| 91586 | نماز کا بیان | نماز کےمتفرق مسائل |
سوال
مفتی صاحب! جب میں یونیورسٹی جاتی ہوں تو وہاں ظہر یا عصر کی نماز کا وقت ہو جاتا ہے، لیکن یونیورسٹی میں لڑکیوں کے لیے نماز پڑھنے کی کوئی مناسب جگہ موجود نہیں ہے۔ ایسی صورت میں کیا نماز قضا کر لوں یا کسی بھی ممکنہ جگہ پر نماز ادا کر لوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ نماز دین کا ستون ،مومن کی معراج اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض کردہ اہم ترین عبادت ہے۔ شریعت مطہرہ نے ہر مسلمان عاقل بالغ مرد و عورت کو پانچ وقت کی نماز اپنے مقررہ وقت پر ادا کرنے کا حکم دیا گیاہے۔ اس لیے کسی شرعی عذر کے بغیر نماز کو اس کے مقررہ وقت سے مؤخر کرنا یا جان بوجھ کر قضا کرنا ناجائز اور گناہ کبیرہ ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں بلا عذر نماز میں تاخیر یا اسے قضا کرنےوالوں پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جس شخص نے بلا عذر دو نمازوں کو (ایک وقت میں) جمع کر کے پڑھا، وہ گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازے میں داخل ہو گیا۔"
لہذا صورت مسؤلہ میں نمازکے لیےمناسب جگہ میسر نہ ہونا شرعاً کوئی عذر نہیں ، اور اس وجہ سے فرض نماز کو قضا کرنا جائز نہیں ۔لہذا سائلہ پر لازم ہے کہ پردہ کالحاظ رکھتے ہوئے وقت کے اندر ہی یونیورسٹی کی حدود یا اس کے پاس جو بھی پاک، محفوظ اور پردہ دار جگہ (مثلاً کوئی خالی کلاس روم، لائبریری کا گوشہ، یا کوئی بھی پاک کونہ) موجود ہو، وہاں ظہر اور عصر کی نماز وقت پر ادا کریں۔ محض انتظام نہ ہونے کی وجہ سے نماز کو قصداً قضا کرنا گناہ کبیرہ ہے۔نیز اس سے پہلے اب تک نماز کی ادائیگی میں جو کوتاہیاں ہوئی ہیں، ان پر صدق دل سے اللہ کے حضور توبہ و استغفار کریں اور آئندہ ہر نماز کو وقت پر پڑھنے کا عزم کریں۔
حوالہ جات
"إِنَّ الصَّلاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَاباً مَوْقُونَاً." (النساء: 301)
" عن ابن عباس، عن النبي- صلى الله عليه وسلم- قال: «من جمع بين الصلاتين من غير عذر فقد أتى بابا من أبواب الكبائر."
(سنن الترمذی ، 1/259)
610 - أخبرنا عمرو بن علي قال: حدثنا يحيى قال: حدثنا شعبة قال: أخبرني الوليد بن العيزار قال: سمعت أبا عمرو الشيباني يقول: حدثنا صاحب هذه الدار وأشار إلى دار عبد الله قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم أي العمل أحب إلى الله تعالى؟ قال: «الصلاة على وقتها، وبر الوالدين، والجهاد في سبيل الله عز وجل».
(سنن النسائي، 292/ 1)
عبدالرحیم بن سید جنان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
11/صفرا لمظفر /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبد الرحیم بن سید جنان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


