| 91574 | طلاق کے احکام | طلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان |
سوال
ایک شخص نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں۔ جب وہ تیسری طلاق دینے لگا تو بیوی نے اس کا منہ بند کر دیا۔ اب اس صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں دو طلاقیں تو واقع ہوچکی ہیں، البتہ تیسری بار طلاق کہنے سے پہلے اگرشوہر کا منہ بند کرا دیا تھا، اور اس کے منہ سے طلاق کا تلفظ نہ ہو سکا تھا تو مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوئی، دورانِ عدت شوہر کو بیوی سے رجوع کا حق حاصل ہوگا، بشرطیکہ پہلے کوئی طلاق نہ دی ہو، اور آئندہ کے لیے مذکورہ شخص کو صرف ایک طلاق کا حق ہوگا۔اگر عدت کے دورن رجوع نہ کیا تو بعد از عدت شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے تقرر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کی اجازت ہوگی۔
تاہم اگر مسئولہ صورت میں منہ پر ہاتھ رکھنے کے باوجودشوہر نے تیسری بار طلاق کا تلفظ کر لیا تھا ، تو ایسی صورت میں تین طلاق واقع ہو چکی ہیں ، جن کی وجہ سے بیوی حرمتِ مغلظہ کے ساتھ شوہر پر حرام ہوگئی ہے ،لہذا ایسے میں نہ رجوع جائز ہوگا اور نہ ہی تجدیدِ نکاح کی اجازت ہوگی۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 254):
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فأمسكوهن بمعروف} [البقرة: 231]
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 409):
(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب.
محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
12/صفر المصفر /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


