021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رضاعی والد کی پوتیوں اور نواسیوں سے نکاح کا حکم
..نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

عمرو کی بیوی زینب نے اپنے پوتے(زید کے بیٹے)اکرم کو دودھ پلایا ہے،اور اپنی نواسی (رقیہ کی بیٹی) زیب النساء کو بھی دودھ پلایا ہے۔ یعنی اکرم اور زیب النساء رضاعی بہن بھائی ہیں اور ان کا آپس میں نکاح نہیں ہو سکتا۔لیکن عمر کی دوسری بیویوں (زینب کے علاوہ) سے پوتیاں اور نواسیاں ہیں۔کیا ان کے ساتھ اکرم کا نکاح ہوسکتا ہے؟

o

مذکورہ صورت میں اکرم عمرو کا رضاعی بیٹا بن گیا۔اور عمروکی پوتیاں اور نواسیاں اکرم کی رضاعی بھتیجیاں اور بھانجیاں بن گئیں۔لہذا اکرم کا نکاح عمرو کی دوسری بیویوں والی پوتیوں نواسیوں سے نہیں ہوسکتا۔

حوالہ جات

(الدر المختار مع ردالمحتار:3/ 29) (حرم) على المتزوج ذكرا كان أو أنثى، نكاح (أصله،وفروعه) علا، أو نزل (وبنت أخيه وأخته وبنتها). (الدر المختار مع رد المحتار:3/ 28) أسباب التحريم أنواع: قرابة، مصاهرة، رضاع…..، قوله: ( رضاع) فيحرم به ما يحرم من النسب. والله سبحانہ وتعالى أعلم
..

n

مجیب

محمد تنویرالطاف

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔