| 90718 | پاکی کے مسائل | معذور کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
گیس کے مسئلے کی وجہ سے ہر نماز میں میرا وضو ٹوٹ جاتا ہے، میں چار رکعت یا دو رکعت بھی نہیں پڑھ پاتا۔ یہ میرا جینیاتی مسئلہ ہے، برائے مہربانی مجھے بتائیں کہ کیا میں نماز پڑھ سکتا ہوں اور قرآن پڑھ سکتا ہوں؟ یہ مسئلہ میرے ساتھ نوے فیصد رہتا ہی ہے، مجھے اس کا فتویٰ دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جس شخص کو نواقضِ وضو میں سے کوئی عذر، مثلاً مسلسل ریاح خارج ہونا، اس تسلسل کے ساتھ لاحق رہے کہ پوری ایک نماز کا وقت اسی حالت میں گزر جائے اور اسے اتنا وقت بھی نہ ملے کہ وضو کرکے فرض نماز ادا کر سکے، تو ایسا شخص شریعت کی اصطلاح میں ’’معذورِ شرعی‘‘ کہلاتا ہے۔ اگر سائل کی حالت واقعی ایسی ہے کہ اکثر اوقات اسے وضو کے بعد اتنی مہلت نہیں ملتی کہ نماز ادا کر سکے، تو وہ شرعاً معذور کے حکم میں ہوگا۔
معذور شخص کا حکم یہ ہے کہ ہر فرض نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد نیا وضو کرے۔ اس وضو کے بعد جب تک اس نماز کا وقت باقی رہے گا، اس وقت تک صرف اپنے عذر (یعنی ریاح کے اخراج) کی وجہ سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، اگرچہ نماز کے دوران یا نماز کے وقت میں متعدد مرتبہ ریاح خارج ہوتی رہے۔ اس وضو سے وہ فرض، واجب، سنت، نفل اور قضا نمازیں ادا کر سکتا ہے اور قرآنِ کریم کی تلاوت اور اسے ہاتھ لگانا بھی جائز ہے۔
البتہ اگر اس عذر کے علاوہ کوئی دوسرا ناقضِ وضو، مثلاً خون بہنا یا نیند وغیرہ پائی جائے تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا۔ اسی طرح اگر کسی نماز کا پورا وقت اس عذر سے خالی گزر جائے اور ایک مرتبہ بھی یہ عذر پیش نہ آئے تو شرعاً اس کا عذر ختم ہو جائے گا اور وہ عام لوگوں کی طرح وضو کے احکام کا مکلف ہوگا۔
لہٰذا سائل کو چاہیے کہ اپنی حالت کو مذکورہ شرعی ضابطے کے مطابق دیکھے۔ اگر وہ واقعۃً معذورِ شرعی کے حکم میں ہے تو شریعت نے اس کے لیے آسانی اور رخصت رکھی ہے، لہٰذا اسے نماز اور تلاوتِ قرآن ترک نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اطمینان کے ساتھ عبادات ادا کرنی چاہییں۔
حوالہ جات
تنویر الابصار مع الدر المختار: (305/1، ط: دار الفکر)
(و صاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو
بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضةبأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، و في) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل.(و حكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في، (لدلوك الشمس) (الإسراء: 78) (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
05/01/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


