03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حتمی شرعی فیصلہ اور بقائے نکاح کا حکم
91608طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

سوال نمبر 7: حتمی شرعی فیصلہ (بقائے نکاح): حدیثِ مبارکہ ہے: ”وَالْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ“ (سنن ترمذی - مسلمان اپنی جائز شرائط کے پابند ہیں)۔ ان تمام محکم قرآنی آیات، احادیثِ مبارکہ، فقہ حنفی کے اصولِ تفویض و وکالت، شوہر کی نیتِ تحفظِ نکاح، شوہر سے رابطہ نہ کر کے تیسرے شخص سے ترجمہ کروانے کی سوءِ نیت، قلیل وقت (30 گھنٹے)، اور طلاقِ رجعی کے قرآنی احکام کی تحریری پامالی کی روشنی میں: کیا مسمات ہندہ (اقراء عارف) کا یکم فروری 2026ء کا یہ یکطرفہ اقدام شرعاً سراسر باطل، لغو اور کالعدم (Void ab initio) ہے؟ اور کیا زید (محمد جنید خان) اور مسمات ہندہ کا نکاح اب بھی بدستور سو فیصد قائم و دائم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(7)واضح رہے کہ تفویض کے بعد طلاق کا یہ حق شوہر سے بیوی کی طرف منتقل ہو گیا تھا، اور زوجہ نے وہ حق دی گئی مقررہ مدت کے اندر استعمال کر لیا ہے۔ لہٰذا، مسمات کا طلاق نامہ شرعاً نافذ ہے اور اس سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہو چکی ہے۔

تاہم، طلاقِ رجعی کی وجہ سے نکاح کا رشتہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہواتھا۔ شریعت نے شوہر کو یہ قرآنی حق دیا ہے کہ وہ عدت (تین حیض) کے اندر اندر کسی بھی وقت قولی یا عملی طور پر یکطرفہ "رجوع" کر لے۔ (لیکن صورت مسئولہ میں شوہر کا رجوع درست نہیں ہوا اس لئے عدت تین حیض گزرنے سے طلاق رجعی  بائن ہوگئی جس کی وجہ سے رجوع ممکن نہیں رہا)

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (4/ 78):

قال لم أعن الطلاق مع ذكره لا يصدق قضاء، ويصدق ديانة لأن الله تعالى عالم بما في سره لكن لا يسع المرأة أن تقيم معه لأنها كالقاضي لا تعرف منه إلا الظاهر كذا في المبسوط.

«شرح الزيادات - قاضي خان» (2/ 472):

«لأن هذا تفويض، وتمليك من المرأة، وليس بتوكيل؛ لأن الوكيل من يعمل لغيره، وهي عاملة لنفسها، والتمليك لا يقبل الرجوع»

«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (4/ 87):

«واشتراط البراءة شرط فاسد فبطل فكان عليها تسليم عينه إن قدرت، وتسليم قيمته إن عجزت أشار إلى أن الخلع لا يبطل بالشروط الفاسدة كالنكاح»

«فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» (4/ 307):

«(وإذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء) لقوله تعالى {والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء}»

محمدسعید خان آفریدی

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

12/صفر/1448ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد سعید خان آفریدی بن معین خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب