03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مناسخه (پردادا اور ان کی اولاد کی جائیداد کی تقسیم)
90473میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

ہمارے پردادا کی ایک جائیداد ہے جو ابھی تک تقسیم یا فروخت نہیں ہوئی۔ پردادا کے دو بیٹے تھے (1- خواجہ محمد یوسف۔ 2- لاولد)، اب پردادا اور ان کے دونوں بیٹے وفات پا چکے ہیں۔ وارثین کی تفصیل درج ذیل ہے:

 1. بیٹے اول (خواجہ محمد یوسف) کے 2 بیٹے (1- اخلاق۔ 2- اشتیاق) اور 6 بیٹیاں (1:حمیدہ۔ 2: راحلہ۔ 3: عزیزہ۔ 4:قمرالنسا۔ 5: ثریا۔ 6: جمیلہ) تھیں۔ اب یہ سب وفات پا چکے ہیں۔ ان سب کی اپنی اولاد موجود ہے۔

 2. بیٹے دوئم (لاولد) کی کوئی اولاد نہیں تھی، وہ لاولد فوت ہوئے ہیں، انتقال کے وقت بیوی زندہ تھی۔

3. پھوپھیوں (خواجہ محمد یوسف کے 6 بیٹیوں) میں سے کچھ اپنے شوہروں کی زندگی میں وفات پا گئیں۔ کچھ کے شوہر پہلے فوت ہوئے۔ ایک پھوپھی لاولد (بے اولاد) فوت ہوئی ہیں۔ دو پھوپھیاں ایسی ہیں جن کی صرف بیٹیاں ہیں (بیٹا کوئی نہیں)۔

 سوالات:

  1. پردادا کی جائیداد میں سے لاولد چچا (بیٹے دوم) کا حصہ کن وارثین میں تقسیم ہوگا؟
  2. جن پھوپھیوں کا انتقال ان کے شوہروں کی زندگی میں ہوا، کیا ان کے شوہروں کا اس جائیداد میں حصہ بنتا ہے؟
  3. جو پھوپھی بے اولاد فوت ہوئی ہیں، ان کا حصہ کن رشتہ داروں میں تقسیم ہوگا؟
  4. جن پھوپھیوں کی صرف بیٹیاں ہیں، کیا ان کی ماؤں کا پورا حصہ ان کی بیٹیوں کو ملے گا یا ان کے بھائیوں (ہمارے والد/چچا) کا بھی اس میں حصہ ہے؟

 براہِ کرم ایک شرعی نقشہ بنا دیں تاکہ ہر وارث کا صحیح حصہ نکالا جا سکے۔

تنقیح:

  1. خواجہ محمد یوسف کے لاولد بھائی کے انتقال کے وقت ان کے والدین (والدہ اور والد) میں سے کوئی بھی زندہ نہیں تھا۔ بوقتِ وفات ان کے ورثاء میں صرف ان کی ایک بیوہ اور ایک بھائی (خواجہ محمد یوسف) موجود تھے۔
  2. خواجہ محمد یوسف صاحب کے انتقال کے وقت بھی ان کے والدین میں سے کوئی حیات نہیں تھا۔ ان کے ورثہ میں ان کی بیوہ اور اولاد موجود تھی۔
  3.  خواجہ محمد یوسف صاحب کی تمام اولاد کا انتقال ان کے والد کی وفات کے بعد ہوا ہے۔ وفات کی ترتیب اور پسماندگان کی تفصیل یہ ہے:
  • حمیدہ: شوہر پہلے فوت ہو چکے تھے،ورثہ میں 3 بیٹے (عارف، ناصر ، عامر) اور 2 بیٹیاں (روبینہ ، عمرانہ) شامل تھیں۔
  • راحیلہ: انتقال شوہر کی زندگی میں ہوا۔ ورثہ میں شوہر (شوکت)، 2 بیٹے (عاطف، عاقف) اور 1 بیٹی (نجیبہ) شامل تھے۔
  • اخلاق (چچا): ورثہ میں بیوہ، 3 بیٹے (فرقان، کامران، ذیشان) اور 2 بیٹیاں (صدف، سدرہ) شامل تھے۔
  • عزیزہ: انتقال شوہر کی زندگی میں ہوا، یہ لاولد (بے اولاد) فوت ہوئیں۔
  • قمر النساء: شوہر پہلے فوت ہو چکے تھے، ورثہ میں صرف 2 بیٹیاں (نیلوفر، سادیہ) شامل تھیں۔
  • اشتیاق (والد): اہلیہ پہلے فوت ہو چکی تھیں، ورثہ میں 3 بیٹے (توصیف، توقیر،جواد) اور 3 بیٹیاں (ثمرین، نفدین، قرۃالعین) شامل تھیں۔
  • ثریا: شوہر پہلے فوت ہو چکے تھے، ورثہ میں 1 بیٹا (عمران) اور 4 بیٹیاں (شائستہ، نئیر، رومانہ،سائمہ) شامل تھیں۔
  • جمیلہ: شوہر پہلے فوت ہو چکے تھے، ورثاء میں صرف 1 بیٹی (عنبرین) شامل تھی۔
  1. پھوپھیوں میں سے راحیلہ اور عزیزہ کا انتقال اپنے شوہر کی زندگی میں ہوا، جبکہ باقی تمام پھوپھیوں کے انتقال کے وقت ان کے شوہر پہلے فوت ہو چکے تھے۔ مذکورہ بالا تمام اولاد سگی ہے۔

موجودہ صورتحال:اس وقت تمام پھوپھیاں، چچا (اخلاق صاحب)، والد صاحب (اشتیاق صاحب) اور ان سب کے شریک حیات (شوہر/بیویاں) وفات پا چکے ہیں۔ ان سب کی اولادیں (جہاں اولاد تھی) اس وقت موجود ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پردادا کے جائیداد میں سے لاولد بیٹے کا حصہ ان کی زوجہ اور ان کے بھائی محمد یوسف کے درمیان تقسیم ہوگا۔ اب چونکہ محمد یوسف اور ان کی تمام اولاد کا انتقال ہوچکا ہے، اس لیے لاولد سے حاصل ہونے والا حصہ اب محمد یوسف پوتوں اور پوتیوں (اولاد کی اولاد) میں تقسیم ہوگا۔

  1. جن پھوپھیوں کا انتقال ان کے شوہروں کے زندگی میں ہوا ہے، ان کے شوہروں کا مرحومہ کے جائیداد میں حصہ بنتا ہے۔
  2. جو پھوپھیاں بے اولاد فوت ہوئی ہیں ان کا حصہ ان کے شوہر اور ان کے انتقال کے وقت زندہ رہنے والے بہن بھائیوں میں تقسیم ہوگا۔
  3. جن پھوپھیوں کی صرف بیٹیاں ہیں ان کی میراث کا دو تہائی حصہ ان کی بیٹیوں کو ملے گا اور باقی ایک تہائی حسب قاعدہ شریعت  مرحومہ کے بھائیوں میں تقسیم ہوگا۔مرحومہ کے بہنوں کو نہیں ملے گا۔

یاد رہے کہ چونکہ آپ کے پردادا کی جائیداد اب تک تقسیم نہیں ہوئی تھی، اس لیے لاولد چچا اور پھوپھیوں کو بھی اسی ترکہ میں سے حصہ ملے گا، جو مختلف واسطوں سے دیگر ورثہ تک منتقل ہوتا رہے گا اور بالآخر زندہ ورثہ تک پہنچ جائے گا۔ لہٰذا درج ذیل تقسیم میں ابتدا سے انتہا تک ہر میت کے ترکہ میں سے جس جس وارث کو جتنا حصہ ملا ہے، سب کا حساب کرکے ایک جگہ درج کر دیا گیا ہے۔

مرحوم پردادا (خواجہ محمد یوسف کے والد) نے اپنے انتقال کے وقت جو جائیداد، نقد رقم، سونا، چاندی، مکان، کاروبار، ضرورت کی اشیاء، الغرض جو کچھ چھوٹا بڑا ساز و سامان چھوڑا ہو، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا کوئی قرض ہو، تو وہ سب ان کا ترکہ شمار ہوگا۔اس میں سے سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ اگر ان کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔ پھر اگر انہوں نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو، تو اسے ایک تہائی ترکہ کی حد تک پورا کیا جائے گا۔اس کے بعد جو کچھ بچے اس میں سے لاولد بھائی کے بیوہ کو 12.50%،  حمیدہ کے اولادمیں سے عارف، ناصر اور عامرمیں سے ہر ایک کو 2.187%ملے گا۔ روبینہ اور عمرانہ میں سے ہر ایک کو 1.093% ملے گا۔راحلہ کے اولاد میں سے عاطف اور عاقف میں سے ہر ایک کو 2.625% اور نجیبہ کو 1.312% اور راحلہ کے شوہر کو 2.187% ملے گا۔اخلاق کے اولاد میں سے فرقان، کامران اور ذیشان میں سے ہر ایک کو 4.697% ملے گا۔ صدف اور سدرہ میں سے ہر ایک کو 1.914% ملے گا اور اخلاق کے بیوہ کو 2.187%ملے گا۔عزیزہ کے شوہر کو 4.375% ملے گا۔ قمر النساء کے اولاد میں سے نیلوفراور سادیہ میں ہے ہر ایک کو 3.208% ملے گا۔اشتیاق کے اولاد میں سے توصیف، توقیراور جواد میں سے ہر ایک کو 5.503%ملے گا۔ ثمرین، نفدین اور قرۃ العین میں سے ہر ایک کو 2.317%ملے گا۔ثریا کےاولاد میں سے عمران کو 3.475%ملے گا۔ شائستہ، نئیر، رومانہ اور سائمہ میں سے ہر ایک کو  1.737% ملے گا۔ جمیلہ کے اولاد میں سے عنبرین کو 5.213% ملے گا۔

درج ذیل نقشے میں ہر وارث کا فیصدی حصہ لکھا ہوا ہے۔

نمبر شمار

الاحیاء / زندہ ورثہ

فیصدی حصہ

1

زوجہ لاولد

 12.50%

2

عارف ولد حمیدہ

2.187%

3

ناصر ولد حمیدہ

2.187%

4

عامر ولد حمیدہ

2.187%

5

روبینہ ولد حمیدہ

1.093%

6

عمرانہ ولد حمیدہ

1.093%

7

شوکت خاوند راحلہ

2.187%

8

عاطف ولد راحلہ

2.625%

9

عاقف ولد راحلہ

2.625%

10

نجیبہ ولد راحلہ

1.312%

11

زوجہ اخلاق

2.187%

12

فرقان ولد اخلاق

4.697%

13

کامران ولد اخلاق

4.697%

14

ذیشان ولد اخلاق

4.697%

15

صدف ولد اخلاق

1.914%

16

سدرہ ولد اخلاق

1.914%

17

خاوند عزیزہ

4.375%

18

نیلوفر ولد قمرالنساء

3.208%

19

سادیہ ولد قمر النساء

3.208%

20

توصیف ولد اشتیاق

5.503%

21

توقیر ولد اشتیاق

5.503%

22

جواد ولد اشتیاق

5.503%

23

ثمرین ولد اشتیاق

2.317%

24

نفدین ولد اشتیاق

2.317%

25

قرۃ العین ولد اشتیاق

2.317%

26

عمران ولد ثریا

3.475%

27

شائستہ ولد ثریا

1.737%

28

نئیر ولد ثریا

1.737%

29

رومانہ ولد ثریا

1.737%

30

سائمہ ولد ثریا

1.737%

31

عنبرین ولد جمیلہ

5.213%

 

مجموعہ

%99.99

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حوالہ جات

سورۃ النساءرقم الاٰیۃ:(11)

یوصیکم اللہ فی أولادکم للذکر مثل حظ الأنثیین.

سورۃ النساء رقم الاٰیۃ :(12)

فإن کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم من بعد وصیۃ توصون بھا أو دین.

الدرالمختار مع ردالمحتار:( 6/769)

(فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) .... (وإن سفل والربع لها عند عدمهما) فللزوجات حالتان الربع بلا ولد والثمن مع الولد .

 ردالمحتار علی الدرالمختار : (6/783)

إن ابن الأخ لایعصب أخته کالعم لایعصب أخته وابن العم لایعصب أخته وابن المعتق لایعصب أخته بل المال للذکر دون الأنثیٰ لأنها من ذوي الأرحام، قال في الرحبیة: ولیس ابن الأخ بالمعصب من مثله أو فوقه في النسب.

زبیر احمد ولد شیرجان

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

01/ذوالحجہ/1447

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب