| 91038 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
2. اگر خلع کا مقدمہ عدالت میں دائر کیا گیا ہو تو اس کا شرعی حکم کیا ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعاً 'خلع' کے لیے شوہر کی رضامندی اور قبولیت ضروری ہوتی ہے۔ چونکہ آپ کا شوہر لاپتہ ہے، اس لیے شرعی طور پر خلع نہیں ہو سکتا۔ آپ نے 2020ء میں عدالت میں جو مقدمہ دائر کیا تھا، اگر عدالت نے شوہر کی گمشدگی اور نان و نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر یک طرفہ ڈگری جاری کر دی ہے، تو یہ شرعاً خلع نہیں بلکہ "فسخِ نکاح" شمار ہوگا۔ اگر عدالت نے شرعی تقاضوں (گواہوں اور مناسب سرکاری تلاش) کو پورا کرتے ہوئے آپ کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے، تو عدتِ طلاق (تین ماہواری) لازم ہوگی، جس کی ابتداء قاضی کے فیصلے کے وقت سے ہوگی،ایسی صورت آپ عدت گزار کر دوسری شادی کر سکتی ہیں۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 145):
وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول بخلاف النوع الأول فإنه إذا قال: خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع الطلاق عليها، سواء قبلت أو لم تقبل؛ لأن ذلك طلاق بغير عوض فلا يفتقر إلى القبول
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي(3/ 441):
(قوله: وشرطه كالطلاق) وهو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك. وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول، بخلاف ما إذا قال خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع
محمدسعید خان آفریدی
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
20/محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعید خان آفریدی بن معین خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


