دباؤ کے ہو، اور جو چیز دینے کی شرط ہو (جیسے بقیہ زمین کو تقسیم کر کے ان کے حصے دینا) وہ پوری کی جائے۔ اگر وہ شرط پوری نہ کی جائے اور محض زبانی یا تحریری معافی کی بات کی جائے تو ایسی دستبرداری شرعاً باطل ہوتی ہے اور معتبر نہیں کہلاتی۔

ان اصولوں کی روشنی میں جوابات درج ذیل ہیں:

  1. بھائیوں کی ملکیت کی حیثیت: نہیں، بھائی اس زمین کے شرعاً مالک نہیں بنے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہنوں نے اپنے حصے سے دستبرداری اس بنیاد پر کی تھی کہ بقیہ زرعی زمین تقسیم کی جائے گی، جبکہ بھائیوں نے دھوکہ دے کر اس وعدے کی خلاف ورزی کی۔ لہٰذا، سچی دلی رضامندی نہ ہونے کی وجہ سے یہ دستبرداری شرعاً کالعدم ہے۔ بھائیوں کے پاس بہنوں کا یہ حصہ 'غصب شدہ' (ناحق قبضہ کیا ہوا) شمار ہوگا، جس کا حساب روزِ قیامت دینا ہوگا۔
  2. بہنوں کی اولاد کا حق: جی ہاں، بہنوں کے انتقال کے بعد ان کی اولاد اس حصے کی مالک بن گئی ہے۔ چونکہ دستبرداری شرعاً درست نہیں تھی، اس لیے بہنیں تاحیات اپنے شرعی حصے کی مالکہ رہیں۔ ان کے انتقال کے بعد یہ حق اور ملکیت خود بخود ان کے شرعی ورثاء (اولاد، شوہر وغیرہ) کی طرف منتقل ہو گئی ہے۔
  3. گھر میں وراثت کا حق: نہیں، بہنوں کے ورثاء کا نانا کے گھر میں حق ختم نہیں ہوا۔ شریعت میں وراثت کا حق کسی کے زبردستی قبضہ کرنے یا دھوکہ دینے سے ساقط نہیں ہوتا۔ مرحوم بہنوں کے ورثاء نانا کے گھر اور زرعی زمین، دونوں میں اپنی ماؤں کے شرعی حصے کا مطالبہ کرنے کے مکمل حق دار ہیں۔
  4. بہنوں کی نیت اور تخارج کی صحت: بہنوں کا ارادہ نیک تھا کہ تنازع ختم ہو اور خاندان میں صلح و صفائی قائم رہے۔ شرعاً صلح کی غرض سے کچھ لے کر اپنے حق سے دستبردار ہونا (تخارج) جائز اور باعثِ اجر ہے۔ لیکن چونکہ بھائیوں کی نیت میں فریب تھا، انہوں نے شرط پوری نہیں کی اور حقیقی رضا کاتحقق نہیں ہوا، لہٰذا یہ تخارج صحیح نہیں ہوا۔
  5. ہبہ (گفٹ) کی واپسی کا مسئلہ: عام حالات میں خونی رشتوں (ذی رحم محرم) کو دیا گیا خالص ہبہ واپس لینا جائز نہیں ہوتا۔ لیکن یہاں معاملہ محض ہبہ کا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک 'مشروط صلح' تھی۔ جب شرط (بقیہ زمین کی تقسیم) ہی پوری نہیں ہوئی، تو صلح نامہ خود بخود ختم ہو گیا۔ مزید یہ کہ دھوکے اور فریب سے لیا گیا مال 'ہبہ' نہیں بلکہ 'غصب' کہلاتا ہے۔ غصب شدہ مال موت سے پہلے بھی واپس لیا جا سکتا ہے اور موت کے بعد ورثاء بھی اس کی واپسی کا شرعی حق رکھتے ہیں۔
  6. تقسیمِ ترکہ کا طریقہ کار: حقوقِ متعلقہ بالترکہ (تجہیز و تکفین کے اخراجات، قرض کی ادائیگی اور ثلث مال تک وصیت کے نفاذ) کے بعد، اگر نانا اور نانی کے انتقال کے وقت صرف وہی ورثاء موجود تھے جو سوال میں مذکور ہیں، تو ترکہ اس طرح تقسیم ہوگا: ہر بیٹے کو 20 فیصد اور ہر بیٹی کو 10 فیصد حصہ دیا جائے گا۔

جو بہنیں یا بھائی انتقال کر چکے ہیں، ان کا مقررہ حصہ ان کے اپنے شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگا۔ بہتر ہے کہ خاندان کے تمام زندہ افراد اور مرحومین کے ورثاء بیٹھ کر اللہ کے خوف کو سامنے رکھتے ہوئے اس وراثت کو دیانتداری سے تقسیم کر لیں، تاکہ آخرت کی پکڑ سے بچا جا سکے۔

حوالہ جات

العقود الدریۃ في تنقيح الفتاوى الحامدیہ: (کتاب الدعوی، 26/2)

"(سئل) في أحد الورثة إذا أشهد عليه قبل قسمة التركة المشتملة على أعيان معلومة أنه ترك حقه من الإرث وأسقطه وأبرأ ذمة بقية الورثة منها ويريد الآن مطالبة حقه من الإرث فهل له ذلك؟
(الجواب) : ‌الإرث ‌جبري لا يسقط بالإسقاط وقد أفتى به العلامة الرملي كما هو محرر في فتاواه من الإقرار نقلا عن الفصولين وغيره فراجعه إن شئت."

شریفیه شرح سراجیه: (باب التصحیح، فصل في التخارج ص: 73، ط: قدیمی)

"فصل في التخارج و هو تفاعل من الخروج و المراد به ههنا أن يتصالح الورثة على اخراج بعضهم عن الميراث بشيئ معلوم من التركة ، و هو جائز عند التراضي."

الأشباہ و النظائر: (ما یقبل الاسقاط من الحقوق، ص: 309، ط: قدیمی)

"لَوْ قَالَ الْوَارِثُ: تَرَكْتُ حَقِّي لَمْ يَبْطُلْ حَقُّهُ؛ إذْ الْمِلْكُ لَا يَبْطُلُ بِالتَّرْك".

مشکوۃ المصابیح: (255/1، ط: سعید)

عن ابی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال: قال رسول اللہ ﷺ الا لا تظلموا الا لا یحل مال امرئ الا بطیب نفس منہ الخ

 قال في كنز الدقائق :

يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ...

(ص:696, المكتبة الشاملة)

:قال اللہ تعالی :

يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ...   [النساء/11]

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

09/11/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب