03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دعویٰ طلاق سے عورت کا رجوع
90283طلاق کے احکامطلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان

سوال

میری بھانجی برازیل میں تھی، وہ کینڈا آئی اور اس نے بتایا کہ میرے شوہر نے مجھے دو مرتبہ طلاق دی اور میں نے کہا کہ تم نے مجھے طلاق دے دی ہے، اس نے کہا کہ میں نے تمھیں ۱۰۰ دفعہ  طلاق دی کہنے سے کوئی طلاق تو نہیں ہوتی،پھر وہ رشتے دیکھتی رہی ہم بھی اس کے رشتے دیکھتے رہے، مگر اب وہ لڑکا کینڈا آ گیا ہے ۔اس لڑکی سے ملا، اسےاس نے قران اٹھا کر بولا  کہ میں نے طلاق نہیں دی  اور اب  وہ لڑکی بھی کہ رہی ہے مجھے لگتا ہے اس وقت میں نے غلط سنا تھا ،تو میری طلاق نہیں ہوئی اور اب جب میں نے اس کے ساتھ بحث کی تو وہ کہ رہی ہے کہ دو سال پہلے میں نے جھوٹ بولا تھا ،اب میں اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں ،میری طلاق نہیں ہوئی ہے۔دو سال پہلے یہ واقع ہوا تھا اب وہ کہ رہی ہے کہ مجھے وہ بہت برا لگ رہا تھا میں ساتھ رہنا نہیں چاہتی تھی،طلاق کے بعد کینڈا آنے سے پہلے انھوں نے ہم بستری بھی کی تھی۔اس میں کیا فتویٰ بنتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یاد رہے کہ مفتی غیب نہیں جانتا، بلکہ وہ سائل کے بیان اور پیش کردہ صورتِ حال کے مطابق جواب تحریر کرتا ہے۔ سوال کے صحیح یا غلط ہونے کی ذمہ داری سائل پر ہوتی ہے۔ غلط بیانی یا خلافِ واقع بیان  کے ذریعے فتویٰ حاصل کر لینے سے حرام چیز حلال نہیں ہوجاتی، بلکہ حرام بدستور حرام ہی رہتی ہے، اور اس کے ساتھ غلط بیانی کا الگ وبال بھی ہوتا ہے۔

اس تمہید کے بعد جواب یہ ہے کہ صورتِ مسئولہ میں شوہر کے بیان کے مطابق اس نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی، بلکہ اس نے بیوی کے دعوے کی تردید کی ہے۔ دوسری طرف بیوی نے دو سال قبل دو طلاقوں کا دعویٰ کیا تھا، لیکن اس دعوے پر کوئی گواہ موجود نہیں تھا، بعد میں  بیوی  نےاپنے دعوے سے رجوع بھی کیا  ہے۔ لہٰذاعورت پر قضاء   کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

البتہ اگر حقیقتِ حال یہ ہو کہ بیوی نے دو سال قبل واقعی شوہر کے منہ سے طلاق کے الفاظ سنے تھے، اور اس کے بعد شوہر نے عدت کے اندر رجوع بھی نہیں کیا تھا، پھر عدت بھی گزر گئی، تو ایسی صورت میں دیانۃً نکاح ختم ہوچکا ہے، لہٰذا بیوی کے لیے شوہر کے ساتھ رہنا جائز نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

الأشباه والنظائر - ابن نجيم (ص52):

ومنها:شك هل طلق أم لا لم يقع. شك أنه؛ طلق واحدة، أو أكثر، بنى على الأقل كما ذكره الإسبيجابي إلا أن يستيقن بالأكثر

حاشية ابن عابدين  (2/ 386):

وغلبة الظن حجة موجبة للعمل...

صدام حسین 

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

 ۲۹ /ذی القعدہ /۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صدام حسین بن ہدایت شاہ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب