| 91530 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
مفتيان کرام دامت برکاتہم العالیہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا بڑا حصہ ہماری والدہ کے نام پر خریدا اور منتقل کیا تھا۔ والد صاحب کے الفاظ بالکل واضح یہ تھے کہ: "میں یہ جائیدادیں تمہارے نام پر اس لیے رکھ رہا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ ماں ہمیشہ انصاف کے ساتھ تقسیم کرتی ہے۔" انہوں نے انصاف سے تقسیم کرنے کے بھروسے پر والدہ کے نام کیا تھا۔ والدہ بھی والد صاحب کے ان الفاظ اور ہدایات سے مکمل اتفاق کرتی ہیں، لیکن وہ اب یہ تمام جائیداد اپنی زندگی تک اپنے پاس روک کر رکھنا چاہتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ میرے انتقال کے بعد تم سب بچے اسے آپس میں تقسیم کر لینا۔ مرحوم کے شرعی ورثاء میں ایک بیوہ (ہماری والدہ)، 4 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں: 1. والد صاحب کے ان الفاظ کی روشنی میں کہ "ماں ہمیشہ انصاف سے تقسیم کرتی ہے"، کیا شرعاً یہ جائیداد والدہ کی ذاتی ملکیت (گفٹ) مانی جائے گی یا یہ والد صاحب کی طرف سے ایک امانت تھی جسے شرعی ورثاء میں تقسیم کرنا لازم ہے؟ 2. کیا شرعی طور پر والدہ کے لیے جائز ہے کہ وہ والد صاحب کی جائیداد کو اپنی زندگی تک روک کر رکھیں اور بچوں کو ان کے شرعی حقوق کی ادائیگی کو مؤخرکریں؟ 3. کیا اولاد کے لیے شرعاً یہ جائز اور درست ہے کہ وہ والدہ سے مطالبہ کریں کہ ان جائیدادوں کو بیچ کر ان کا شرعی حصہ انہیں ابھی دے دیا جائے؟ جواب عنایت فرما کر ثواب دارین حاصل کریں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
-1شریعت مطہرہ کی رو سے محض کسی شخص کے نام پر جائیداد خرید نے یا اس کے نام منتقل کر دینے سے شرعاً وہ شخص اس کا مالک نہیں بنتا، بلکہ ملکیت ثابت ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اسے باقاعدہ ہبہ کرکے قبضہ اور مالکانہ تصرفات کا اختیار بھی دیا جائے ۔ چنانچہ اگر کسی مصلحت یا مقصد کے پیش نظر جائیداد کسی شخص کے نام منتقل کردی جائے، تو وہ محض اپنے نام پر منتقلی کی بنا پر اس جائیداد کا مالک نہیں بنے گا،جب تک اسے حقیقی ملکیت کے تحت قبضہ نہ دیا جائے۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں والد صاحب کے مذکورہ الفاظ اس بات کا واضح قرینہ ہیں کہ ان کا مقصد والدہ کو ان جائیدادوں کا مالک بنانا نہیں تھا،بلکہ صرف اس اعتماد کے ساتھ والدہ کے نام منتقل کرنا تھا کہ وہ بعد ازاں ان جائیدادوں کو تمام شرعی ورثاء میں انصاف کے ساتھ تقسیم کر دیں گی ؛اس لیے مذکورہ جائیدادیں والدہ کی ذاتی ملکیت یا ہبہ (گفٹ) شمار نہیں ہوں گی، بلکہ والد مرحوم کا ترکہ ہیں، جو ان کے انتقال کے بعد ان کے تمام شرعی ورثاء میں شریعت کے مقررہ حصوں کے مطابق تقسیم کرنا لازم ہے
-2چونکہ والد صاحب کے انتقال کے ساتھ ہی ان کا ترکہ تمام ورثاء کی مشترکہ ملکیت بن چکا ہے، اس لیے والدہ کے لیے شرعاً یہ جائز نہیں کہ وہ اس جائیداد کو اپنی زندگی تک اپنے پاس روکے رکھیں اور ورثاء کے شرعی حقوق کی ادائیگی کو مؤخر کریں۔ شریعت کی رو سے بلا عذر میراث کی تقسیم کو مؤخر کرنا اور ورثاء کے حقوق روکے رکھنا ناجائز ہے، لہٰذا والدہ پر لازم ہے کہ مرحوم کی جائیداد کو شرعی حصوں کے مطابق ورثاء میں فورا تقسیم کر یں۔
-3 صورت مسئولہ میں اولاد کے لیے شرعاً یہ جائز ہے کہ وہ والدہ سے اپنے حصے کا مطالبہ کریں کہ مرحوم والد کی جائیدادکو بعینہ شریعت کے مطابق تقسیم کر کے ان کا حصہ انہیں دے دیا جائے۔ اور اگر کسی وجہ سے بعینہ جائیداد کی تقسیم ممکن نہ ہو تو مذکورہ جائیدادیں فروخت کر کے حاصل شدہ قیمت کو شرعی حصوں کے مطابق ورثاء کے درمیان تقسیم کرنا لازمی ہے۔ کیونکہ شرعی اصول کے مطابق مورث کی وفات کے بعد ہر وارث اپنے حصے کا حقدار بن جاتا ہے، ا س لئے اگر کوئی بھی وارث تقسیم کا مطالبہ کرے تو تقسیم کرنا ضروری ہے۔
حوالہ جات
فيجب أن يعلم أن التركة تتعلق بها حقوق أربعة ؛جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث، فيبدأ بجهازه وكفنه وما يحتاج في دفنه بالمعروف وفي الكافي من غير تبذير ولا تقتير. وفي التهذيب إذا مات الرجل يبدأ من تركته بتكفينه وتجهيزه بالمثل، والمثل ما يلبس عند الخروج، وقيل في الأعياد، وقيل في الجمع والجماعات وهو الأصح.
(البحر الرائق شرح كنز الدقائق ،8/ 557)
وبه علم أن سكوت الزوج عند نقلها ما يصلح لهما لا يبطل دعواه في البدائع، هذا كله إذا لم تقر المرأة أن هذا المتاع اشتراه، فإن أقرت بذلك سقط قولها لأنها أقرت بالملك لزوجها، ثم ادعت الانتقال إليها فلا يثبت الانتقال إلا بالبينة اهـ وكذا إذا ادعت أنها اشترته منه كما في الخانية، ولا يخفى أنه لو برهن على شرائه كان كإقرارها بشرائه، فلا بد من بينة على الانتقال منه بهبة ونحو ذلك، ولا يكون استمتاعها بمشريه ورضاه بذلك دليلا على أنه ملكها ذلك كما تفهمه النساء والعوام، وقد أفتيت بذلك مرارا بحر.
(الدر المختار وحاشية ابن عابدين، 5/ 563)
قوله تعالى {يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين} [النساء: 11] فدعا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أخا سعد وأمره أن يعطي البنتين الثلثين وللمرأة الثمن وله ما بقي».
(المبسوط للسرخسي ،29/ 140)
ولنا قوله - عليه الصلاة والسلام - «لا تجوز الهبة إلا مقبوضة» والمراد نفي الملك؛لأن الجواز بدونه ثابت، ولأنه عقد تبرع، وفي إثبات الملك قبل القبض إلزام المتبرع شيئا لم يتبرع به، وهو التسليم فلا يصح، بخلاف الوصية؛ لأن أوان ثبوت الملك فيها بعد الموت ولا إلزام على المتبرع؛ لعدم أهلية اللزوم، وحق الوارث متأخر عن الوصية فلم يملكها.
(العناية شرح الهداية، 9/ 20)
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والاصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والشرج فقط، لان كلا منها شغل الملك لواهب لا مشغول به،لان شغله بغير ملك واهبه لا يمنع، وتمامها كرهن وصدقة، لان القبض شرط تمامها.
(الدر المختار شرح تنوير الأبصار ،ص: 561)
عبدالرحیم بن سید جنان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
15/صفرا لمظفر /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبد الرحیم بن سید جنان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


