03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آنلائن گیمز مین پیسے لگاکر کمانے کا شرعی حکم
91718جائز و ناجائزامور کا بیانکھیل،گانے اور تصویر کےاحکام

سوال

آج کل بہت سے آن لائن گیمز آئے ہیں، جن میں آپ  گیم کو ڈاؤن لوڈ کر کے اکاؤنٹ بناتے ہیں اور آپ کو بونس دیا جاتا ہے۔ پھر اس بونس کے ذریعے آپ ڈپازٹ کرتے  ہیں اور اس میں پیسے کمانا شروع کرتے ہیں یا ہار بھی جاتے ہیں۔ اس کی شرعی صورتحال کیا ہے؟ نوٹ: سائل کی طرف سے وضاحت ملی کہ کھیلنے والے افراد میں سے کچھ اسی بونس کو بڑھا کر کھیلتے ہیں اور کچھ  زیادہ نفع کے لیے اپنے اکاؤنٹ سے کچھ رقم  جیسے تین سو یا چار سو روپے ڈالتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آن لائن گیمز ڈاؤن لوڈ کر کے اس سے پیسے کمانے کی بنیادی طور پر درج ذیل دو صورتیں ہیں:

پہلی صورت: اپنے اکاؤنٹ سے رقم جمع (Deposit) کر کے کھیلنا:

اس صورت میں صارف گیم ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد اپنے   اکاؤنٹ سے گیم کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کرواتا ہے۔ کھیل شروع ہونے سے پہلے دونوں فریق اپنی اپنی رقم داؤ پر لگا کر بیچ میں رکھ دیتے ہیں، آخر میں جیتنے والا فریق وہ تمام رقم لے لیتا ہے، جبکہ ہارنے والا صارف اپنی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ (کھیل ختم ہونے کے بعد  کچھ رقم اس کھیل کو بنانے والی کمپنی اپنے لیے لیتی ہے جو اس کا نفع ہے)۔

دوسری صورت: بغیر ذاتی رقم کے، صرف بونس کی رقم کو مہارت سے بڑھا کر کھیلنا:

اس صورت میں صارف اپنے اکاؤنٹ سے کوئی رقم جمع نہیں کرواتا، بلکہ گیم ڈاؤن لوڈ کرنے پر کمپنی کی طرف سے ملنے والے بونس کو اپنی مہارت سے کھیل کر بڑھاتا ہے۔ اس کے بعد وہ اسی بونس کی رقم کو داؤ پر لگا کر دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلتا ہے۔

شرعی نقطہ نظر سے مذکورہ بالا دونوں صورتیں ناجائز اور حرام ہیں:

پہلی صورت: اس لیے کہ یہ صریح جوا (قمار) ہے، کیونکہ کھیل میں پیسے لگا کر جیتنے کی صورت میں مزید رقم لینا اور ہارنے کی صورت میں اپنی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھنا جوا ہے۔

دوسری صورت:اگرچہ اس میں صارف اپنی رقم نہیں لگاتا بلکہ کمپنی کے بونس سے کھیلتا ہے، لہذا اس شکل میں   جوا نہیں ہے،لیکن چونکہ بونس دینے کا اصل مقصد ہی صارف کو راغب کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ جیتی ہوئی رقم نکالنے یا  گیم میں ترقی کرکے زیادہ کمانے کے چکر میں بعد میں اپنے اکاؤنٹ سے پیسے جمع کرے، اس لیے یہ صورت جوئے کا ذریعہ بننے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

حوالہ جات

تکملۃ فتح الملھم((382/4

فالضابط في هذا . . . أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته، وليس له غرض صحيح  مفيد في المعاش ولا المعاد حرام أو مكروه تحريماً، . . . وما كان فيه غرض  ومصلحة دينية أو دنيوية، فإن ورد النهي  عنه من الكتاب أو السنة . . . كان حراماً أو مكروهاً تحريماً، ... وأما مالم يرد فيه النهي عن الشارع وفيه فائدة ومصلحة للناس، فهو بالنظر الفقهي علي نوعين ، الأول ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه ومفاسده أغلب علي منافعه، وأنه من اشتغل به ألهاه عن ذكر الله  وحده وعن الصلاة والمساجد التحق ذلك بالمنهي عنه ؛لاشتراك العلة فكان حراماً أو مكروهاً، والثاني ماليس كذالك  فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التلهي والتلاعب فهو مكروه، وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح،  بل قد يرتقي إلى درجة الاستحباب أو أعظم منه . . . وعلي هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها مالم يشتمل علي معصية أخري، وما لم يؤد الانهماك فيها إلى الإخلال بواجب الإنسان في دينه و دنياه.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 403):

(وحرم لو شرط) فيها (من الجانبين) لأنه يصير قمارا (إلا إذا أدخلا ثالثا) محللا (بينهما) بفرس كفء لفرسيهما يتوهم أن يسبقهما وإلا لم يجز ثم إذا سبقهما أخذ منهما وإن سبقاه لم يعطهما وفيما بينهما أيهما سبق أخذ من صاحبه(قوله: لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص.

الفتاوى الهندية (6/ 445) :

(والمسابقة) بالفرس والإبل والأرجل والرمي جائزة، وحرم شرط الجعل من الجانبين لا من أحد الجانبين، ومعنى شرط الجعل من الجانبين أن يقول: إن سبق فرسك فلك علي كذا، وإن سبق فرسي فلي عليك كذا وهو قمار فلا يجوز، وإذا شرط من جانب واحد بأن يقول: إن سبقتني فلك علي كذا، وإن سبقتك فلا شيء لي عليك جاز استحسانا ولا يجوز فيما عدا الأربعة المذكورة في الكتاب كالبغل.      

احسان اللہ گل محمد

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

10 /2/8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان ولد گل محمد

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب