| 91037 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
ایک خاتون کا سوال ہے کہ اس کی شادی تقریباً سات سال پہلے ہوئی تھی۔ شوہر کا حال یہ تھا کہ شادی سے پہلے بھی وہ گھر سے بھاگ جاتا تھا اور نشہ کرنے کا عادی تھا، لیکن اس کے باوجود والد نے اس کی شادی کردی۔ شادی کے بعد بھی شوہر نشہ کرتا رہا، کئی مرتبہ گھر سے غائب ہوگیا۔ بعد میں گھر والوں نے اسے گھر میں بند رکھا اور اسے نشہ آور اشیاء مہیا کرتے رہے تاکہ وہ دوبارہ نہ بھاگے۔
کچھ عرصہ بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کی حالت بہت خراب ہے، اس کا جگر وغیرہ شدید متاثر ہوچکا ہے۔ پھر رشتہ داروں نے علاج کی غرض سے اسے افغانستان بھیج دیا، لیکن وہاں سے وہ تقریباً تین چار سال سے لاپتہ ہے۔ اب تک اس کے زندہ یا فوت ہونے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں۔
خاتون کا کہنا ہے کہ اس کا ایک بچہ (عمر تقریباً 6 سال) اس کے پاس ہے، جبکہ باقی بچے سسرال والوں کے پاس ہیں اور وہ بچوں کو ماں کے حوالے نہیں کررہے۔ اسی مسئلہ کی وجہ سے خاتون نے 2020ء میں عدالت میں خلع کا کیس بھی دائر کیا تھا۔ اب دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ:
1. ایسی صورت میں جبکہ شوہر کئی سال سے لاپتہ ہو اور اس کے زندہ یا فوت ہونے کا کوئی علم نہ ہو، کیا یہ عورت دوسری شادی کرسکتی ہے یا نہیں؟
2. اگر خلع کا مقدمہ عدالت میں دائر کیا گیا ہو تو اس کا شرعی حکم کیا ہوگا؟
3. بچوں کی حضانت (پرورش اور رکھنے) کا حق شرعاً کس کو حاصل ہے؟
برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1شرعی لحاظ سے آپ کا نکاح اپنے گمشدہ شوہر سے اب تک برقرار ہے، اور جب تک یہ نکاح شرعی طریقے سے ختم نہ ہو جائے، آپ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہیں کر سکتیں۔ گمشدہ شوہر (مفقود الخبر) کے نکاح سے نکلنے کا شرعی اور قانونی طریقہ درج ذیل ہے:
- رپورٹ اور مقدمہ: سب سے پہلے شوہر کی گمشدگی کی رپورٹ متعلقہ پولیس اسٹیشن میں درج کروائیں۔ اگر مناسب تفتیش کے بعد بھی شوہر نہ ملے، تو شرعی عدالت یا فیملی کورٹ میں مقدمہ دائر کرکے اپنا مسئلہ پیش کریں۔
- گواہی: عدالت میں دو دیانت دار گواہوں کے ذریعے اپنا نکاح اور شوہر کی گمشدگی ثابت کریں۔ (اس کے لیے نکاح کے اصل گواہ ہونا شرط نہیں، بلکہ عام شہرت کی بنیاد پر بھی گواہی دی جا سکتی ہے)۔
- سرکاری تلاش: عدالت متعلقہ اداروں (پولیس، نادرا، ایف آئی اے وغیرہ) کے ذریعے شوہر کی تلاش کروائے گی۔ یاد رہے کہ مقدمہ دائر ہونے کے بعد سرکاری اداروں کی تلاش ہی شرعاً معتبر شمار ہوتی ہے۔
- انتظار کی مہلت اور فسخ: اگر سرکاری تلاش کے باوجود شوہر کا سراغ نہ ملے، توعام حالات میں عدالت عورت کو چار سال انتظار کی مہلت دے گی۔ چار سال گزرنے پر بھی شوہر نہ ملے تو عدالت نکاح فسخ کر دے گی۔ اس کے بعد عورت پر عدتِ وفات (چار ماہ دس دن) لازم ہوگی، جس کے بعد وہ دوسری شادی کر سکے گی۔
یہ حکم اس وقت ہے جب عورت عفت و عصمت کے ساتھ چار سال تک انتظار کرسکے اور نان و نفقے کا انتظام ممکن ہو۔
لیکن اگر عورت کے نان و نفقے (خرچے) کا کوئی انتظام نہ ہو، یا بغیر شوہر کے رہنے کی وجہ سے گناہ (فتنہ) میں مبتلا ہونے کا شدید اندیشہ ہو، تو عورت عدالت میں دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی شرعی گواہی کے ساتھ یہ ثابت کرے کہ:
- شوہر طویل عرصے سے غائب ہے۔
- نان و نفقے کے لیے اس نے کوئی مال نہیں چھوڑا۔
- نہ کسی کو نفقے کا ضامن بنایا۔
- اور نہ بیوی نے نفقہ معاف کیا۔
ان حقائق پر عورت عدالت میں حلفیہ بیان دے تو عدالت فوری طور پر شوہر کی مناسب تلاش کا حکم دے گی۔ اگر تلاش کے باوجود شوہر نہ ملے، تو عدالت مزید انتظار کیئے بغیر نکاح فسخ کر دے گی۔ واضح رہے کہ آخری دونوں صورتوں (نان و نفقے نہ ہونے یا گناہ کے اندیشے کی بنا پر فسخ) میں عورت پر عدتِ طلاق (تین ماہواری) لازم ہوگی، جس کی ابتداء قاضی کے فیصلے کے وقت سے ہوگی۔
حوالہ جات
فی البحر:
(قولہ ولا یفرق بینہ وبینھا : أی بین زوجتہ ، لقولہ فی امرأۃ المفقود : انھا امرأتہ حتی یأتیھا البیان ، و قول فیھا : ھی امرأۃ ابتلیت فلتصبر حتی یتبین موت أو طلاق اھــ [ج:۵،ص:۱۶۴]
فی شرح الجلیل علی مختصر الخلیل :
فیؤجل أربع سنین ان دامت نفقتھا ۔۔۔فان لم تدم نفقتھا من مالہ فلھا التطلیق لعدم النفقۃ بلا تأجیل ، وکذا ان خشیت علی نفسھا الزنا فیزاد علی دوام نفقتھا عدم خشیتھا الزنا ۔[ج:۲،ص:۳۸۵]
فی حاشیۃ الدسوقی :
فیؤجل أی المفقود الحر أربع سنین ان دامت نفقتھا من مالہ والا طلق علیہ لعدم النفقۃ اھـ [ج:۲،ص:۴۷۹]
وفی الشرح الصغیر :
والا فلھا التطلیق علیہ لعدم النفقۃ ۔۔۔۔أی ولم تخش العنت والا فتطلق علیہ لضرر فھی أولی من معدومۃ النفقۃ ۔[ج:۲،ص:۶۹۴]
وفی الفقہ الاسلامی وأدلتہ للشیخ الزحیلی :
ورأی المالکیۃ والحنابلۃ جواز التفریق للغیبۃ اذا طالت تضررت الزوجۃ بھا ، ولو ترک لھا الزوج مالا تنفق منہ اثناء الغیاب ، لأن الزوجۃ تتضرر من الغیبۃ ضرراً بالغاً ، والضرر یدفع بقدر الامکان لقولہ ا :’’لاضرر ولا ضرار‘‘۔۔۔وجعلوا حد الغیبۃ الطویلۃ سنۃ فاکثر علی المعتمد ، وفی قول ثلا ث سنوات اھــ [ج:۷،ص:۵۳۳]
وفی الأحوال الشخصیۃ للشیخ محمد ابو زھرۃ :
والتفریق للتضرر من الغیاب ھو مذہب مالک وأحمد ، لا مرأۃ قد تقع فی جریمۃ دینیۃ باھما لھا ۔۔۔۔۔ ولا بد للتفریق بالغیاب ان تمضی مدۃ تستو حش فیھا الزوجۃ وتتضرر فعلا ، لأن الفرقۃ بسبب ذٰلک ھی للضر الواقع لا للتضرر المتوقع فقط ، وقد جعل أحمد ادنیٰ مدۃ یجوز أن تطلب التفریق بعدھا ستۃ أشھر ۔۔۔۔۔ أما مذہب مالک رضی اللّٰہ عنہ فقد اختلف فی الحد الأدنی للتضرر ، فقیل : ثلاث سنین ، قیل : سنۃ وبھذا أخذ القانون اھــ [ص:۳۹۰]
وفی الشرح الصغیر :
وتعتد زوجتۃ المفقود حرۃ أو أمۃ صغیرۃ أو کبیرۃ فی أرض الاسلام متعلق بالمفقود عدۃ وفاۃ علی ماتقدم ، ابتداء ھا بعد الأجل اھــ [ج:۲،ص:۶۹۴]
وفی شرح منح الجلیل :
ثم بعد التلوم و عدم وجدان النفقۃ والکسوۃ طلق وان کان غائبا ۔۔۔۔ یعنی ان الغائب العبید الغیبۃ ولیس لہ مال أو لہ مال لا یمکنھا الوصول الیہ الا بمشقۃ حکمہ حکم العاجز الحاضر اھــ۔وفیہ : ولہ أی الزوج المطلق علیہ لعم النفقۃ الرجعۃ للزوجۃ المطلقۃ لأنہ طلاق رجعی ، ابن عرفۃ۔[ج:۲،ص:۴۴۳]
وفی آخر فتویٰ العلامۃ ھاشم رحمہ اللّٰہ تعالیٰ مفتی المالکیۃ بالمدینۃ المنورۃ زاداھا اللّٰہ شرفا :
وھذا (التطلیق ) بعد التلوم بنحو شھرا أو باجتھاد عند المالکیۃ (یعنی فی صورۃ عدم النفقۃ ) ۔۔۔۔۔ وان کان لخوفھا الزنا وتضررھا بعدم الوطی والعنانۃ مع وجود النفقۃ والغنا فبعد صبرھا سنۃ فأکثر عند جل الما لکیۃ اھــ۔[احیلۃ الناجزۃ ،ص:۱۲۴]
محمدسعید خان آفریدی
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
20 /محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعید خان آفریدی بن معین خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


