03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سودی قرض میں ڈوبے ہوئے شخص کے لئے زکوة لینے کا حکم
89475زکوة کابیانمستحقین زکوة کا بیان

سوال

میرا نام قاضی سمیع الدین ہے ،میں ضلع ڈیرہ اسماعیل خان تحصیل پہاڑ پور (حافظ آباد)کا رہائشی ہوں،میں نے قرض لے کر کاروبار شروع کیا تھا،لیکن بدقسمتی سے وہ سارا کاروبار ڈوب گیا،میرے پاس دوکنال زمین اور کچھ زیورات تھے،میں  نےقرض کی ادائیگی کے لئے انہیں بھی فروخت کردیا،لیکن چونکہ قرض نفع پر لیا تھا،اس لئے وہ دن بہ دن بڑھتا گیا۔

اب حالات یہ ہے کہ قرض کی رقم پچیس لاکھ تک پہنچ چکی ہے،گھر کے علاوہ کوئی زمین نہیں ہے،یہاں تک کہ بیوی کے تمام زیورات بھی بک چکے ہیں،قرض خواہ قتل اور شرح سود بڑھانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

میری آمدن کا بھی کوئی خاص ذریعہ نہیں ہے،ایک عزیز نے چھوٹا سا کاروبار بنا کر دیا ہے،جس سے بہ مشکل گھر کا گزارا چل رہا ہے،کیا ایسی صورت میں میرے لئے زکوة اور صدقات لینا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سود پر قرض لینا اور دینا شرعا ناجائز اور سنگین کبیرہ گناہ ہے،جس سے نہ رکنے والوں کے خلاف اللہ نے اعلان جنگ فرمایا ہے،چنانچہ سورہ بقرہ میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:

{ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (278) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (279) وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ} [البقرة: 278 - 280]

ترجمہ : اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اگر تم واقعی مؤمن ہوتو سود کا جو حصہ بھی( کسی کے ذمے )باقی رہ گیا ہو،اسے چھوڑدو،پھر بھی اگر تم ایسا نہ کروگےتو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو۔اور اگر تم (سود سے )توبہ کرو تو تمہارا اصل سرمایہ تمہارا حق ہے،نہ تم کسی پر ظلم کرو،نہ تم پر ظلم کیاجائےاور اگر کوئی تنگدست( قرض دار )ہو تو اس کا ہاتھ کھلنے تک مہلت دینی ہے اور صدقہ ہی کردو تو یہ تمہارے حق میں کہیں زیادہ بہتر ہے،بشرطیکہ تم کو سمجھ ہو۔(آسان ترجمہ قرآن)

لہذا آپ کے ذمے لازم ہے کہ سودی قرض لینے جیسے سنگین گناہ پر ندامت کے ساتھ کثرت سے توبہ واستغفار کریں، جنہوں نے آپ کو قرض دیا ہے ان پر بھی توبہ واستغفار لازم ہے اوراصل قرض سے اضافی رقم لینا ان کے لئے حلال نہیں ۔

نیز چونکہ سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق آپ صاحب نصاب(جس شخص کی ملکیت سونا،چاندی،نقدی،مال تجارت اور ضرورت سے زائد سامان نصاب کے بقدر نہ ہو،صرف سونا ملک میں ہونے کی صورت میں ساڑھے سات تولہ کا اعتبار ہوتا ہے، جبکہ بقیہ اشیاء میں سے کوئی ایک چیزیا متفرق اشیاء کے  ملکیت میں ہونے کی صورت میں ساڑھے باون تولہ  (۳۵ء ۶۱۲ گرام ) چاندی کی قیمت کا اعتبار ہوتا ہے) نہیں،اس لئے آپ کے لئے زکوة اور صدقات لینے کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (2/ 343):

"(ومديون، لا يملك نصابا فاضلا عن دينه) وفي الظهيرية: الدفع للمديون أولى منه للفقير".

قال العلامة ابن عابدین رحمہ ﷲ:" (قوله: لا يملك نصابا) قيد به؛ لأن الفقر شرط في الأصناف كلها إلا العامل وابن السبيل ،إذا كان له في وطنه مال بمنزلة الفقير .بحر، ونقل ط عن الحموي أنه يشترط أن لا يكون هاشميا.

 (قوله: أولى منه للفقير) أي أولى من الدفع للفقير الغير المديون لزيادة احتياجه".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

26/جمادی الثانیہ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب