| 91720 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
۱۔ سوال یہ ہے کہ فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور شاپائفائی اسٹور وغیرہ پر جو مارکیٹنگ ہوتی ہے، تو اسے کرنے کا کیا حکم ہے؟
۲۔ ڈراپ شپنگ، جو لوگ پاکستان اور گلف ممالک میں بھی کرتے ہیں، اس کے حوالے سے بھی شرعی رہنمائی فراہم کریں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۱۔ یوٹیوب، فیس بک اور ٹک ٹاک پر آن لائن مارکیٹنگ کے جواز و عدم جواز کا مدار اشتہارات کے مواد پر ہے کہ شیئر کیے جانے والے اشتہارات شریعت کی نظر میں جائز ہیں یا نہیں؟ اشتہار لگانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف جائز اور فائدہ مند معلومات پر مشتمل ہو، جس کاروبار کا اشتہار چلایا جاتا ہے، وہ کام شرعاً جائز ہو، مثلاً سودی بینک، انشورنس کمپنی اور فلموں یا گانوں کے اشتہارات نہ ہوں۔
۲۔ ڈراپ شپنگ (Drop Shipping) میں عام طور پر تاجر پہلے کسٹمر کو چیز بیچتا ہے اور اس سے معاملہ حتمی کرنے کے بعد ہول سیلر سے خریداری کا معاملہ کر کے کہتا ہے کہ آپ یہ مال فلاں جگہ روانہ کر دیں۔ ہول سیلر وہ مال خریدار کی طرف روانہ کر دیتا ہے۔ لہذا تاجر ایک ایسی چیز کو بیچتا ہے جس کی فروخت کے وقت اس کا مالک نہیں ہوتا، اور جب بعد میں اس کا مالک بنتا ہے، تب اس پر اپنا قبضہ نہیں کرتا ۔ احادیثِ مبارکہ میں ان دونوں قسم(غیرمملوک اور غیر مقبوض) کی خریدو فروخت سے منع فرمایا گیا ہے، اس لیے ایسی خرید و فروخت شرعاً باطل اور ناجائز ہے۔
ڈراپ شپنگ کی متبادل جائز صورتیں درج ذیل ہیں:
پہلی صورت : وعدۂ بیع کر لیا جائے، جس کی صورت یہ ہے کہ فروخت کنندہ کسٹمر کو صراحتا بتا دے کہ یہ چیز میرے پاس موجود نہیں ہے، میں کسی سے خرید کر آپ کو فروخت کروں گا۔ اس کے بعد فروخت کنندہ چیز خرید کر پہلے خود اس پر قبضہ کرے یا مثلا کوریئر کمپنی کے کسی شخص کو مال پر قبضہ کرنے کا وکیل بنادے، قبضہ کرنے کے بعد وہ مال خریدار تک پہنچا دیا جائے، خریدار کے پاس مال پہنچنے کے بعد فروخت کنندہ کا قيمت پر اور خریدار کا چیز پر قبضہ کرنے سے خرید وفروخت کا معاملہ مکمل ہو جائے گا۔لیکن اس میں بھی یہ بات یاد رہے کہ چیز خریدنے کے بعد قبضہ کر کے آگے بیچنا ضروری ہے، بغیر قبضہ کیے معاملہ درست نہ ہو گا۔
دوسری صورت: ڈراپ شپنگ (Drop Shipping) کے جواز کی دوسری صورت یہ ہے کہ درمیان والا شخص (جس کے پاس چیز کی خریداری کا آرڈر آیا ہے ) خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان کمیشن ایجنٹ بن جائے، مثلاً: اگر زید کے پاس آرڈر آتا ہے تو اس کو چاہیے کہ کمپنی (جس سے زید مال خرید کر کسٹمر کو فروخت کرنا چاہتا ہے) سے یہ طے کرے کہ میں آپ کا وکیل بن کر مال بیچوں گا جتنا مال بیچوں اس کا اتنے فیصدمیری اجرت ہوگی یا یوں بھی طے کر سکتا ہے کہ ایک کاٹن کی فروختگی پر اتنے روپے لوں گا وغیرہ۔اس صورت میں وکالت کی اجرت طے ہوجائے گی،عقد درست ہوگا۔
حوالہ جات
المعجم الأوسط (2/ 154، رقم الحديث: 1554) :
حدثنا أحمد قال: نا عبد القدوس بن محمد الحبحابي قال: نا عمرو بن عاصم الكلابي قال: نا همام بن يحيى، عن عاصم الأحول، وابن جريج، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن سلف وبيع، وعن شرطين في بيع، وعن بيع ما لم يقبض، وربح ما لم يضمن»
السنن الكبرى للبيهقي (5/ 554،رقم الحديث: 10856) :
أخبرنا أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي وأبو عبد الرحمن السلمي قالا: ثنا أبو العباس , أنا العباس بن الوليد بن مزيد , أخبرنا أبي , ثنا الأوزاعي , حدثني عمرو بن شعيب , عن أبيه , عن جده , أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أرسل عتاب بن أسيد إلى [ص:555] أهل مكة " أن أبلغهم عني أربع خصال أن لا يصلح شرطان في بيع , ولا بيع وسلف , ولا بيع ما لا يملك , ولا ربح ما لا يضمن ".
فقہ البیوع:(2/1137)
الوعد و المواعدۃ بالبیع لیس بیعا، ولایترتب علیہ آثار البیع من نقل ملکیۃ البیع و لاجوب الثمن۔ واذا وقع الوعد او المواعدۃ علی شراء شیئ او بیعہ بصیغۃ جازمۃ وجب علی الواعد دیانۃ ان یفی بہ، و یعقد البیع حسب وعدہ،ولکنہ لایجبر علی ذلک قضاء الا فی حالات آتیۃ...
فقہ البیوع:((1077/2
متى يتم عقد البيع بين المتعاقدين؟ والجواب أنه إن كان المبيع مملوكاً مقبوضاً للبائع، فإن عقد البيع إنما يتم بتبادل الإيجاب والقبول بينهما، أما بالكتابة، أو بالمكالمة الهاتفية حسب ما ذكرناه في مبحث الإيجاب والقبول. أما إذا لم يكن المبيع مملوكاً للبائع، أولم يكن في حيازته، فالكتابة والمكالمة لا تكفيان الإنجاز عقد البيع، لأنه حين يكون بيعاً لما لا يملكه البائع، أو لما هو غير مقبوض له وحيند، فكلام المشترى يعتبر طلباً للبيع، وكلام البائع وعد به و ينعقد البيع إما بإيجاب وقبول بعد ما يتملكه ويقبضه البائع، وإما بالتعاطى وذلك بأن يصل المبيع إلى المشترى، ويُؤدى المشترى الثمن إلى البريد.
حاشية ابن عابدين (6/ 63):
مطلب في أجرة الدلال :قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام.
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
10 /2/8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


