| 91211 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
میں نے تقریباً ایک سال پہلے اپنی بیوی کو پہلی طلاق دی تھی، جس کے بعد میں نے (عدت کے اندر) رجوع کر لیا تھا اور ہم میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہ رہے تھے۔ اب ایک سال بعد، بیوی کے کہنے پر میں نے دوبارہ طلاق دی۔ صورتحال یہ تھی کہ میں نے گھر کے آئینے کے اوپر مارکرسے لکھا’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں’’۔ یہ لکھنے کے بعد میں گھر سے باہر نکل گیا۔ گھر سے نکلنے کے تقریباً ۵ منٹ بعد، میں نے واٹس ایپ پر صرف ایک مرتبہ وائس میسج بھیجا جس میں زبان سے یہ الفاظ کہے کہ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں’’ ۔ (واٹس ایپ پر لکھ کر کوئی میسج نہیں بھیجا، صرف یہی ایک وائس میسج بھیجا تھا)۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب آپ نے آئینے کے اوپر ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں’’ لکھا،تو اس سے دوسری طلاق ہوگئی ۔
اس کے بعد جب آپ نے واٹس ایپ پر یہ کہہ کر میسج کیا کہ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں’’ تو اس سے تیسری طلاق واقع ہو گئی ۔لہذا اس کے بعد نہ رجوع ہوسکتاہے اور نہ دوبارہ نکاح ۔عدت گزرنے کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔
حوالہ جات
فی رد المحتار(455/4):
مطلب في الطلاق بالكتابة:قوله: (كتب الطلاق ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة، وغير مرسومة. ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا، مثل ما يكتب إلى الغائب، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو.
وفي الهندية(473/1):
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة، و ثنتين في الأمة لم تحلّ له حتى تنكح زوجاً غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثمّ يطلقها أو يموت عنها.
و في البدائع(174/3):
ثم إن كتب على الوجه المرسوم ولم يعلّقه بشرط،بأن كتب: أما بعد يا فلانة فأنت طالق،وقع الطلاق عقيب كتابة لفظ الطلاق بلا فصل.
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
27/1/8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


