| 91282 | طلاق کے احکام | بچوں کی پرورش کے مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دینِ متین اور مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ:
میرا نام انس ضیاء ولد خواجہ اظہر ہے۔ میری بیوی کا نام ہنزا نثار دختر نثار احمد ہے، جو میری نظر میں بدکار اور زانیہ ہے۔ میں نے خلع سے پہلے اسے اپنے گھر میں اپنی آنکھوں سے زنا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میرے پاس اس کے ویڈیو ثبوت بھی موجود ہیں اور اہلِ محلہ بھی اس معاملے کے گواہ ہیں۔ نیز، ہنزا کو زانیہ ثابت کرنے کے لیے میں لعان کی قسم بھی اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔
ہنزا نثار سے میری دو بیٹیاں ہیں: مایرہ انس، عمر چھ سال، اور آمنہ، عمر پانچ سال۔
ہنزا نثار نے بعد میں دوسرا نکاح کر لیا ہے ۔ وہ لے پالک ہے ، اس کی ماں یا بہن کوئی نہیں ہے ۔
اب ہنزا نثار عدالت کے ذریعے میری نابالغ اور معصوم بیٹیوں کو مجھ سے لینا چاہتی ہے، جبکہ میں انہیں ان کی ماں کی بری صحبت سے دور رکھنا چاہتا ہوں۔
معلوم یہ کرنا ہے:
1. اس صورت میں بچوں کی پرورش (حضانت) کا حق کس کو حاصل ہے؟
2. کیا ایسی عورت سے بچوں کی ملاقات کروانا شرعاً درست ہے یا نہیں؟
تنقیح:سائل کے بیان کے مطابق، ہنزہ لے پالک ہے اور اس کا کوئی سگا رشتہ دار نہیں ہے۔ نیز، اس نے بعد میں ایک اجنبی شخص سے نکاح کر لیا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1: واضح رہے کہ اگر عورت ایسے شخص سے نکاح کر لے جو بچوں کا ذی رحم محرم نہ ہو تو اس کا حقِ پرورش ساقط ہو جاتا ہے۔ لہٰذا مذکورہ صورت میں، چونکہ ماں نے بچوں کے ذی رحم محرم سے نکاح نہیں کیا، اس لیے اسے حقِ پرورش حاصل نہیں ہے اور کردار کا فساد بھی اس کی تائید کرتا ہے۔۔ نیز، چونکہ ہنزہ لے پالک ہے اور اس کا کوئی سگا رشتہ دار موجود نہیں، اس لیے حقِ پرورش باپ کو حاصل ہوگا۔
2:طلاق اور جدائی کے بعد والد کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بچوں کی ماں کو ان سے ملاقات کرنے سے روکے، بلکہ ماں کو شرعاً یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے بچوں سے ملاقات کر سکتی ہے۔ البتہ مذکورہ صورت میں اگر باپ کو یہ اندیشہ ہو کہ بچوں پر ماں کی بری صحبت کا اثر پڑے گا یا وہ بچوں کو باپ کے خلاف ورغلائے گی، تو وہ کسی قابلِ اعتماد خاتون کی موجودگی میں ماں کی بچوں سے ملاقات کروا دے۔ اگر یہ صورت بھی ممکن نہ ہو، تو بچوں کے دین، اخلاق اور تربیت کا تحفظ مقدم ہے؛ لہٰذا ایسی صورت میں باپ بچوں کو ماں سے ملاقات کرنے سے روک سکتا ہے۔
حوالہ جات
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (4/ 42):
ومنها أن لا تكون ذات زوج أجنبي من الصغير فإن كانت فلا حق لها في الحضانة، وأصله ما روى عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن امرأة أتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله إن ابني هذا كان بطني له وعاء وحجري له حواء وثديي له سقاء ويزعم أبوه أن ينزعه مني فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم «أنت أحق به منه ما لم تنكحي»
«فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» (4/ 367):
«قوله وإذا وقعت الفرقة إلخ) هو على الإطلاق في غير ما إذا وقعت بردتها لحقت أو لا لأنها تحبس وتجبر على الإسلام، فإن تابت فهي أحق به وما إذا لم تكن أهلا للحضانة بأن كانت فاسقة أو تخرج كل وقت وتترك البنت ضائعة أو كانت أمة أو أم ولد أو مدبرة أو مكاتبة ولدت ذلك الولد قبل الكتابة أو متزوجة بغير محرم، وما إذا كان الأب معسرا وأبت الأم أن تربي إلا بأجر وقالت: العمة أنا أربي بغير أجر فإن العمة أولى هو الصحيح.»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (3/ 571):
«وفي الحاوي: له إخراجه إلى مكان يمكنها أن تبصر ولدها كل يوم كما في جانبها فليحفظ.
قلت: وفي السراجية: إذا سقطت حضانة الأم وأخذه الأب لا يجبر على أن يرسله لها، بل هي إذا أرادت أن تراه لا تمنع من ذلك «قوله: إخراجه إلخ) أنت خبير بأن هذا محمول على ما إذا لم يكن لها حق الحضانة إذ لو كان لها الحضانة لا تمكنه من أخذه منها فضلا عن إخراجه عنها إلى قرية،.»
اسداللہ بن قوت خان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
7 /صفر /8144 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسداللہ بن قوت خان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


