| 90613 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ہمارے سیب کے باغات ہیں۔ جب سیب تیار ہو جاتے ہیں تو ہم انہیں تین ماہ تک سٹور میں رکھتے ہیں، کیونکہ جس وقت سیب تیار ہوتے ہیں اُس وقت مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے بازار میں قیمت کم ہوتی ہے۔ پھر جب ہم تین چار ماہ بعد انہیں نکالتے ہیں تو کچھ زیادہ قیمت مل جاتی ہے۔ اس طرح ہمارا سیب کو سٹور میں رکھنا کیسا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کاشت کارکا اپنی زمین کی پیداوارکومحض تجارتی نقطہ نظر سےا سٹور میں رکھنا ممنوع ذخیرہ اندوزی کے حکم میں نہیں آتا ۔
تاہم اگر ذخیرہ کرنے سے مارکیٹ میں سپلائی (طلب اور رسد) متأثر ہورہی ہو جس سے وہ چیز مہنگی ہوجائے یا دستیاب نہ رہے، تو ایسی حالت میں کاشتکارکےلیے اپنی زمینی پیداوار روکنا باعثِ گناہ ہے۔
حوالہ جات
وفي الدر المختار(172/9):
(ولا يكون محتكرا بحبس غلة أرضه)بلا خلاف.
و تحته في الشامية:
قوله:(ولايكون محتكرا) لأنه خالص حقه لم يتعلق به حقّ العامة ،ألا ترى أن له ألا يزرع، فكذا له ألا يبيع. هداية. قال ط: والظاهر أن المراد أنه لا يأثم إثم المحتكر وإن أثم بانتظار الغلاءوالقحط؛ لنيةالسوء للمسلمين. وهل يجبر على بيعه ؟الظاهر نعم، إن اضطرّ الناس إليه تامل.
رد المحتار (6/ 398):
الاحتكار لغة: احتباس الشيء انتظارا لغلائه والاسم الحكرة بالضم والسكون كما في القاموس، وشرعا: اشتراء طعام ونحوه وحبسه إلى الغلاء أربعين يوما؛ لقوله عليه الصلاة والسلام "من احتكر على المسلمين أربعين يوما ضربه الله بالجذام والإفلاس"، وفي رواية "فقد برىء من الله وبرىء الله منه".
وفي فتح القدير(10/56(
قال (ومن احتكر غلة ضيعته أو ما جلبه من بلد آخر فليس بمحتكر) أما الأول فلأنه خالص حقه لم يتعلق به حق العامة؛ ألا ترى أن له أن لا يزرع فكذلك له أن لا يبيع.
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
22 /12/7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


