| 90907 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیانِ عظام درج ذیل مسئلے کے بارے میں کہ:
زید کی پردوں کی ایک دکان ہے، جس میں عمرو بطور سیلز مین ماہانہ تنخواہ پر کام کرتا ہے۔ اس دکان میں مختلف کمپنیوں کے کپڑوں کے کئی کیٹلاگ (Catalogs) رکھے ہوتے ہیں۔ جب کوئی گاہک آتا ہے، تو وہ انہی کیٹلاگ میں سے کپڑا پسند کرتا ہے اور پھر دکاندار اسی کپڑے کا پردہ بنا کر گاہک کو دیتا ہے۔
اب ایک اور کمپنی اپنا کیٹلاگ لے کر آتی ہے اور سیلز مین (عمرو) سے کہتی ہے کہ: "یہ ہمارا کیٹلاگ ہے، اگر آپ نے گاہک کو یہ کیٹلاگ دکھایا اور اس نے ہمارے کیٹلاگ سے پردوں کے لیے کپڑا پسند کر لیا، تو اس پردے میں جتنا میٹر کپڑا لگے گا، اس پر فی میٹر ایک روپیہ آپ کا کمیشن ہوگا۔"
اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مثلاً: کپڑے کا اصل ریٹ 10 روپے فی میٹر ہے، لیکن کمپنی دکان کے مالک (زید) کو وہ کپڑا 11 روپے فی میٹر کے حساب سے فروخت کرتی ہے، اور بعد میں وہ اضافی ایک روپیہ عمرو کو دکان کے مالک سے چھپا کر دے دیتی ہے۔
دریافت طلب امور یہ ہیں:
- کیا شرعی اصطلاح میں یہ رقم "کمیشن" کہلائے گی؟
- کیا تنخواہ دار ملازم (عمرو) کے لیے دکان کے مالک سے چھپا کر اس طرح کا کمیشن/رقم لینا شرعاً درست ہے یا نہیں؟
قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں عمرو (سیلز مین) دکان میں بیک وقت دو شرعی حیثیتیں رکھتا ہے: ایک طرف وہ ماہانہ تنخواہ دار ہونے کی وجہ سے زید کا "اجیرِ خاص" ہے، اور دوسری طرف مال فروخت کرنے اور گاہکوں سے معاملات طے کرنے کا اختیار ملنے کی وجہ سے زید کا نمائندہ یعنی "وکیل بالبیع" ہے۔
ان دونوں حیثیتوں کی رو سے اس کا یہ عمل شرعاً ناجائز ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
1: اجیرِ خاص کی حیثیت سے: شرعی اصول کی رو سے اجیرِ خاص وہ ہوتا ہے جس کے ساتھ یہ شرط ہو کہ وہ متعین وقت میں صرف مستاجر (مالک) کا کام کرے گا۔ چونکہ عمرو تنخواہ دار ملازم ہے، لہٰذا وہ مارکیٹ کا آزاد "دلال" (کمیشن ایجنٹ) شمار نہیں ہوگا اور اس کے لیے ڈیوٹی کے اوقات میں مالک کی اجازت کے بغیر کسی تیسری پارٹی (کمپنی) کے مفاد میں کام کرنا جائز نہیں۔
2: وکیل (امین) کی حیثیت سے: چونکہ زید نے عمرو کو اپنی دکان پر مال بیچنے کا حکم اور اجازت دے رکھی ہے، اس لیے فقہِ اسلامی کی رو سے وہ "وکیل بالبیع" (بیچنے کا ایجنٹ) ہے۔ وکیل درحقیقت اپنے مؤکل (مالک) کا نائب اور امین ہوتا ہے۔ لہٰذا، اس پر لازم ہے کہ وہ ہر معاملے میں اپنے مالک کے مفاد کا تحفظ کرے۔ زیرِ بحث صورت میں عمرو 10 روپے والا کپڑا جان بوجھ کر 11 روپے میں خریدوا رہا ہے تاکہ اپنا ایک روپیہ نکال سکے۔ یہ اپنے ہی مؤکل (مالک) کی پیٹھ پیچھے صریح دھوکہ اور امانت میں بدترین خیانت ہے۔
لہٰذا عمرو کا کمپنی سے یہ ایک روپیہ وصول کرنا زبردست دھوکہ دہی ہے۔ نیز، کمپنی کی طرف سے عمرو کو دی جانے والی یہ رقم "رشوت" کے حکم میں داخل ہے جو کہ شرعاً حرام ہے۔
آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:
- یہ رقم شرعی اصطلاح میں ہرگز "کمیشن" نہیں ہے، بلکہ یہ زید (مالک) کے ساتھ دھوکہ (غش)، امانت میں خیانت اور کمپنی کی طرف سے دی گئی رشوت ہے۔
- عمرو کے لیے دکان کے مالک سے چھپا کر یہ رقم لینا قطعی طور پر حرام اور ناجائز ہے، اس لیے کہ وہ اجیرِ خاص اور وکیل ہونے کی حیثیت سے اپنے مالک کا امین ہے اور اس پر لازم ہے کہ وہ پوری دیانتداری سے صرف اپنے مالک کے مفاد کا تحفظ کرے۔
حوالہ جات
«سنن الترمذي» (3/ 157):
«72 - باب ما جَاءَ في كَرَاهِيةِ الغِشِّ في البُيُوعِ
1362 - حَدَّثَنا عَلِيُّ بنُ حُجْرٍ، قال: أخْبَرَنا إسْمَاعِيلُ بنُ جَعْفَرٍ، عن العَلاءِ بنِ عبدِ الرحمنِ، عن أبيهِ عن أبي هُرَيْرَةَ؛ أنَّ رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى صُبْرَةٍ من طَعَامٍ، فأدْخَلَ يَدَهُ فيهَا، فَنالَتْ(1) أصَابِعُهُ بَللًا، فقال: "يا صَاحِبَ الطَّعامِ ما هذا"؟ قال: أصَابَتْهُ السّماءُ، يَا رسولَ اللهِ، قال: "أفَلا جَعَلتَهُ فَوقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ؟ " ثمَّ قال: "من غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا".
وفي البابِ عن ابنِ عُمَرَ، وأبي الحَمْرَاءِ، وابنِ عَبَّاسٍ، وبُرَيْدَةَ، وأبي بُرْدَةَ بنِ نِيَارٍ، وحُذَيْفةَ بنِ اليمَانِ.
حديثُ أبي هُرَيْرَةَ حديثٌ حسنٌ صحيحٌ.»
«مجلة الأحكام العدلية» (ص81):
«(المادة 422) : الأجير على قسمين: القسم الأول هو الأجير الخاص الذي استؤجر على أن يعمل للمستأجر فقط كالخادم الموظف. القسم الثاني هو الأجير المشترك الذي ليس بمقيد بشرط ألا يعمل لغير المستأجر كالحمال والدلال والخياط والساعاتي والصائغ وأصحاب كروسات الكراء وأصحاب الزوارق الذين هم يكارون في الشوارع والجوال مثلا فإن كلا من هؤلاءأجير مشترك لا يختص بشخص واحد وله أن يعمل لكل أحد. لكنه لو استؤجر أحد هؤلاء على أن يعمل للمستأجر إلى وقت معين يكون أجيرا خاصا في مدة ذلك الوقت. وكذلك لو استؤجر حمال ، أو ذو كروسة أو ذو زورق إلى محل معين بشرط أن يكون مخصوصا بالمستأجر وأن لا يعمل لغيره فإنه أجير خاص إلى أن يصل إلى ذلك المحل.»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (4/ 560):
«وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.(وفیہ)قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين.»
«درر الحكام في شرح مجلة الأحكام» (1/ 378):
«إذا ظهر في المرابحة خيانة البائع فالمشتري مخير إن شاء ترك المبيع؛ لأن رضاء المشتري قد زال وإن شاء قبله بجميع الثمن المسمى ويقال لهذا الخيار " خيار الخيانة ".
الخيانة: تكون أولا في مقدار رأس المال كأن يضم البائع على رأس المال مصرفا لا يجوز ضمه عليه، أو أن يبين مثلا مالا كلفه تسعة ريالات فيبيعه مرابحة باثني عشر ريالا ثم يتحقق بعد ذلك إما بالإقرار، أو بالبينة، أو بالنكول عن اليمين أن ذلك المال كلفه ثمانية ريالات فقط؛ فللمشتري إن شاء ترك المبيع وإن شاء قبله بكل الثمن المسمى.»
«شرح مسند الدارمي» (5/ 22):
- بابٌ فِي النَّهْيِ عَنِ الْغِشِّ
2578 - (1) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، ثَنَا أَبُو عَقِيلٍ: يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ قَالَ: أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عُبَيْدِ(2) اللَّهِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِطَعَامٍ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ فَأَعْجَبَهُ حُسْنُهُ، فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ فِي جَوْفِهِ، فَأَخْرَجَ شَيْئاً لَيْسَ بِالظَّاهِرِ فَأَفَّفَ، لِصَاحِبِ الطَّعَامِ " ثُمَّ قَالَ: «لَا غِشَّ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا»(3).رجال السند:
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، هو الأصم، وأَبُو عَقِيلٍ: يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، هو المدني حديثه صالح في المتابعات والشواهد، والْقَاسِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، هو حفيد عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله عنهم، وسَالِمٌ، هو عمه، وهم أئمة ثقات تقدموا، وابْنُ عُمَرَ، رضي الله عنهما.»
«النهر الفائق شرح كنز الدقائق» (3/ 448):
«وفسره ابن عباس بأن لا يكون له سمساراً وهو المتوسط بين البائع والمشتري»
«تكملة المعاجم العربية» (4/ 388):
«دلال: سمسار، من يجمع بين البيعين. ومن ينادي على السلعة لتباع بالمزايدة.»
«المحيط البرهاني» (6/ 476):
«وشرط الزيادة مطلقاً التزام المال بلا سبب، والتزام المال بلا سبب رشوة حرام.»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (4/ 520):
«والرشوة لا تكون بحق»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (5/ 46):
«(لا) يصح؛ لأنه لا وجه له غير الرشوة فلا يجوز.»
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (5/ 281):
«لأن الوكيل يتصرف للموكل نيابة عنه، وتصرف النائب كتصرف المنوب عنه»
محمدسعید خان آفریدی
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
11 /محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعید خان آفریدی بن معین خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


