| 90707 | جنازے کےمسائل | ایصال ثواب کے احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ہم اپنی برادری کے لیے ایک "قبرستان فنڈ کمیٹی" قائم کرنا چاہتے ہیں، جس کو چلانے کے لیے ہم نے درج ذیل قواعد و ضوابط طے کیے ہیں:
قبرستان فنڈ کمیٹی (شرائط و ضوابط):
- فنڈ کی ادائیگی: ہر شادی شدہ مرد ماہانہ 1000 روپے اس فنڈ میں جمع کروانے کا پابند ہوگا۔
- قبرستان کا انتظام اور سامانِ تجہیز و تکفین: جمع شدہ رقم سے سب سے پہلے قبرستان کے لیے زمین خریدی جائے گی۔ اس کے علاوہ قبر کھودنے اور میت کے لیے ضروری سامان خریدا جائے گا۔
- نئے اراکین کی شمولیت: کمیٹی بننے کے ایک سال یا چند ماہ بعد جو شخص اس کمیٹی میں شامل ہونا چاہے گا، اس کے ذمے لازم ہوگا کہ وہ گزشتہ تمام مہینوں کے بقایا جات (بحساب 1000 روپے ماہانہ) جمع کروائے۔
- نئی شادی پر شمولیت: برادری کا جو بھی نوجوان نئی شادی کرے گا، وہ بھی اس کے بعد مقررہ ترتیب کے مطابق فنڈ میں ماہانہ 1000 روپے جمع کروائے گا۔
- مالی امداد کی فراہمی: جب قبرستان کے لیے زمین خرید لی جائے گی اور اس کی چار دیواری بھی مکمل ہو جائے گی، تو اس کے بعد فنڈ میں جمع شدہ رقم سے (بوقتِ ضرورت) میت کے اہلِ خانہ کو مالی امداد دی جائے گی۔
- انتظامی کمیٹی کا قیام: اس پورے نظام کو چلانے اور نگرانی کے لیے باقاعدہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
- اتحاد و اتفاق: کمیٹی اور برادری کے افراد پرانی باتوں اور رنجشوں کو دوبارہ نہیں دہرائیں گے تاکہ باہمی اتفاق برقرار رہے۔
- رکنیت کا خاتمہ: جو شخص دورانِ رکنیت اپنی مرضی سے کمیٹی چھوڑ دے گا، اسے جمع کرائی گئی کوئی رقم واپس نہیں ملے گی اور نہ ہی اسے کمیٹی کی طرف سے کسی قسم کی مالی امداد دی جائے گی۔
- عدم ادائیگی پر اخراج: جو شخص مسلسل تین ماہ تک فنڈ کا چندہ جمع نہیں کروائے گا، اسے کمیٹی کی رکنیت سے خارج کر دیا جائے گا۔
- اخراج پر رقم کی عدم واپسی: جس شخص کی رکنیت مسلسل عدم ادائیگی کی بنا پر ختم کر دی جائے گی، اسے بھی اس کی جمع شدہ رقم واپس نہیں کی جائے گی۔
- خزانچی اور بینک اکاؤنٹ: انتظامی کمیٹی کے اراکین میں سے ایک فرد کو خزانچی مقرر کیا جائے گا، جو تمام رقم کا نگران ہوگا۔ کمیٹی کا بینک اکاؤنٹ بھی اسی خزانچی کے ذاتی نام سے کھولا جائے گا۔
- برادری کی خواتین کے حقوق: ہماری برادری کی وہ بیٹیاں اور بہنیں جن کی شادی برادری سے باہر ہوئی ہے، وہ بھی بوقتِ ضرورت ہمارے قبرستان کی زمین (تدفین کے لیے) استعمال کر سکتی ہیں۔ نیز، اگر ان کے سسرال والے غریب ہوں، تو کمیٹی انہیں مالی امداد بھی فراہم کرے گی۔
- قواعد میں ترمیم: مستقبل میں باہمی اتفاق اور مشاورت کے ساتھ کمیٹی کی ان شرائط و ضوابط میں ترمیم کی جا سکے گی۔
سوال یہ ہے کہ: براہِ کرم شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں جائزہ لے کر بتائیں کہ کیا مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ اس کمیٹی کا قیام شرعاً جائز ہے؟ اگر ان میں کوئی شرعی قباحت یا سقم موجود ہے تو ہماری رہنمائی فرمائیں، اور ناجائز شرائط کا متبادل اور درست شرعی طریقہ کار بیان فرما کر عند اللہ ماجور ہوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مسلمانوں کی تجہیز و تکفین اور قبرستان کا انتظام کرنے کے لیے باہمی تعاون کا نظم بنانا شرعاً ایک نہایت مستحسن عمل اور کارِ ثواب ہے۔ آپ حضرات نے اپنی برادری کے لیے جو قبرستان فنڈ کمیٹی قائم کرنے اور زمین خریدنے کا ارادہ کیا ہے، اس کے حوالے سے شرعی رہنمائی دو حصوں پر مشتمل ہے: پہلا حصہ قبرستان کی زمین کے وقف سے متعلق ہے اور دوسرا حصہ فنڈ وصول کرنے کے قواعد و ضوابط سے متعلق ہے۔
پہلا حصہ: مخصوص برادری کے لیے قبرستان کا قیام (وقفِ خاص) واضح رہے کہ واقف (وقف کرنے والے) کی نیت کے مطابق قبرستان عام یا خاص ہو سکتا ہے۔ اگر آپ حضرات مشترکہ طور پر چندہ کر کے زمین خریدنا چاہتے ہیں اور اسے باہمی رضامندی سے مخصوص برادری کے لیے وقف کرنا چاہتے ہیں، تو یہ شرعاً درست اور باعثِ ثواب ہے۔ اس کی درست صورت یہ ہوگی کہ بغیر تعیین کے رضاکارانہ چندہ کیا جائے، جو شخص جتنی رقم خوشی سے دینا چاہے وہ دے، اور اس رقم سے زمین خرید کر برادری کے قبرستان کے لیے وقف کر دی جائے۔ چونکہ یہ "وقفِ خاص" ہوگا، اس لیے مالکان (یا منتظمین) کی اجازت کے بغیر دوسرے لوگوں (غیر متعلقہ افراد) کا اس میں میت کا دفن کرنا جائز نہیں ہوگا۔ البتہ سائلین نے شق نمبر 12 میں برادری سے باہر بیاہی گئی بیٹیوں کو اس قبرستان میں دفن کرنے اور مالی امداد فراہم کرنے کی جو شرط ذکر کی ہے، شرعاً وہ بالکل درست ہے۔ فقہی قاعدہ ہے کہ "شرط الواقف كنص الشارع" (وقف کرنے والے کی شرط شارع کی نص کی طرح ہوتی ہے)، لہٰذا واقفین (زمین وقف کرنے والے) اپنی شرائط میں ان بیٹیوں کے حقوق شامل کر سکتے ہیں اور اس کی پاسداری کی جائے گی۔ البتہ قبرستان کے لئے وہ زمین وقف کردینے کے بعد چونکہ یہ زمین تاقیامت واقفین کی ملکیت سےنکل کر اللہ رب العزت کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے، لہذا اس کی خرید وفروخت کرنا، اس کو ہبہ کرنا، کسی کو مالک بنانا اور اس کو میراث میں تقسیم کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا۔
دوسرا حصہ: کمیٹی کے مجوزہ قواعد و ضوابط کا شرعی جائزہ قبرستان کا وقف خاص ہونا تو درست ہے، لیکن اس مقصد کی خاطر فنڈز کی وصولی کے لیے آپ نے جو 13 شرائط ذکر کی ہیں، شریعت کی روشنی میں ان شرائط کے ساتھ یہ کمیٹی بنانا جائز نہیں ہے۔ ان میں درج ذیل شرعی قباحتیں پائی جاتی ہیں:
- جوئے (قمار) اور انشورنس کی مشابہت: آپ کی شرائط (شق 1، 3، 4، 5 اور 9) کے مطابق فنڈ دینا لازمی ہے، نئے ممبر سے بقایا لیا جائے گا، اور فنڈ نہ دینے پر مالی امداد ختم کر دی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر ممبر اپنی رقم کے بدلے مستقبل کی سہولیات خرید رہا ہے۔ شریعت میں رقم دے کر اس طرح مشروط مالی سہولیات لینا قمار (جوئے) اور انشورنس کے مشابہ ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔
- دلی رضامندی (طیبِ نفس) کا نہ ہونا: جب 1000 روپے کی لازمی شرط لگائی جائے گی، تو غریب افراد محض برادری کے طعنوں سے بچنے کے لیے رقم دیں گے۔ حدیث کی رو سے کسی مسلمان کا مال اس کی دلی خوشی کے بغیر حلال نہیں۔
- مال کی ناجائز ضبطی: شق 8 اور 10 کے مطابق رکنیت چھوڑنے پر رقم واپس نہیں دی جائے گی۔ چونکہ آپ نے ابتدا میں اس فنڈ کو "وقف" قرار نہیں دیا، اس لیے شرعاً یہ رقم چندہ دینے والوں کی ملکیت ہے۔ کسی کی ملکیت کو بطریقِ جرمانہ ضبط کر لینا جائز نہیں۔
- غمی کے موقع پر مالی امداد اور دعوتوں کی قباحت: اگر امداد کا مقصد برادری اور مہمانوں کی دعوتوں کا خرچہ اٹھانا ہے، تو یہ ناجائز اور بدعت ہے۔ شریعت میں صرف میت کے اہلِ خانہ کو پڑوسیوں کی طرف سے ایک دن کا سادہ کھانا کھلانا مستحب ہے۔ دور دراز کے لوگوں کو جمع کر کے ضیافتیں اڑانا گناہ کے کام میں تعاون ہے۔
متبادل اور درست شرعی طریقہ کار شریعت کے لحاظ سے فوتگی کے موقع پر اہلِ میت کے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اہل میت کے لیے کھانے وغیرہ کا انتظام کریں، لیکن چونکہ آج کل لوگ اس میں غفلت برتتے ہیں، اس لیے لوگوں کو سہولت کے لیے اس کا باقاعدہ نظم بنانا پڑتا ہے، تاکہ ایسے موقع پر پریشانی سے بچا جاسکے، لہذا اس مقصد کے لیے کمیٹی بنانے کی گنجائش ہے۔ آپ کی قائم کردہ کمیٹی کی بنیاد درست ہے، البتہ کچھ باتیں قابل توجہ ہیں، ان کو تبدیل کرنے اور پورے طریقہ کار کو شریعت کے مطابق کرنے کے لیے تفصیل ذکر کی جارہی ہے:
- شروع میں چند لوگ مل کر کچھ رقم جمع کرکے اپنی رضامندی سے ایک وقف قائم کریں، جس کی آخری جہت فقراء ومساکین ہوں، یعنی یہ طے کیا جائے کہ اگر کبھی یہ وقف ختم کرنا پڑا تو اس میں موجود رقم فقراء ومساکین پر خرچ کی جائے گی۔ (یہ یاد رہے کہ جتنی رقم سے شروع میں وقف قائم کیا جائے گا اتنی رقم وقف میں باقی رکھنا ضروری ہو گا، اس کے علاوہ بطور فنڈ دی جانے والی رقم خرچ کی جاسکے گی)
- اس وقف کی شرائط میں یہ بھی لکھا جائے کہ جو شخص اس وقف کو ماہانہ اتنا چندہ دے گا تو اس وقف کی پہلی ترجیح یہ ہوگی کہ اس کے گھر میں فوتگی کی صورت میں اس کے ساتھ حسبِ استطاعت تعاون کیا جائے گا، نیز یہ تعاون چندہ کی رقم کی کمی بیشی کے ساتھ مربوط نہیں ہو گا، بلکہ وقف کے منتظمین متاثرہ گھرانے کی مالی حیثیت اور مہمانوں کی تعداد وغیرہ کا لحاظ رکھتے ہوئے تعاون کی مقدار کا فیصلہ کریں گے۔
- چندہ دہندگان کو قانونی طور پر اور نقدی کی صورت میں اس تعاون کے مطالبے کا حق حاصل نہیں ہو گا۔
- وقف میں یہ شرط بھی رکھی جائے کہ وقتاً فوقتاً یہ وقف دیگر غرباء (جو اس وقف کو چندہ نہیں دیتے) کے افراد کے فوت ہونے پر بھی حسبِ استطاعت ایک معتد بہ اور خاطرخواہ مقدار میں خرچ كرے گا۔
- چندہ دینے پر کسی شخص کو مجبور نہ کیا جائے اور نہ خاندان کے ان لوگوں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے جو اس وقف کو چندہ نہ دینا چاہتے ہوں، بلکہ حسبِ صوابديد اپنی خوشی سے جو شخص چاہے اس وقف کو چندہ دینے والوں میں شامل ہو، البتہ وقف کی مصلحت کے لیے چندے کی کم از کم حد مقرر کرکے صاحبِ استطاعت لوگوں کو اتنا چندہ دینے کی ترغیب دی جاسکتی ہے۔
- وقف كا ممبر بننے كے ليے حقيقی اخراجات (کاغذی کاروائی وغیرہ اگر ہوتی ہو اور اس پر خرچہ آتاہو تو جتنا خرچہ آیا ہے)کے علاوہ کسی قسم کی کوئی رقم وصول نہ کی جائے، نیز اگر کوئی ممبر غریب ہو اور وہ وسعت نہ ہونے کی وجہ سے کبھی طے شدہ رقم سے کم دے تو اس کی بھی گنجائش رکھی جائے۔
- امیر اور غریب سب پر برابر رقم خرچ کی جائے، نیز عام حالات میں ایک دن سے زیادہ کھانے کا اہتمام نہ کیا جائے، البتہ اگر باہر کے مہمان زیادہ ہوں اور دور سے آئے ہوں تو ایک دن سے زیادہ بھی کھانے وغیرہ کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔
- فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اہلِ میت کے رشتہ داروں اور پڑوسیو ں كےليے اہلِ میت كو عام حالات میں صرف ایک دن اور ایک رات کا کھانا کھلانا مستحب قرار دیا ہے، کیونکہ اس دن اہل میت تجہیز و تکفین میں مشغول ہوتے ہیں، بلاضرورت دوسرے اور تیسرے دن کھانے کا انتظام شریعت سے ثابت نہیں، البتہ اگر رشتہ دار دوردراز سے آئے ہوں اور دوسرے یا تیسرے دن بھی ضرورت ہو تو بقدرِ ضرورت اس کی گنجائش ہوگی۔
- بینک اکاؤنٹ کا قیام: (سائلین کی شق 11 کی اصلاح) وقف کی رقم کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ بینک اکاؤنٹ خزانچی کے ذاتی نام پر ہونے کے بجائے کمیٹی یا وقف کے نام پر، یا کم از کم دو سے تین ممبران کے جوائنٹ اکاؤنٹ (Joint Account) کے طور پر کھلوایا جائے، تاکہ رقم خزانچی کی ذاتی ملکیت اور اس کے ترکے (وراثت) کے ساتھ خلط ملط نہ ہو اور وفات کی صورت میں کوئی قانونی یا شرعی تنازع پیدا نہ ہو۔
مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ وقف قائم ہونے کے بعد چندہ دینے والے افرادکے گھر میں فوتگی ہونےپر وقف کی انتظامیہ کو وقف کے طے شدہ اصول وضوابط کے مطابق اہلِ میت کے ساتھ تعاون کرنے کی اجازت ہو گی، نیز ایسی صورت میں اس وقف میں جمع شدہ رقم پر زکوۃ بھی لازم نہیں ہوگی اور ممبر شپ ختم کرنے والے یا فوت ہونے والےشخص کی جمع کی گئی رقم واپس کرنا بھی ضروری نہ ہو گا،کیونکہ ان کی دی گئی رقم ان کی ملکیت سے نکل کر وقف فنڈ کی ملکیت بن جائے گی۔
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (4/ 351):
«واختلف الترجيح، والأخذ بقول الثاني أحوط وأسهل بحر وفي الدرر وصدر الشريعة وبه يفتى وأقره المصنف.»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (4/ 351):
«قوله: واختلف الترجيح) مع التصريح في كل منهما بأن الفتوى عليه لكن في الفتح أن قول أبي يوسف أوجه عند المحققين.»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (4/ 352):
«(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن)»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (4/ 348):
«(ويفرز) فلا يجوز وقف مشاع يقسم خلافا للثاني»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (4/ 348):
(قوله: ويفرز) أي بالقسمة وهذا الشرط وإن كان مفرعا على اشتراط القبض؛ لأن القسمة من تمامه إلا أنه نص عليه إيضاحا وأبو يوسف لما لم يشترط التسليم أجاز وقف المشاع، والخلاف فيما يقبل القسمة، أما ما لا يقبلها كالحمام والبئر والرحى فيجوز اتفاقا إلا في المسجد والمقبرة لأن بقاء الشركة يمنع الخلوص لله تعالى نهر وفتح»
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي(4/ 384):
(وجاز جعل غلة الوقف) أو الولاية (لنفسه عند الثاني) وعليه الفتوى .
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (4/ 366):
شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به .
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي(4/ 445):
على أنهم صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (4/ 343):
فإن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالك، فله أن يجعل ماله حيث شاء ما لم يكن معصية وله أن يخص صنفا من الفقراء ولو كان الوضع في كلهم قربة.
السنن الكبرى للبيهقي "(6/ 166):
عن علي بن زيد، عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه ".
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (6/ 403):
لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص.
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (2/ 142):
ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (2/ 240):
ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله صلى الله عليه وسلم «اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم» حسنه الترمذي وصححه الحاكم ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (2/ 205):
(وكفن من لا مال له على من تجب نفقته) فإن تعددوا فعلى قدر ميراثهم.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (2/ 205):
(قوله فعلى قدر ميراثهم) كما كانت النفقة واجبة عليهم فتح أي فإنها على قدر الميراث، فلو له أخ لأم وأخ شقيق فعلى الأول السدس والباقي على الشقيق. أقول: ومقتضى اعتبار الكفن بالنفقة أنه لو كان له ابن وبنت كان عليهما سوية كالنفقة؛ إذ لا يعتبر الميراث في النفقة الواجبة على الفرع لأصله؛ ولذا لو كان له ابن مسلم، وابن كافر فهي عليهما، ومقتضاه أيضا أنه لو كان للميت أب وابن كفنه الابن دون الأب كما في النفقة على التفاصيل الآتية في بابها إن شاء الله تعالى. [تنبيه]
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (2/ 206):
واختلف في الزوج والفتوى على وجوب كفنها عليه) عند الثاني (وإن تركت مالا) خانية ورجحه في البحر بأنه الظاهر لأنه ككسوتها»
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (2/ 206):
مطلب في كفن الزوجة على الزوج (قوله: واختلف في الزوج) أي في وجوب كفن زوجته عليه (قوله عند الثاني) أي أبي يوسف وأما عند محمد فلا يلزمه لانقطاع الزوجية بالموت، وفي البحر عن المجتبى أنه لا رواية عن أبي حنيفة لكن ذكر في شرح المنية عن شرح السراجية لمصنفها أن قول أبي حنيفة كقول أبي يوسف (قوله: وإن تركت مالا إلخ) اعلم أنه اختلفت العبارات في تحرير قول أبي يوسف ففي الخانية والخلاصة والظهيرية: أنه يلزمه كفنها، وإن تركت مالا وعليه الفتوى وفي المحيط والتجنيس والواقعات وشرح المجمع لمصنفه إذا لم يكن لها مال فكفنها على الزوج وعليه الفتوى وفي شرح المجمع لمصنفه إذا ماتت ولا مال لها فعلى الزوج الموسر اهـ ومثله في الأحكام عن المبتغى بزيادة وعليه الفتوى ومقتضاه أنه لو معسرا لا يلزمه اتفاقا وفي الأحكام أيضا عن العيون كفنها في مالها إن كان وإلا فعلى الزوج ولو معسرا ففي بيت المال. اهـ. والذي اختاره في البحر لزومه عليه موسرا أو لا لها مال أو لا لأنه ككسوتها وهي واجبة عليه مطلقا قال: وصححه في نفقات الولوالجية. اهـ. قلت: وعبارتها إذا ماتت المرأة، ولا مال لها قال أبو يوسف: يجبر الزوج على كفنها، والأصل فيه أن من يجبر على نفقته في حياته يجبر عليها بعد موته، وقال محمد: لا يجبر الزوج والصحيح الأول اهـ فليتأمل.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي(2/ 206):
[تنبيه] قال في الحلية: ينبغي أن يكون محل الخلاف ما إذا لم يقم بها مانع الوجوب عليه حالة الموت من نشوزها أو صغرها ونحو ذلك اهـ وهو وجيه لأنه إذا اعتبر لزوم الكفن بلزوم النفقة سقط بما يسقطها. ثم اعلم أن الواجب عليه تكفينها وتجهيزها الشرعيان من كفن السنة أو الكفاية وحنوط وأجرة غسل وحمل ودفن دون ما ابتدع في زماننا من مهللين وقراء ومغنين وطعام ثلاثة أيام ونحو ذلك، ومن فعل ذلك بدون رضا بقية الورثة البالغين يضمنه في ماله.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (2/ 206):
وإن لم يكن ثمة من تجب عليه نفقته ففي بيت المال فإن لم يكن) بيت المال معمورا أو منتظما (فعلى المسلمين تكفينه) فإن لم يقدروا سألوا الناس له ثوبا فإن فضل شيء رد للمصدق إن علم وإلا كفن به مثله، وإلا تصدق به مجتبى وظاهره أنه لا يجب عليهم إلا سؤال كفن الضرورة لا الكفاية ولو كان في مكان ليس فيه إلا واحد، وذلك الواحد ليس له إلا ثوب لا يلزمه تكفينه به.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (2/ 206):
قوله فإن لم يكن بيت المال معمورا) أي بأن لم يكن فيه شيء أو منتظما أي مستقيما بأن كان عامرا ولا يصرف مصارفه ط (قوله فعلى المسلمين) أي العالمين به وهو فرض كفاية يأثم بتركه جميع من علم به ط (قوله فإن لم يقدروا) أي من علم منهم بأن كانوا فقراء (قوله وإلا كفن به مثله) هذا لم يذكره في المجتبى بل زاده عليه في البحر عن التجنيس والواقعات. قلت: وفي مختارات النوازل لصاحب الهداية: فقير مات فجمع من الناس الدراهم وكفنوه وفضل شيء إن عرف صاحبه يرد عليه وإلا يصرف إلى كفن فقير آخر أو يتصدق به.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (2/ 240):
قوله وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله صلى الله عليه وسلم «اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم» حسنه الترمذي وصححه الحاكم ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون.
"سنن الترمذي "(2/ 314):
عن عبدﷲبن جعفر قال: لما جاء نعي جعفر، قال النبي صلى ﷲ عليه وسلم: اصنعوا لأهل جعفر طعاما، فإنه قد جاءهم ما يشغلهم. هذا حديث حسن". قال الملا علی القارئ رحمہ اللہ :" والمعنى جاءهم ما يمنعهم من الحزن عن تهيئة الطعام لأنفسهم فيحصل لهم الضرر وهم لا يشعرون قال الطيبي دل على أنه يستحب للأقارب والجيران تهيئة طعام لأهل الميت اه والمراد طعام يشبعهم يومهم وليلتهم فإن الغالب أن الحزن الشاغل عن تناول الطعام لا يستمر أكثر من يوم وقيل يحمل لهم طعام إلى ثلاثة أيام مدة التعزية ثم إذا صنع لهم ما ذكر سن أن يلح عليهم في الأكل لئلا يضعفوا بتركه استحياء أو لفرط جزع".
"رد المحتار"(4/ 363):
وقال المصنف في المنح: ولما جرى التعامل في زماننا في البلاد الرومية وغيرها في وقف الدراهم والدنانير دخلت تحت قول محمد المفتى به في وقف كل منقول فيه تعامل كما لا يخفى؛ فلا يحتاج على هذا إلى تخصيص القول بجواز وقفها بمذهب الإمام زفر من رواية الأنصاري والله تعالى أعلم، وقد أفتى مولانا صاحب البحر بجواز وقفها ولم يحك خلافا. اهـ.
"بدائع الصنائع" (2/ 9): "
وأما الشرائط التي ترجع إلى المال فمنها: الملك فلا تجب الزكاة في سوائم الوقف والخيل المسبلة لعدم الملك وهذا؛ لأن في الزكاة تمليكا والتمليك في غير الملك لا يتصور. ولا تجب الزكاة في المال الذي استولى عليه العدو وأحرزوه بدراهم عندنا؛ لأنهم ملكوها بالإحراز عندنا فزال ملك المسلم عنها".
محمدسعید خان آفریدی
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
7/محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعید خان آفریدی بن معین خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


