03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آٹھ بھائیوں اور چار بہنوں میں تقسیم میراث
90198میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبركا  ته،جناب محترم مفتى صاحب!

عرض يہ ہے کہ وراثت کی  تقسيم كرنى ہے،ہماری جگہ ساڑھے ستائيس كروڑروپے میں بك گئی ہے،.ہم دس بهائى اورپانچ بہنیں ہیں۔ہمارے والدصاحب ۱۹۸۸ء میں  انتقال کر گئے  ،اس کے بعد  ہماری بہن خدیجہ كاانتقال   سن (۱۹۹۸ ء) میں ہوگيا جس کے ۳ بیٹے ہیں ،  اس کے بعد ہمارى والده كاانتقال ۲۰۰۳ ء ميں ہوا ۔ پھر اس کے بعد ہمارے  بهائى اسحاق كاانتقال ۲۰۱۵ءميں  ہوا، مر حوم اسحاق كے ورثاء میں ایک بيوی ایک  بیٹی اور ایک  بیٹا ہے ،پھر اس کے  بعد ہمارے  بهائى محمد ياسين كا انتقال ۲۰۲۴ ء میں ہوا ۔ مرحوم ياسين كی صرف بيوه  ہے، اولاد كوئی نہیں ۔  شریعت كى روشنى ميں  كس كا كيا حصہ بنتا ہے؟وہ براہ کرم   انگریزی میں لکھ کر بتادیں (کہ کس کے حصہ میں کتنا آتا ہے)۔

باقی ناموں کی تفصیل درج ذیل ہے:

(۱)محمد رفیق            (۸)مرحوم اسحاق (بیوہ ،ا بیٹا،ابیٹی )        (۱۵)سعیدہ بانو

(۲)محمد فاروق          (۹)عبد الجبار                 

(۳)منصور علی         (۱۰)مرحوم محمد یاسین (بیوہ)

 (۴)عبدالخالد          (۱۱)شکیلہ بانو

(۵)عبد العزیز         (۱۲)مرحومہ خدیجہ بانو (تین بیٹے)

(۶)محمد حسین           (۱۳)امینہ بانو

 (۷)  محمد یوسف       (۱۴)حبیبہ بانو                                                          

تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ مرحومہ خدیجہ بانو کے  شوہر کا انتقال خدیجہ بانوسے پہلے ہوا تھا ۔ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں چونکہ آپکےوالدکےانتقال کےبعدسےاس کے ترکہ  کومیراث کےطورپرتقسیم نہیں کیاگیاتھا،لہذاآپ کے والدکےانتقال کےوقت سےہی میراث کی تقسیم کی جائےگی۔

واضح رہے کہ میراث کی تقسیم  کسی معین جائیداد کے ساتھ خاص نہیں ہوتی ، بلکہ میت نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ  مال وجائیداد مکان ،دکان ،پلاٹ،نقدرقم،سونا،چاندی،زیورات،کپڑے،برتن،اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلوسازوسامان  چھوڑا ہو اور مرحوم کاوہ  قرض جس کی ادائیگی کسی شخص یا ادارے کے ذمے واجب ہے، یہ سب میت کا ترکہ  ہوتا ہے۔

والد  مرحوم کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز وتکفین کامعتدل خرچہ (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو (اداکیاجائےگا،پھر مرحوم کاقرضہ اداکیاجائےگا،پھر اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائزوصیت کی ہو توترکہ کےایک تہائی تک اس کواداکیاجائے،اس کےبعدجوکچھ بچ جائے،اس کومرحوم کےانتقال کےوقت موجودورثہ میں تقسیم کیاجائےگا۔

۱۔سب سےپہلےآپ کےوالد  کی میراث ان کی وفات کےوقت موجودورثاء(ایک بیوہ،پانچ بیٹیوں اور دس  بیٹوں  )میں تقسیم ہوگی۔میت کے کل ترکہ کوفیصدی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتووالد کی کل میراث  میں سے12.5%فیصدبیوہ (آپ کی والدہ )کاہوگا، مرحوم کی  ہر ایک  بیٹی کو 3.5%اور  ہرایک بیٹے کو سات (7%) فیصدحصہ ملےگا۔

میت کے کل ترکہ میں سے درج ذیل نقشے کے مطابق موجود ورثاءکو ان کے حصے دیئے جائیں۔

مورث اعلیٰ (والد ) کل ترکہ  (275000000):روپے

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصے

فیصدی حصے

رقم

1

بیوہ (بانو)

25

12.5%

34,375,000

2

بیٹا( محمد رفیق)

14

7%

19,250,000

3

بیٹا(فاروق)

14

7%

19,250,000

4

بیٹا(منصور علی)

14

7%

19,250,000

5

بیٹا(عبدالخالد)

14

7%

19,250,000

6

بیٹا(عبدالعزیز)

14

7%

19,250,000

7

بیٹا(محمد حسین)

14

7%

19,250,000

8

بیٹا(محمد یوسف )

14

7%

19,250,000

9

بیٹا(عبدالجبار)

14

7%

19,250,000

10

بیٹا(اسحاق)

14

7%

19,250,000

11

بیٹا(محمد یاسین )

14

7%

19,250,000

12

بیٹی (شکیلہ بانو)

7

3.5%

9,625,000

13

بیٹی (امینہ بانو)

7

3.5%

9,625,000

14

بیٹی (حبیبہ بانو)

7

3.5%

9,625,000

15

بیٹی (سعیدہ بانو)

7

3.5%

9,625,000

16

بیٹی(خدیجہ بانو)

7

3.5%

9,625,000

 

 

 

 

کل=275,000,000

۲۔والد مرحوم کےانتقال  کےبعدآپکی بہن (خدیجہ )   کاانتقال ہواتواس کی میراث(مرحوم والد اور اسی طرح مرحوم شوہر سےملنےوالاحصہ   اور دیگر ذاتی اموال) وفات کےوقت موجود ورثاء (والدہ ،اور تین  بیٹوں )میں تقسیم کی جائےگی۔میت کے کل ترکہ میں سے درج ذیل نقشےکے مطابق موجود ورثاء کو ان کے حصے دیئے جائیں۔

درج ذیل نقشے میں مرحومہ خدیجہ کو والد سے ملنے والی رقم کا حساب پیش کیا جاتا ہے ،اگر اس حصے کے علاوہ اور مالیت بھی ہو تو وہ بھی مرحومہ کے ترکہ میں جمع کیا جائے گا ۔

مورث (مرحومہ خدیجہ بانو ) کل ترکہ  (96,25,000): روپے)

نمبر شمار

وارث

عددی حصے

فیصدی حصے

رقم

1

والدہ

3

16.6669%

1604191روپے

2

بیٹا

5

%27.7777

2673603روپے

3

بیٹا

5

%27.7777

2673603روپے

4

بیٹا

5

%27.7777

2673603روپے

 

 

 

 

کل رقم96,25,000=روپے

 

 

 

 

 

 

 

 

 

۳۔مرحومہ خدیجہ  کےانتقال  کےبعدآپ کی والدہ کاانتقال ہواتواس کی میراث(مرحوم شوہر اور اسی طرح مرحومہ خدیجہ سےملنےوالاحصہ   اور دیگر ذاتی اموال) وفات کےوقت موجود ورثاء (چار بیٹیوں  ،اور دس  بیٹوں )میں تقسیم کی جائےگی۔درج ذیل نقشہ میں مرحومہ والدہ  کو شوہر اور مرحومہ خدیجہ  سے ملنے والی رقم کا حساب پیش کیا جاتا ہے ،اگر اس حصے کے علاوہ اور مالیت بھی ہو تو وہ بھی مرحومہ کے ترکہ میں جمع کیا جائے گا۔

 میت کے کل ترکہ میں سے درج ذیل  نقشے کے مطابق موجود ورثاء کو ان کے حصے دیئے جائیں۔

مورث (مرحومہ والدہ  (بانو)) کل ترکہ  (35,979,191):روپے

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصے

فیصدی حصے

رقم

1

بیٹا( محمد رفیق)

2

8.3333%

2,998,266

2

بیٹا(فاروق)

2

8.3333%

2,998,266

3

بیٹا(منصور علی)

2

8.3333%

2,998,266

4

بیٹا(عبدالخالد)

2

8.3333%

2,998,266

5

بیٹا(عبدالعزیز)

2

8.3333%

2,998,266

6

بیٹا(محمد حسین)

2

8.3333%

2,998,266

7

بیٹا(محمد یوسف )

2

8.3333%

62,998,26

8

بیٹا(عبدالجبار)

2

8.3333%

62,998,26

9

بیٹا(اسحاق)

2

8.3333%

2,998,265

10

بیٹا(محمد یاسین )

2

8.3333%

2,998,265

11

بیٹی (شکیلہ بانو)

1

4.1667%

41,499,13

12

بیٹی (امینہ بانو)

1

4.1667%

31,499,13

13

بیٹی (حبیبہ بانو)

1

4.1667%

31,499,13

14

بیٹی (سعیدہ بانو)

1

4.1667%

31,499,13

 

 

 

 

کل  35,979,191=

 

 

 

۴۔مرحومہ والدہ کے انتقال کےبعدآپ کے بھائی اسحاق  کاانتقال ہواتواس کی میراث(مرحوم والد  اور اسی طرح مرحومہ والدہ سےملنےوالاحصہ   اور دیگر ذاتی اموال) وفات کےوقت موجود ورثاء (بیوہ   ،ایک بیٹی   اور ایک بیٹے )میں تقسیم کی جائےگی۔درج ذیل نقشہ میں مرحوم اسحاق   کو والد  اور مرحومہ والدہ   سے ملنے والی رقم کا حساب پیش کیا جاتا ہے ،اگر اس حصے کے علاوہ اور مالیت بھی ہو تو وہ بھی مرحوم کے ترکہ میں جمع کیا جائے گا۔

 میت کے کل ترکہ میں سے درج ذیل نقشے کے مطابق موجود ورثاءکو ان کے حصے دیئے جائیں۔

مورث (مرحوم اسحاق  ) کل ترکہ  (22,248,265):روپے

نمبر شمار

وارث

عددی حصے

فیصدی حصے

رقم

1

بیوہ

3

12.5%

2,781,033

2

بیٹا

14

58.3333%

12,978,155

3

بیٹی

7

29.1666%

6,489,077

 

 

 

 

کل22,248,265=

 

 

 

 

 

 

 

 

۵۔مرحومہ اسحاق کے انتقال کےبعدآپ کے بھائی محمد یاسین  کاانتقال ہواتواس کی میراث(مرحوم والد  اور اسی طرح مرحومہ والدہ سےملنےوالاحصہ   اور دیگر ذاتی اموال) وفات کےوقت اس کے موجود ورثاء (بیوہ   ،چار بہنوں  اورآٹھ بھائیوں)میں تقسیم کی جائےگی۔درج ذیل نقشہ میں مرحوم محمد یاسین   کو والد  اور مرحومہ والدہ   سے ملنے والی رقم کا حساب پیش کیا جاتا ہے ،اگر اس حصے کے علاوہ اور مالیت  ہو تو وہ بھی مرحوم کے ترکہ میں جمع کیا جائے گا۔

 میت کے کل ترکہ میں سے درج ذیل نقشے کے مطابق موجود ورثاء کو ان کے حصے دیئے جائیں۔

مورث (مرحوم محمد یاسین) کل ترکہ  (22,248,265):روپے

نمبر شمار

وارث

عددی حصے

فیصدی حصے

رقم

1

بیوہ

20

25%

5,562,067

2

بہن (شکیلہ بانو)

3

3.75%

834,310

3

بہن (امینہ بانو)

3

3.75%

834,310

4

بہن (حبیبہ بانو)

3

3.75%

834,310

5

بہن (سعیدہ بانو)

3

3.75%

834,309

6

بھائی( محمد رفیق)

6

7.5%

1,668,620

7

بھائی(فاروق)

6

7.5%

1,668,620

8

بھائی(منصور علی)

6

7.5%

1,668,620

9

بھائی(عبدالخالد)

6

7.5%

1,668,620

10

بھائی(عبدالعزیز)

6

7.5%

1,668,620

11

بھائی(محمد حسین)

6

7.5%

1,668,620

12

بھائی(محمد یوسف )

6

7.5%

1,668,620

13

بھائی (عبدالجبار)

6

7.5%

1,668,619

 

 

 

 

کل 22,248,265=

حوالہ جات

قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:سورۃ النساء:آیت( 12)

"وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ وَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ".

الفتاوى الهندية (6/ 447)

التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف، كذا في المحيط ...ويكفن في مثل ما كان يلبس من الثياب الحلال حال حياته على قدر التركة من غير تقتير ولا تبذير، ...وأما ما ثبت بالبينة أو بالمعاينة فهو ودين الصحة سواء، كذا في المحيط ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث۔

صدام حسین 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی 

۱۰/ذوالقعدہ/۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صدام حسین بن ہدایت شاہ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب