| 90645 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
سوال یہ ہے کہ ہم نے ایک گھر 2010 میں ایک کروڑ دس لاکھ کا لیا ،جس کے چھت پر دو پورشن ہیں، مکمل ماربل کا کام اور ایک کمرہ بھی بنوایا جس کے بارہ لاکھ لگے ،پھر رجسٹریشن کے تقریبا سات لاکھ لگے۔یہ گھر ہمیں ایک کروڑ انتیس لاکھ روپے کا پڑا ۔کل رقم میں میری بیوی کا چھ لاکھ کا گولڈ، بھائی کی بیگم کا چھ لاکھ کا گولڈ، امی کا بھی چھ لاکھ کا گولڈ اور امی کا ایک فلیٹ جس کی رقم اٹھارہ لاکھ۔ اس کے بعد تمام رقم میری اور میرے بڑے بھائی کی لگی ۔ہمارے والد صاحب کا ایک روپیہ بھی نہیں تھا ۔والد صاحب نے زمین والا پورشن ہم دونوں بھائیوں کے نام کروایا، اوپر والا پورشن اپنے نام کروایا۔ کچھ عرصہ بعد کاروبار میں نقصان پہنچا ،ہم دونوں بھائیوں نے نیچے کا اپنے نام والا پورشن سیل کر دیا جس سے اپنے کار و بار کا نقصان بھردیا،اس مکان میں کس کا کتنا حصہ ہے؟ شرعی حیثیت سے رہنمائی فرمائیں۔
نوٹ:سائل سے رابطہ کرنے کے بعد معلوم ہواکہ: والدہ نے24لاکھ روپے اپنے دونوں بیٹوں کو مکان خریدنے کےعقد کے بعد سپورٹ کے طورپر دیے تھے ۔
اسی طرح دونوں بھائیوں کی بیویوں نے بھی چھ چھ لاکھ روپے مکان خریدنے کے بعد بطور سپورٹ کے دیے تھے۔
گھر خریدنے کے بعد انہوں نے اپنے والد صاحب کو اپنا بڑا سمجھ کر کہ وہ ہمارے لیے اچھا فیصلہ کریں گے ،گھر ان کے حوالے کردیاتھا،جس کے بعد والد صاحب نے دوسری منزل اپنے نام اور زمینی منزل بیٹوں کے نام کرائی۔
مکان کی زمینی منزل کو 80 لاکھ روپے میں فروخت کیا تھا،80 لاکھ روپے میں سے 65 لاکھ روپے، یا اس سے کچھ کم و بیش، کاروبار کے نقصان کی ادائیگی میں صرف کیے گئے، جبکہ باقی ماندہ رقم سے اسی مکان کی چھت پر چند کمرے تعمیر کیے گئے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر شدہ تفصیل کے مطابق اگر بیوی، بھابی اور والدہ کی طرف سے آپ دونوں بھائیوں کو دی گئی رقم محض تعاون اور تبرع کے طور پر تھی، تو شرعاً اس کی واپسی لازم نہیں،لیکن اگر یہ رقم قرض کی نیت سے دی گئی تھی، تو پھر اس کی ادائیگی آپ دونوں بھائیوں کے ذمہ لازم ہوگی۔تاہم رقم دینے کے بعد کافی طویل عرصے تک مطالبہ نہ کرنا ہبہ کا قرینہ ہے۔
بعدمیں جب یہ مکان والد صاحب کے حوالے کیاگیا ،اور انہوں نے دوسری منزل اپنے نام پر کی اور طویل عرصے تک اس پر قابض رہے ،تو یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ منزل والد صاحب کو ہبہ (گفٹ)کی گئی تھی ۔لہذا اب دوسری منزل والد صاحب کی ملکیت شمار ہوگی۔
جب دونوں بھائیوں نے اپنا حصہ(زمینی منزل)80لاکھ روپے میں بیچ دیا اور 65لاکھ کے قریب اپنے کار و بار کے نقصان میں اور باقی 15 لاکھ روپے کے قریب چھت پر کمرے بنانے میں استعمال کیے ، تو یہ اوپر تعمیر ہونے والے کمرے اسی رقم کے مالکین کی ملکیت قرار پائیں گے، کیونکہ تعمیر انہی کے مال سے ہوئی ہے ۔
حوالہ جات
و في نتائج الأفكارتكملة فتح القدير(9/35):
و إذا وهب الاثنان من واحد داراً جاز،و إن وهب واحد من اثنين لم تصح عند أبي حنيفة رحمه الله،و قال أبو يوسف و محمد رحمهما الله :تصح.
وفي العالمكيرية(3/378):
"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية."
و في مجلة الأحكام العدلية(1/206):
(المادة:1075):كل واحد من الشركاء في شركة الملك أجنبي في حصة الآخر،ليس وكيلاً عن الآخر،فلايجوز تصرف أحدهما في حصة الآخر بدون إذنه.
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
23 /12/7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


