| 90740 | جائز و ناجائزامور کا بیان | بچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل |
سوال
مرحا نام رکھنا ٹھیک ھے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرْحَا: (Mirha) (میم کے نیچے زیر ’ِ‘، را ساکن ’‘، ح کے اوپر زبر ’‘ اور آخر میں الف)۔ یہ لفظ ان حرکات کے ساتھ مستند عربی لغات میں نہیں ملتا، البتہ بعض لوگ لاعلمی میں یہی تلفظ استعمال کرتے ہیں۔ لغت میں موجود نہ ہونے اور بے معنیٰ ہونے کی وجہ سے یہ نام نہیں رکھنا چاہیے۔
مرْحَة: (Mirha) (میم کے نیچے زیر ’ِ‘، را ساکن ’‘، ح کے اوپر زبر ’‘ اور آخر میں گول تاء ’ة‘)۔ اس کے معنی "تکبر" اور "خشک انگور (کشمش) کے ڈھیر" (الأنبار من الزبيب) کے ہیں۔ تکبر کے معنیٰ کی وجہ سے یہ نام رکھنا درست نہیں۔
ناموں کے سلسلے میں بہتر اور بابرکت عمل یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کوئی نام رکھا جائے، یا کوئی ایسا اچھا عربی نام منتخب کیا جائے جس کے معنی اور مفہوم واضح اور عمدہ ہوں۔
حوالہ جات
(معجم الرائد ص 728)
"مِرحة : (معجم الرائد) (اسم) 1- مرحة : النوع من مرح 2- مرحة : أكداس من الزبيب وغيره.
(معجم الوسیط ص861)
المِرْحَةُ : (معجم الوسيط) المِرْحَةُ : الأنبارُ من الزَّبيب ونحوه".
محمدسعید خان آفریدی
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
8/محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعید خان آفریدی بن معین خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


