03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حیض کی حالت میں طوافِ زیارت اور تاخیر کی صورت میں دم کا حکم
91794حج کے احکام ومسائلاحرام اور اس کے ممنوعات کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتی صاحبِ محترم اس مسئلہ کے بارے میں:

ایک عورت کو 11 ذوالحجہ کی عشاء کے وقت حیض آ گیا۔ اس نے قربانی کی وجہ سے اس سے پہلے طوافِ زیارت نہیں کیا تھا، کیونکہ حکومتی انتظام کے مطابق شام 6 بجے تک قربانی مکمل ہونے کا وقت دیا گیا تھا۔ اس نے احتیاطاً مزید 3 سے 4 گھنٹے انتظار کیا کہ شاید قربانی کی تکمیل کا کوئی پیغام (SMS) آ جائے، مگر کوئی پیغام موصول نہ ہوا۔

اس کے بعد جب وہ طوافِ زیارت کے لیے روانہ ہوئی تو اسے حیض شروع ہونے کا شک ہوا، لیکن یقین نہیں تھا؛ اس لیے اس نے طوافِ زیارت کر لیا۔ طواف مکمل کرنے کے بعد جب اس نے چیک کیا تو معلوم ہوا کہ حیض شروع ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے غالب گمان یہی ہے کہ طوافِ زیارت سے پہلے ہی حیض شروع ہو گیا تھا۔بعد ازاں، ایامِ نحر گزرنے کے بعد پاک ہونے پر اس نے دوبارہ طوافِ زیارت کر لیا۔

اب معلوم کرنا یہ ہے کہ:

1۔ کیا اس صورت میں دم لازم ہوگا یا نہیں؟

2۔ اگر دم لازم ہوگا تو بدنہ لازم ہوگا یا بکرا؟

3۔ کیا طوافِ زیارت میں تاخیر کی وجہ سے الگ دم بھی لازم ہوگا؟ مجموعی طور پر کتنے دم لازم ہوں گے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ :

1:طوافِ زیارت ایامِ نحر (10، 11 اور 12 ذوالحجہ) کے اندر ادا کرنا واجب ہے۔ اگر کوئی شخص بلا کسی شرعی عذر کے طوافِ زیارت کو ایامِ نحر کے بعد تک مؤخر کر دے تو یہ تاخیر مکروہِ تحریمی اور باعثِ گناہ ہوگی، ایسی صورت میں دم لازم ہوگا اور اس کے ساتھ توبہ و استغفار کرنا بھی ضروری ہوگا۔

البتہ اگر طوافِ زیارت میں تاخیر کسی معتبر شرعی عذر کی وجہ سے ہو، مثلاً کسی خاتون کو ایامِ نحر سے پہلے حیض آ جائے اور وہ ایامِ نحر گزرنے کے بعد پاک ہو، تو اس صورت میں تاخیر کی وجہ سے اس پر کوئی دم یا کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

ہاں! اگر کسی عورت کو ایامِ نحر شروع ہونے کے بعد حیض ایسےوقت میں آیا کہ حیض آنے سے پہلے وہ طوافِ زیارت کے کم از کم چار چکر مکمل کر سکتی تھی، مگر اس نے طواف نہ کیا، یا اسے ایامِ نحر سے پہلے حیض آیا، پھر ایامِ نحر کے دوران پاک ہو گئی اور 12 ذوالحجہ کے غروبِ آفتاب سے پہلے اسے اتنا وقت مل گیا تھا کہ وہ طواف کے کم از کم چار چکر ادا کر سکتی تھی، لیکن اس نے طواف نہیں کیا، تو ان دونوں صورتوں میں وہ تاخیر کی وجہ سےوہ گناہ گار بھی ہوگی اور اس پر دم بھی لازم ہوگا۔

2:اگر کسی شخص (مرد یاعورت )نے بغیر طہارت کے طوافِ زیارت کر لیا، تو جب تک وہ مکہ مکرمہ میں موجود ہے، اس پر طوافِ زیارت دوبارہ کرنا واجب ہے۔ پھر اگر اس نے ایامِ نحر (10، 11 اور 12 ذوالحجہ) کے اندر طوافِ زیارت کا اعادہ کر لیا، تو اس پر کچھ لازم نہیں ہوگا۔ البتہ اگر ایامِ نحر گزرنے کے بعد اعادہ کیا، تو اس پر ایک دم (ایک بکری) بھی لازم ہوگا۔ اور اگر کسی صورت میں  اس نے طواف کا اعادہ نہ کیا اور اپنے وطن واپس چلا گیا، تو بھی اس پرجزا لازم ہوگی ۔ پھراگر وہ صرف بے وضو حالت میں طوافِ زیارت کرکے اپنے وطن واپس گیا ہو، تو اس پر ایک بکری لازم ہوگی، اور اگر جنابت یا حیض کی حالت میں طوافِ زیارت کرکے واپس گیاہو ، تو اس پر ایک اونٹ یا ایک گائے لازم ہوگی۔

اس تفصیل کی روشنی میں، مذکورہ صورت میں آپ نے حالت حیض میں طواف کیا تھا تو  آپ پراس کا  اعادہ کرنا لازم تھا ۔ چونکہ آپ نےبعد میں  طوافِ زیارت کا اعادہ کر لیا تھا ، اس لیے آپ کا  طوافِ زیارت ادا ہو گیا ۔  البتہ ایامِ نحر گزرنے کے بعد اعادہ کرنے کی وجہ سے آپ پر تاخیر کی وجہ سے ایک بکری بطور دم ادا کرنا ہے  ۔تاہم حالت حیض میں طواف کرنے کی وجہ سے الگ سے کوئی دم آپ پر لازم نہیں ۔

حوالہ جات

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (2/ 519):

«وفي البحر أيضا: ولو حاضت بعدما قدرت على الطواف فلم تطف حتى مضى الوقت لزمها الدم لأنها مقصرة بتفريطها اهـ أي بعدما قدرت على أربعة أشواط. زاد في اللباب فقولهم لا شيء عليها لتأخير الطواف مقيد بما إذا حاضت في وقت لم تقدر على أكثر الطواف أو حاضت قبل أيام النحر ولم تطهر إلا بعد مضيها، لكن إيجاب الدم فيما لو حاضت في وقته بعد ما قدرت عليه مشكل. لأنه لا يلزمها فعله في أول الوقت، نعم يظهر ذلك فيما لو علمت وقت حيضها فأخرته عنه تأمل. .»

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (2/ 129):

«وإن كانت الطهارة من واجبات الطواف فإذا طاف من غير طهارة فما دام بمكة تجب عليه الإعادة؛ لأن الإعادة جبر له بجنسه، وجبر الشيء بجنسه أولى؛ لأن معنى الجبر، وهو التلافي فيه أتم ثم إن أعاد في أيام النحر فلا شيء عليه، وإن أخره عنها فعليه دم في قول أبي حنيفة، والمسألة تأتي إن شاء الله تعالى في موضعها، وإن لم يعد، ورجع إلى أهله فعليه الدم غير أنه إن كان محدثا فعليه شاة، وإن كان جنبا فعليه بدنة؛ لأن الحدث يوجب نقصانا يسيرا فتكفيه الشاة لجبره كما لو ترك شوطا فأما الجنابة فإنها توجب نقصانا متفاحشا؛ لأنها أكبر الحدثين فيجب لها أعظم الجابرين.

وقد روي عن ابن عباس رضي الله عنه أنه قال البدنة: " تجب في الحج في موضعين أحدهما: إذا طاف جنبا، والثاني إذا جامع بعد الوقوف ".»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (2/ 517):

«(قوله ثم طاف للزيارة) أي لفعل طواف الزيارة الذي هو ثاني ركني الحج قال في السراج: ويسمى طواف الإفاضة وطواف يوم النحر والطواف المفروض اهـ.

وشرائط صحته: الإسلام وتقديم الإحرام، والوقوف، والنية، وإتيان أكثره، والزمان، وهو يوم النحر وما بعده والمكان وهو حول البيت داخل المسجد، وكونه بنفسه ولو محمولا فلا تجوز النيابة إلا لمغمى عليه. وواجباته المشي للقادر والتيامن وإتمام السبعة والطهارة عن الحدث وستر العورة وفعله أيام النحر، وأما الترتيب بينه وبين الرمي والحلق فسنة ولا مفسد له ولا فوات قبل الممات، ولا يجزي عنه البدل إلا إذا مات بعد الوقوف بعرفة وأوصى بإتمام الحج تجب البدنة لطواف الزيارة وجاز حجة»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (2/ 518):

«و) طواف الزيارة (أول وقته بعد طلوع الفجر يوم النحر وهو فيه) أي الطواف في يوم النحر الأول (أفضل ويمتد) وقته إلى آخر العمر (وحل له النساء) بالحلق السابق، حتى لو طاف قبل الحلق لم يحل له شيء، فلو قلم ظفره مثلا كان جناية لأنه لا يخرج من الإحرام إلا بالحلق (فإن أخره عنها) أي أيام النحر ولياليها منها (كره) تحريما (ووجب دم) لترك الواجب، وهذا عند الإمكان، فلو طهرت الحائض إن قدر أربعة أشواط ولم تفعل لزم دم وإلا لا»»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (2/ 551):

«قوله إن لم يعده) أي الطواف الشامل للقدوم والصدر والفرض، فإن أعاده فلا شيء عليه فإنه متى طاف أي طواف مع أي حدث ثم أعاده سقط موجبه. اهـ. ح قلت: لكن إذا أعاد طواف الفرض بعد أيام النحر لزمه دم عند الإمام للتأخير، وهذا إن كانت الإعادة لطوافه جنبا وإلا فلا شيء عليه كما لو أعاده في أيام النحر مطلقا كما في الهداية، ومشى عليه في البحر وصححه في السراج وغيره، وزعم في غاية البيان أنه سهو لتصريح الرواية في شرح الطحاوي بلزوم الدم بالتأخير مطلقا، وأجاب في البحر بأن هذه رواية أخرى»

 

اسداللہ بن قوت خ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کر

 17/صفر /8144 ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسداللہ بن قوت خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب