| 91505 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
یہ مسئلہ میری بیٹی کا ہے۔وہ کہتی ہے کہ میرے شوہر نے مجھے کچھ سال پہلے دو طلاق واضح الفاظ کے ساتھ دی ہوئی ہیں جس کے بعد صرف ایک طلاق کی گنجائش باقی ہے۔اب بھی وہ مذاق میں بعض دفعہ ایسی باتیں کر جاتے ہیں جن سے طلاق کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔کبھی کہتے ہیں تم آزاد ہو ۔ کبھی کہتے ہیں تم اپنا بندوبست کرلو ۔ کبھی کہتے ہیں میرے گھر سے چلی جاؤ ۔ کبھی کہتے ہیں دوسری شادی کرلو ۔ کچھ دن پہلے جب انھوں نے کہا کہ "دوسری شادی کرلو"میں نے جواب میں کہا کہ "میں آپ کے نکاح میں ہوں" تو کہنے لگے" نکاح ختم بھی ہوجاتا ہے، تمہیں اجازت ہے ،جاؤ خلع لے لو ،عدالت جاؤ خلع کا کیس کرو چھ مہینے بعد خلع ہوجائے گا" ۔اب ان باتوں کے بعد وہ بار بار کہہ رہے ہیں کہ میں مذاق کر رہا تھا ۔قرآن سنت کی روشنی میں بتائیں کہ ان دونوں کا نکاح باقی ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میرے گھر سے چلی جاؤ“ طلاقِ کنایہ کے ان الفاظ میں سے ہے جو طلاق کے جواب کے ساتھ ساتھ رد کا احتمال بھی رکھتے ہیں، اس کا حکم یہ ہے کہ اگر شوہر کی نیت طلاق دینے کی ہو تو ایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی۔
”دوسری شادی کر لو“ اور ”اپنا بندوبست کر لو“ طلاقِ کنایہ کے ان الفاظ میں سے ہیں جو صرف اور صرف طلاق کا جواب بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس صورت میں اگر طلاق دینے کی نیت ہو یا کوئی قرینہ موجود ہو (یعنی غصے کی حالت ہو یا طلاق کا مذاکرہ ہو) تو اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ جبکہ صورتِ مسئولہ میں نہ تو شوہر کی طلاق دینے کی نیت ہے اور نہ ہی کوئی قرینہ موجود ہے، لہٰذا ان تینوں جملوں سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
"تم آزاد ہو "اپنی اصل وضع کے اعتبار سے کنائی الفاظ میں سے ہے ، یعنی وہ طلاق کے لیے خاص نہیں، بلکہ اس میں بھی طلاق اور غیر طلاق دونوں کا احتمال ہوتا ہے۔ تاہم، بعض الفاظ عرف ورواج میں کثرت استعمال کے باعث وہ طلاق کے لیے ہی معروف ہو جاتے ہیں اور دیگر معانی میں ان کا استعمال کم ہو جاتا ہے۔ عرفِ عام میں اس کثرت استعمال کی وجہ سے یہ الفاظ صریح کے حکم میں شمار ہوتے ہیں۔
ملحق بالصریح کا حکم یہ ہے کہ اس میں نیت شرط نہیں ہوتی، بلکہ الفاظ صریح کی طرح ، بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے الا یہ کہ وہاں غیر طلاق کے معنی مراد لینے کا کوئی واضح اور صریح قرینہ موجود ہو۔ لہذا، اگر لفظ ا"تم آزاد ہو" شوہر کے عرف اور علاقے میں عام طور پر طلاق کے لیے استعمال کیا جاتا ہو، تو اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی، چونکہ شوہر پہلے ہی دو طلاقیں دے چکا تھا اور اس کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی تھا،اس طرح تین طلاقوں کا عدد پورا ہوگیا اور میاں بیوی کا نکاح ختم ہو گیا ۔عورت اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو گئی ، اور رجوع یا تجدیدِ نکاح (دوبارہ نکاح) کر کے ساتھ رہنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔اسی طرح بیوی اپنی عدت (اگر حمل نہ ہو تو مکمل تین ماہواریاں، اور اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک) گزار کر کسی دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔
البتہ ، اگرشوہر کے علاقے اور عرف میں یہ لفظ طلاق کے لیے خاص نہ ہو، بلکہ طلاق اور غیر طلاق دونوں معانی میں یکساں استعمال ہوتا ہو، تو پھر اس پر کنایہ کی تیسری قسم یعنی صرف جواب کا احتمال رکھنے والے الفاظ کے احکام جاری ہوں گے۔ یعنی اگر شوہر نے طلاق کی نیت سے کہا تھا یا مذاکرہ طلاق کی حالت تھی ،تو طلاق بائن واقع ہوگی، ور نہ طلاق واقع نہیں ہو گی۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 298):
والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرام بائن ومرادفها كبتة بتلة (يصلح سبا، ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له.... (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو.
رد المحتار :باب صریح الطلاق(3/ 252)
ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف، (قوله فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات، وإنما كان ما ذكره صريحا لأنه صار فاشيا في العرف في استعماله في الطلاق لا يعرفون من صيغ الطلاق غيره ولا يحلف به إلا الرجال، وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية."
محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
12/صفر المصفر /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


