03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غصہ کی حالت میں بغیر نسبت کیے تین سے زائد طلاق دینا
91352طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

جناب مفتی صاحب! مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں رہنمائی درکار ہے۔

 فروری کے شروع میں رات کو سونے کے لیے لیٹا تھا، ۲ گھنٹے تک نیند نہیں آئی۔ لیٹے ہوئے طرح طرح کی سوچیں آ رہی تھیں اور میری آنکھیں بند تھیں، سر میں درد تھا۔ دماغ میں میری پہلی بیوی ہی چل رہی تھی، اس حالت میں اچانک بے ساختہ غصہ میں کہہ دیا (ایک ہی سانس میں تقریباً شاید کوئی ۷ یا ۸ بار): طلاق ہے۔ پھر اس کے بعد وہ وقت گزرا تو بیوی کے گھر پر ہی اکیلے کمرے میں پیار کی باتیں اور پیار کیا، مجھے بیوی نے فارغ کیا اور ہمبستری پر قادر نہیں ہوا۔ اس کے بعد بھی بیوی نہیں آئی تو میں نے یہ پرچے پر لکھ دیا کہ: میں محمد بن زاہد، ہادیہ بنت محمد حامد کو طلاق دیتا ہوں، ہادیہ میرے نکاح میں نہیں ہے۔

تنقیح: یہ سارا معاملہ میری پہلی بیوی کے ساتھ پیش آیا ہے، جبکہ دوسری بیوی کے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ اصل میں پچھلے چار پانچ ماہ سے ہمارا گھریلو جھگڑا چل رہا تھا اور میں مسلسل منانے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ گھر آ جائے، لیکن وہ نہ تو آ رہی تھی اور نہ ہی میری بات مان رہی تھی۔ اسی شدید غصے اور ذہنی تناؤ کی حالت میں، میں نے اونچی آواز میں چیخ کر ایک ہی سانس میں تقریباً سات یا آٹھ بار یہ الفاظ کہے: طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے۔ یہ الفاظ میں نے خود اپنے کانوں سے سنے تھے۔ اگرچہ اس وقت میری طلاق دینے کی کوئی نیت نہیں تھی، بس میرے خیالات اور دماغ میں پہلی بیوی ہی چل رہی تھی۔ اس واقعے کے بعد سے مجھے شدید نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے میں نے ڈاکٹر سے رجوع کیا ہے اور اب باقاعدگی سے ادویات استعمال کر رہا ہوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورتِ حال میں جب پہلی بیوی کا خیال ذہن میں تھا اور طلاق کے الفاظ متعدد مرتبہ بول دیے ، تو ان میں سے تین طلاقیں واقع ہونے سے پہلی بیوی مغلظہ ہو گئی ہے، جبکہ باقی طلاقیں اور وہ تحریر لغو (کالعدم) ہو چکی ہیں۔

لہٰذا اب آپ دونوں ایک دوسرے کے لیے حرام ہیں، عدت گزارنے کے بعد عورت جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے، آپ سے فی الحال نکاح نہیں ہوسکتا۔طلاق کے بعد جو ازدواجی تعلق قائم کیا ہے، وہ حرام اور ناجائز تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کے حضور سچے دل سے استغفار کرنا لازم ہے۔

حوالہ جات

رد المحتار(458/4)

(قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق. اهـ.

أقول: وما ذكره الشارح من التعليل أصله لصاحب البحر أخذا من قول البزازية في الأيمان قال لها: لا تخرجي من الدار إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت لا يقع لعدم حلفه بطلاقها، ويحتمل الحلف بطلاق غيرها فالقول له....ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته. ..‌ويؤيده ما في البحر لو قال: امرأة طالق أو قال طلقت امرأة ثلاثا وقال لم أعن امرأتي يصدق اهـ ويفهم منه أنه لو لم يقل ذلك تطلق امرأته، لأن العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها...أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن ‌لا ‌بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله.

مختصر القدوری(600)

وطلاق البدعة أن يطلقها ثلاثا بكلمة واحدة أو ثلاثا في طهر واحد فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وبانت امراه منه وكان عاصيا.

رد المحتار(223/3)

وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث… الخ . وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف فماذا بعد الحق إلا الضلال .

کفایت المفتی(54/6)

(سوال) ... زید نے غصہ ہوکر کہا کہ ایک طلاق دو طلاق تین طلاق ہے قال الفاظ الطلاق بغیر نسبتہ- یعنی اس طرح نہ کہا کہ تجھ پر طلاق یا تو طلاق ہے اور زید نے یہ الفاظ دوسرے مکان میں جاکر اپنی زبان سے نکالے آیا ہندہ پر تین طلاقیں واقع ہوئیں یا نہیں؟

(جواب ۳۴) چونکہ غصہ کا موقع ہے نیز اس کی بیوی سے جھگڑا ہوا اس لئے ظاہر یہی ہے کہ اس نے بیوی کو ہی طلاق دی ہے اور وہی اس کے ذہن میں مراد تھی نسبت یا اضافت طلاق صراحتہً ہونا ضروری نہیں اسی طرح عورت کا سامنے موجود ہونا وقوع طلاق کے لئے شرط نہیں پس صورت مسئولہ میں اس کی بیوی مطلقہ ثلثہ ہوگئی ..

ظہوراحمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

01 صفر المظفر 1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب