03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دو طلاق دینے کا حکم
91574طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں۔ جب وہ تیسری طلاق دینے لگا تو بیوی نے اس کا منہ بند کر دیا۔ اب اس صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں دو طلاقیں تو واقع ہوچکی ہیں، البتہ تیسری بار طلاق کہنے سے پہلے اگرشوہر کا  منہ بند کرا دیا تھا، اور اس کے منہ سے طلاق کا تلفظ نہ ہو سکا تھا تو مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوئی، دورانِ عدت شوہر کو بیوی سے رجوع کا حق حاصل ہوگا،  بشرطیکہ پہلے کوئی طلاق نہ دی ہو، اور آئندہ کے لیے مذکورہ شخص کو صرف ایک طلاق کا حق ہوگا۔اگر عدت کے دورن رجوع نہ کیا تو بعد از عدت شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے تقرر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کی اجازت ہوگی۔

تاہم اگر مسئولہ صورت میں منہ پر ہاتھ رکھنے کے باوجودشوہر نے  تیسری بار طلاق کا تلفظ  کر لیا تھا ، تو ایسی صورت میں تین طلاق واقع ہو چکی ہیں ، جن کی وجہ سے  بیوی  حرمتِ مغلظہ کے ساتھ شوہر پر  حرام ہوگئی ہے ،لہذا ایسے میں نہ  رجوع جائز  ہوگا اور نہ ہی تجدیدِ نکاح کی اجازت ہوگی۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 254):

وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فأمسكوهن بمعروف} [البقرة: 231]

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 409):

 (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب.

محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

12/صفر المصفر /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب