03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نماز کے اوقات میں احتیاطی منٹوں کا شرعی ضابطہ
90831نماز کا بیاناوقاتِ نمازکا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

اگر کسی نے اوقاتِ صلوٰۃ کا نقشہ بنانا ہو اور اپنی پوری کوشش سے ضلع کا مرکز (درمیان) معلوم کیا ہو، لیکن پھر بھی بالکل درمیان معلوم کرنے میں کم از کم تین چار کلومیٹر کا فرق رہ گیا ہو، تو نقشے میں احتیاط کا وقت کتنا ہونا چاہیے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جس پوائنٹ (مرکز) کے لیے نقشہ اوقاتِ صلوٰۃ تیار کیا جاتا ہے، اس کے چاروں طرف 24 کلومیٹر تک وقت میں کوئی فرق نہیں پڑتا؛ البتہ 25 کلومیٹر کے فاصلے پر شرقاً غرباً ایک منٹ اور شمالاً جنوباً اس سے بھی کم کچھ سیکنڈوں کابعض موسموں میں فرق پڑ جاتا ہے۔ اسی حساب سے شرقاً غرباً ہر اگلے 25 کلومیٹر پر ایک ایک منٹ کا، اور شمالاً جنوباً بعض موسموں میں چند سیکنڈ کا فرق بڑھتا چلا جاتا ہے۔

اس اصول کے تحت، اگر مرکز معلوم کرنے میں تین چار کلومیٹر کا فرق رہ بھی گیا ہو، تو یہ وقت کے حساب سے محض چند سیکنڈز  بنتا ہے، جو کہ منٹوں کے اعتبار سے بالکل ناگزیر اور نہ ہونے کے برابر ہے۔

لہذا، اتنے معمولی فرق کی وجہ سے اصل نقشے کے اوقات میں کسی قسم کی احتیاط شامل کرنے کی اصلاً کوئی ضرورت نہیں۔ ہمارے ہاں عام نمازوں کے لیے تیار کیے جانے والے نقشوں میں احتیاطی وقت شامل نہیں کیا جاتا، البتہ سحر و افطار کے نقشوں میں احتیاطاً سحری اپنے اصل وقت سے دو منٹ پہلے اور افطار دو منٹ بعد درج کی جاتی ہے۔ لہذا اوقاتِ صلوٰۃ کے نقشوں میں کسی قسم کی احتیاط شامل کرنے کی ضرورت نہیں۔

تاہم، اگر نقشہ تیار کرنے والا احتیاطی پہلو کو مزید نمایاں کرنا چاہے، تو اصل اوقات میں تبدیلی کرنے کے بجائے نقشے کے نیچے نوٹ کی صورت میں یہ لکھنا زیادہ مناسب رہے گا:

نوٹ: "یہ نقشہ ضلعی مرکز کے مطابق ہے۔ احتیاط پر عمل کرنے کے لیے انتہائے سحر (سحری ختم کرنے) اور غروبِ آفتاب (افطار) میں دو دو منٹ، اور دیگر نمازوں کے شروع وقت میں ایک منٹ کی احتیاط کا لحاظ رکھنا مستحسن ہے۔"

حوالہ جات

.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

13/01/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب