| 90234 | خرید و فروخت کے احکام | بیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان |
سوال
کرپٹو کرنسی اور سپورٹ ٹریڈنگ اسی طرح یہ ڈیجیٹل کاروبار جائز ہے یا نہیں۔یعنی ان ڈیجیٹل کرنسیز کے حوالے سے مکمل تفصیل بتادیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کرپٹو کرنسی کے متعلق علماء کرام کی تین طرح کی آراء ملتی ہیں۔ پہلی رائے اس کے مطلقا ناجائز ہونے کی ہے۔
کرپٹو کرنسی کے ناجائز ہونے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ بہت تیزی سے ہوتا ہےجس کی وجہ سے یہ جوئے کی طرح ہے ۔ اسی طرح اب تک اس کے بارے میں یہ بھی واضح نہیں ہے کہ یہ مکان، گاڑی اور زمین وغیرہ کی طرح اثاثہ ہے یا روپے اور ڈالر کی طرح کرنسی/ زر ہے ۔اسی طرح کےاور بھی کئی تکنیکی اشکالات ہیں جن کی بنا پر اس کو ناجائز کہا گیا ہے۔
دوسری رائے توقف کی ہے یعنی جب تک اس کے متعلق حکومتی قوانین نہ ہو جس میں فراڈ وغیرہ سے صارفین کو بچایا جاسکے اور تمام تر صورتحال واضح نہیں ہوجاتی اس کو جائز یا ناجائز نہیں کہا جاسکتا،
اور تیسری رائےجواز کی ہے جس کے مطابق کرپٹو کرنسی کا استعمال اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ حکومتی قوانین کے تحت ہو۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں۱۴/ اپریل/ ۲۰۲۴ ء کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے ورچول ایسٹ ایکٹ ۲۰۲۶ کے حوالے سے ایک ہدایت نامہ (بی پی آر ڈی سر کلرلیٹر نمبر ۱۰)جاری ہوا جس میں سابقہ ہدایت نامہ (بی پی آر ڈی سرکلر لیٹر نمبر ۳) ،۶ / اپریل/ ۲۰۱۸ ء ، جس میں ورچوئل کرنسیز/ٹوکنز سے متعلق لین دین پر پابندی عائد کی گئی تھی ،اسے منسوخ کردیا گیا اور اب پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی(PVARA) کےنام سے ایک ادارہ قائم کیاگیا جو ملک میں ورچوئل ایسٹ سرگرمیوں کے لائسنس، ریگولیشن اور نگرانی کی ذمہ دار ی نبھائی گی ،اور اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ریگولیٹڈ ادارے(اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ماتحت تمام بینک ) صارفین کے ورچول ایسٹ اکاونٹس کی ٹرانزیکشنز کی شفافیت کی خاطر کچھ شرائط کی سختی سے پابندی کرتے ہوئے (PVARA)کے لائسنس یافتہ ورچول ایسٹ سروسز پرووایئڈرز(VASPs ) جیسے بائنانس وغیرہ کے لیے بینک اکاؤنٹس کھول سکتی ہیں۔
ورچول ایسٹ سروسز پرووائیڈرز جیسے بائنانس وغیرہ ایسے پلیٹ فارمز ہے جہاں پر ان ورچول ایسٹ(کریپٹو کرنسی وغیرہ) کی خریداری کی جاتی ہے،اور یہ خریداری کن شرائط کے ساتھ کی جائیگی اس سے متعلق کوئی بحث نہیں کی گئی ہے۔
البتہ کریپٹو کرنسی کی خریداری کے حوالے سے ابھی تک قانونی طور پر قواعد و ضوابط نہیں بنائے گئے اس لیے یہ ہدایت نامہ حکومت کی طرف سے عام لوگوں کو ڈیجیٹل کرنسی (کریپٹوں وغیرہ ) کی خریداری کی اجازت نہیں دیتی ،بلکہ ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے مرحلہ وار قانون سازی کی جانب ایک اقدام ہے ۔
تاہم دار الافتاء جامعۃ الرشید کی رائے ابھی تک توقف کی ہےکیونکہ پاکستان میں اگر چہ ان کرنسیوں کے حوالے سے ایک قانونی مسوّدہ پاس تو ہوگیا ہے ،لیکن ہمارے علم کی حد تک اسکی تنفیذ کا کوئی نظام ابھی تک نہیں بنا، لہذا کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت سےفی الحال گریز کرنا چاہیے۔
حوالہ جات
صدام حسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۵/ذوالقعدہ /۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صدام حسین بن ہدایت شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


