| 90526 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص کا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے منہ میں کھانا ہونے کی حالت میں 'طلاق' کے الفاظ ادا کیے۔ کھانے کی رکاوٹ کی وجہ سے آواز منہ کے اندر ہی دب گئی اور وہ شخص وہ الفاظ خود بالکل نہیں سن سکا۔ اسے صرف یہ وہم اور شک ہے کہ اگر منہ میں کھانا نہ ہوتا تو شاید آواز باہر نکل آتی اور اسے سنائی دے دیتی، لیکن حقیقت میں اسے اپنی آواز سنائی نہیں دی۔
براہِ کرم اس بارے میں شرعی حکم بیان فرما دیں:
جب بولنے والے نے طلاق کے الفاظ خود نہیں سنے، تو کیا شرعاً طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
کیا اس شک کا کوئی اعتبار ہے کہ 'آواز نکل سکتی تھی' جبکہ حقیقت میں آواز نہیں نکلی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگرحقیقت میں زبان سے طلاق کے الفاظ ادا نہیں ہوئےیہاں تک کہ اسے خود بھی سنائی نہیں دیے ، تو شرعاً طلاق واقع نہیں ہوئی۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 55):
وقال الكرخي أدنى الجهر أن يسمع نفسه وأدنى المخافتة تصحيح الحروف لأن القراءة فعل اللسان دون الصماخ وفي لفظ الكتاب إشارة إلى هذا وعلى هذا الأصل كل ما يتعلق بالنطق كالطلاق والعتاق والاستثناء وغير ذلك.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (1/ 356):
وأكثر المشايخ على أن الصحيح أن الجهر أن يسمع غيره والمخافتة أن يسمع نفسه وهو قول الهندواني، وكذا كل ما يتعلق بالنطق كالتسمية على الذبيحة ووجوب السجدة بالتلاوة والعتاق والطلاق والاستثناء حتى لو طلق ولم يسمع نفسه لا يقع وإن صحح الحروف.
مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 84):
وقال الهندواني لا تجزئه ما لم تسمع أذناه ومن بقربه بالسماع شرط فيما يتعلق بالنطق باللسان التحريمة والقراءة السرية والتشهد والأذكار والتسمية على الذبيحة ووجوب سجود التلاوة والعتاق والطلاق والاستثناء واليمين والنذر والإسلام والإيمان حتى لو أجرى الطلاق على قلبه وحرك لسانه من غير تلفظ يسمع لا يقع وإن صحح الحروف.
محمد ابرار الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
29/ذیقعدہ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرار الحق بن برھان الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


