| 91242 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
(2) دوسری صورت یہ ہے کہ مالک اپنی زمین بھی کاشتکار کو ٹماٹر، جوار یا گوبھی کی فصل کے لیے دیتے ہیں جبکہ ان سے آدھا حصہ طلب کرتے ہیں اور اس صورت میں بھی نقصان میں شریک نہیں ہوتا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ ایسا معاہدہ،جس میں زمین ایک فریق کی ہو اور محنت دوسرے فریق کی، اور پیداوار دونوں کے درمیان مشترک ہو، شرعی اصطلاح میں ”عقدِ مزارعت“ کہلاتا ہے۔ راجح قول کے مطابق لوگوں کی ضرورت (حاجتِ الناس) اور تعاملِ امت کے پیشِ نظر یہ معاملہ 'مضاربت' کے اصول پر شرعاً جائز ہے، اور اسی پر فتویٰ ہے۔ گویا اس میں زمین بطورِ سرمایہ ہوتی ہے اور کسان بمنزلہ مضارب ہوتا ہے۔
اس معاہدے کے نتیجہ میں آنے والے اخراجات مالکِ زمین اور کسان میں سے کس کے ذمہ ہوں گے، اس حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ مزارعت کے اخراجات بنیادی طور پر چارقسم کے ہیں:
۱۔ فصل پکنے سے پہلے کے اخراجات: زمین کھودنے، برابر کرنے، بیج ڈالنے اور آبپاشی وغیرہ جیسے تمام اخراجات صرف مزارع (کسان) کے ذمے ہیں۔
۲۔ فصل پکنے کے بعد اور تقسیم سے پہلے کے اخراجات: فصل کی کٹائی اور صفائی وغیرہ زمیندار اور مزارع دونوں پر مشترکہ طور پر لازم ہیں۔ البتہ اگر عرف ہو تو امام ابو یوسفؒ کے نزدیک انہیں صرف کسان کے ذمے بھی مشروط کیا جا سکتا ہے۔
۳۔ پیداوار کی تقسیم کے بعد کے اخراجات: پیکنگ اور منڈی یا گھر تک منتقلی کے اخراجات ہر شریک اپنے اپنے حصے کے مطابق انفرادی طور پر خود برداشت کرے گا۔
۴۔ کھاد اور بیج: یہ دونوں چیزیں مالکِ زمین اور کسان آپس کے اتفاق سے جس کے ذمے میں بھی قرار دیں درست ہے۔ البتہ اگر کھاد خریدنا اور ڈالنا ایک ہی شخص کے ذمے ہو، تو ضروری ہے کہ بیج بھی اسی شخص کی طرف سے ہو۔
ان امور کے پیش نظر صورتِ مسئولہ میں مالک کا اپنی زمین مزارعت کے طور پر دوسرے شخص کو دینا جائز ہے۔ نیز، ان کا باہمی رضامندی سے پیداوار کا حصہ طے کر لینا (کہ اتنا حصہ تمہارا ہوگا اور اتنا میرا) بھی درست ہے۔
جہاں تک مالک کے اخراجات منہا کرنے پر راضی نہ ہونے کی بات ہے، تو فصل پکنے سے پہلے کے اخراجات چونکہ شرعاً لازم ہی کسان پر ہوتےہیں، لہذاان کے حوالے سے اس کی یہ شرط حق بجانب ہے۔ بیج اور کھاد کو بھی مالک اور کسان کے آپس کے اتفاق سے کسان پرڈالنادرست ہے۔ البتہ فصل پکنے کے بعد اور پیداوار کی تقسیم سے پہلے کے اخراجات (جیسے کٹائی ، صفائی وغیرہ) ، اسی طرح اگر بغیر تقسیم مارکیٹ میں بیچ کر قیمت آپس میں تقسیم کی جاتی ہوتو مال کے بک جانے تک جتنے اخراجات آتے ہیں، مثلاً پیکنگ کرنے، مارکیٹ لے جانے وغیرہ کے اخراجات، یہ اصولی طور پر مالکِ زمین اور کسان دونوں پر فصل میں سے ہر ایک کے حصے کے بقدر لازم ہوں گے۔ چنانچہ مالکِ زمین کا ان اخراجات کو کلی طور پر کسان کے ذمے لازم کرنا جائز نہیں۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي» (4/ 338):
"وإن كان الأرض لواحد والعمل والبقر والبذر لواحد جازت" لأنه استئجار الأرض ببعض معلوم من الخارج فيجوز كما إذا استأجرها بدراهم معلومة ".
تكملة فتح القدير نتائج الأفكار في كشف الرموز والأسرار» (9/ 466):
«وإن كان الأرض لواحد والعمل والبقر والبذر لواحد جازت) لأنه استئجار الأرض ببعض معلوم من الخارج فيجوز كما إذا استأجرها بدراهم معلومة.
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (6/ 182):
ومنها) : أنها إذا لم تخرج الأرض شيئا فلا شيء لواحد منهما لا أجر العمل ولا أجر الأرض سواء كان البذر من قبل العامل أو من قبل رب الأرض بخلاف المزارعة الفاسدة أنه يجب فيها أجر المثل، وإن لم تخرج الأرض شيئا، والفرق أن الواجب في العقد الصحيح هو المسمى وهو بعض الخارج، ولم يوجد الخارج فلا يجب شيء، والواجب في المزارعة الفاسدة أجر مثل العمل في الذمة لا في الخارج، فانعدام الخارج لا يمنع وجوبه في الذمة فهو الفرق»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (5/ 237):
«أنها إذا لم تخرج الأرض شيئا فلا شيء لواحد منهما لا أجر العمل ولا أجر الأرض سواء كان البذر من قبل العامل أو من قبل صاحب الأرض هكذا في البدائع.»
مجلة الأحكام العدلية» (ص276):
«المادة (1431) المزارعة نوع شركة على كون الأراضي من طرف والعمل من طرف آخر أي أن تزرع الأراضي وتقسم الحاصلات بينهما.
مجلة الأحكام العدلية» (ص276):
«المادة (1432) ركن المزارعة الإيجاب والقبول فعليه إذا قال صاحب الأرض للعامل أي المزارع: أعطيتك هذه الأرض مزارعة على أن تأخذ من الحاصلات كذا حصة وقال الزارع: قبلت أو رضيت أو قال قولا يدل على الرضاء أو قال لصاحب الأرض: أعطني أرضك على وجه المزارعة لأعمل فيها ورضي الآخر تنعقد المزارعة.»
«مجلة الأحكام العدلية» (ص276):
«المادة (1433) يشترط أن يكون العاقدان في المزارعة عاقلين
ولا يشترط بلوغهما فلذلك يجوز للمأذون عقد المزارعة.
المادة (1434) يشترط تعيين الزرع أي ما سيزرع أو تعميمه على أن يزرع الزارع ما يشاء.
المادة (1435) يشترط حين العقد تعيين حصة الزارع من الحاصلات جزءا شائعا كالنصف والثلث فإذا لم تتعين حصته أو تعينت على إعطائه شيئا من غير الحاصلات أو قطعت على مقدار كذا كيلة من الحاصلات فالمزارعة غير صحيحة.
المادة (1436) يشترط أن تكون الأرض صالحة للزراعة وأن تسلم للزارع.
(المادة 1437) إذا فقد شرط من الشروط المذكورة أعلاه تفسد المزارعة.
محمدسعید خان آفریدی
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
29 /محرم الحرام/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعید خان آفریدی بن معین خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


