| 89379 | طلاق کے احکام | مدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
میرا میں نے 1مارچ 2023ء کو کاروباری پریشانی کی حالت میں نیند کی17 گولیاں کھا لی تھیں۔ اس کے بعد مجھے اپنی حالت کا کچھ پتا نہیں تھا۔ میری بیوی اپنی ماں کے گھر تھی۔ شاید 3 یا 4 تاریخ کو وہ اپنے گھر آئی۔ اس کے بقول میں نے دو دن تک اس سے بلا وجہ لڑائی کی، گھر کی چیزیں جلائیں، الٹی سیدھی باتیں کرتا رہا، کچھ دیر سوتا پھر اٹھ کر الٹا سیدھا کرتا، اور خود کو دیوار پر سر مار کر نقصان بھی پہنچایا۔ اور5 تاریخ کو میں نے صبح کے وقت اسے تین دفعہ طلاق دی۔ اس کے بعد وہ اپنے والد کے گھر چلی گئی۔
اس کے بعد میرے کزن بتاتے ہیں کہ رات کو میں بغیر کپڑوں کے گلی میں کھڑا ہو کر اپنے ماں باپ کو گندی گندی گالیاں دے رہا تھا، پوری گلی میں شور کر رہا تھا۔ پھر وہ لوگ مجھے پکڑ کر سی ایم ایچ ہسپتال پنوں عاقل لے گئے، جہاں میرے ٹیسٹ ہونے پر واضح تھا کہ مجھ پر ان گولیوں کا بہت زیادہ اثر تھا اور میں اپنے ہوش سے بیگانہ تھا۔ مجھے دو دن بعد ہسپتال میں ہوش آیا، جب میری ٹریٹمنٹ ہو رہی تھی۔ اس ہسپتال میں مجھے10 مہینے 17 دن رکھا گیا۔ باہر نکلنے پر پابندی تھی اور موبائل چلانے پر بھی پابندی تھی۔
اللہ جانتا ہے کہ مجھے کچھ ہوش نہیں تھا کہ میں نے اپنی بیوی کو یا اس کے بھائی کو کوئی میسج کیا ہو یا کوئی ایسی بات کی ہو۔ جبکہ میری بیوی کو اتنا ضرور پتا تھا کہ میں اپنی حالت میں نہیں ہوں۔ میرا تقریباً10 مہینے اپنی بیوی سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ کرائے کا گھر تھا، اس کے والدین نے سارا سامان بھی اٹھا لیا تھا۔
10 ماہ بعد میرا اپنی بیوی سے رابطہ ہوا، لیکن وہ میرے میسج دیکھتی تھی اور جواب نہیں دیتی تھی۔ تقریباً 5 ماہ بعد اس نے مجھے جواب دیا اور شکوہ کیا کہ10 مہینے کہاں تھا اور رابطہ کیوں نہیں کیا؟ میں نے اسے سارے معاملات بتائے۔
اب ہم دونوں اپنے والدین سے اس معاملے پر کس طرح بات کریں؟ اس بات کو تقریباً15 ماہ بیت گئے ہیں۔ ہماری رہنمائی فرمائیں۔ ایسی حالت میں، جب مجھے اپنے کسی قول کا کچھ پتا نہیں تھا، ہماری طلاق کا معاملہ کیا ہوگا؟
میری میڈیکل رپورٹس میں لیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر زوار صاحب نے واضح طور پر میری کیفیات تفصیل سے لکھی ہیں، جن سے یہ ظاہر ہے کہ8 مارچ تک میں اپنے ہوش و حواس سے مکمل بیگانہ تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نیند کی 17گولیاں کھانے سےاگرواقعةً آپ کی کیفیت ایسی ہوگئی تھی کہ آپ کو کچھ یاد نہیں،اوراس پر آپ قسم بھی اٹھاسکتے ہیں توآپ کی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (5/ 415)
لو شرب شرابا حلوا فلم يوافقه فذهب عقله فطلق قال محمد - رحمه الله تعالى - لا يقع طلاقه، وعليه الفتوى.
قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار علي الدر المختار (8/ 322)
السكر لو بمباح كشرب مكره، ومضطر، وشرب دواء، وشرب ما يتخذ من حبوب وعسل عند أبي حنيفة كالاغماء يمنع من صحة طلاق، وعتاق وسائر التصرفات.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 490)
أقل ما يصح التصرف معه وإن كان حكمه مما يتعلق بمجرد لفظه القصد الصحيح أو مظنته وليس له ذلك، وهو أسوأ حالا من النائم؛ لأنه إذا أوقظ يستيقظ، بخلاف السكران، وصار كزواله بالبنج والدواء ............وعدم الوقوع بالبنج والأفيون لعدم المعصية فإنه يكون للتداوي غالبا فلا يكون زوال العقل بسبب هو معصية حتى لو لم يكن للتداوي بل للهو وإدخال الآفة قصدا ينبغي أن نقول يقع.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 244)
فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
26/جمادی الثانیہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


