03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
صدقۂ فطر کے احکام (صدقۂ فطر کی علتِ وجوب کیا ہے؟)
90489زکوة کابیانصدقہ فطر کے احکام

سوال

محترم علماءِ کرام و مفتیانِ عظام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔درجِ ذیل مسئلے میں آپ حضرات کی رہنمائی مطلوب ہے:

ہمارے یہاں Mozambique میں صدقۂ فطر کے مصرف اور وقتِ ادائیگی کے حوالے سے علماءِ کرام کے درمیان دو طرح کے رجحانات پائے جاتے ہیں:

(1) پہلا موقف: بعض علماءِ کرام یہ فرماتے ہیں کہ صدقۂ فطر کا اصل مقصد فقراء کو عید کے دن خوش حال کرنا اور انہیں سوال سے بے نیاز کرنا ہے۔ اس کی دلیل میں یہ روایت پیش کی جاتی ہے:"أَغْنُوهُمْ فِي هَذَا الْيَوْمِ ـ يَعْنِي الْفُقَرَاءَ ـ عَنِ الْمَسْأَلَةِ"(الجامع الكبير للسيوطي: 1/723)اور ایک روایت میں ہے:"أَغْنُوهُمْ عَنْ طَوَافِ هَذَا الْيَوْمِ"( البيهقي: 7739).

(2) دوسرا موقف: بعض علماء کے نزدیک صدقۂ فطر کے مقاصد میں روزے کی تطہیر اور مساکین کے لیے طعام فراہم کرنا، دونوں شامل ہیں۔ اس کی دلیل میں یہ حدیث پیش کی جاتی ہے:

"فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ، وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ "(سنن أبي داود: 1609)

اور وقتِ ادائیگی کے حوالے سے یہ حدیث بھی پیش کی جاتی ہے:"وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ"(صحیح البخاری: 1503)

اب ہمارے یہاں مدارسِ دینیہ کا نظام عمومی طور پر زکوٰۃ، صدقۂ فطر اور قربانی کی کھالوں پر قائم ہے۔ صدقۂ فطر کی رقوم مستحق طلبہ پر خرچ کی جاتی ہیں، لیکن یہ خرچ عموماً عید کے دن یا اس سے پہلے نہیں ہوتا، بلکہ بعد میں (ماہِ شوال میں) تدریجاً کیا جاتا ہے۔ یہی مشاہدہ دوسرے موقف رکھنے والے علماءِ کرام نے دورانِ تعلیم Pakistan اور India وغیرہ کے مدارس میں بھی کیا۔

مزید یہ کہ صدقۂ فطر ادا کرنے والے لوگوں کے ذہن میں عموماً یہ ہوتا ہے کہ ان کی دی ہوئی رقم عید کے دن ہی مستحقین پر خرچ کی جائے گی۔

اب دریافت طلب امر یہ ہیں:صدقۂ فطر کی اصل علتِ وجوب کیا ہے؟ کیا اغنائے فقراء فی یوم العید کو اصل قرار دیا جائے، یا تطہیرِ صائم اور «طُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ» دونوں اس میں داخل ہیں؟براہِ کرم دلائلِ شرعیہ اور کتبِ معتبرہ کی روشنی میں مفصل اور مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حکم کا مدار علت پر ہوتا ہے، حکمت پر نہیں۔ تاہم حکمتوں کی رعایت رکھنا اولیٰ ہے اور اسی کی روشنی میں ادائیگی بہتر ہوتی ہے۔ صدقۂ فطر کی اصل علتِ وجوب عیدالفطر کے دن “رأس”، یعنی انسان کا وجود ہے۔ اسی لیے جو شخص صاحبِ نصاب ہو، اس پر عیدالفطر کے دن اپنی اور اپنے زیرِ کفالت افراد (نابالغ بچے، غلام وغیرہ) کا صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ علتِ وجوب انسان کا وجود اور اس کی ولایت و کفالت ہے۔

تاہم احادیث میں جو چیزیں وارد ہوئی ہیں، جیسے: اغنائے فقراء فی یوم العید، تطہیرِ صائم اور 'طُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ' وغیرہ، یہ امور صدقۂ فطر کی حکمتیں ہیں، علتِ شرعی نہیں ۔

لہٰذا اگر ان حکمتوں کا لحاظ رکھنا ممکن ہو، تو رکھنا چاہیے اور یہ بہتر بھی ہے، لیکن اگر کسی حاجت یا ضرورت کی وجہ سے ان حکمتوں کا خیال نہ رکھا جا سکے، تو بھی صدقۂ فطر کی ادائیگی درست ہو جائے گی۔ واللہ أعلم۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي (3/ 101)

ثم سبب وجوب صدقة الفطر رأس يمونه بولايته عليه قال: - صلى الله عليه وسلم - «أدوا عمن تمونون» وحرف عن للانتزاع من الشيء فيحتمل أحد وجهين: إما أن يكون سببا ينتزع منه الحكم أو محلا يجب عليه ثم يؤدي عنه، وبطل الثاني لاستحالة الوجوب على العبد والكافر فتعين الأول؛ ولأنه يتضاعف بتضاعف الرءوس فعلم أن السبب هو الرأس...ثم هي عبادة فيها معنى المؤنة ولهذا لا يشترط لوجوبه كمال الأهلية ومعنى المؤنة يرجح الرأس في كونه سببا على الوقت.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 358)

وفي تحرير النووي: هي اسم مولدولعلها من الفطرة التي هي الخلقة قال أبو محمد الأبهر معناها زكاة الخلقة كأنها زكاة البدن. اهـ.

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 140)

والسبب موجود إذ هو الرأس (بشرط دخول رمضان في الاول) أي مسألة التقديم (هو الصحيح) وبه يفتى.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1/ 311)

(وصح لو قدم أو أخر) أي جاز أداء صدقة الفطر إذا قدمه على وقت الوجوب وهو يوم الفطر أو أخره عنه.

أما جواز التقديم فلأن سبب الوجوب قد وجد وهو رأس يمونه ويلي عليه فصار كأداء الزكاة بعد وجود النصاب ولا تفصيل فيه بين مدة ومدة في الصحيح.

محمد شاہ جلال

دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

03/ذی الحجہ/1447ھ   

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب