| 91692 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
عرض ہے کہ ہمارے والد مرحوم محمد کا انتقال 1999ء میں ہوا۔ ان کی اہلیہ آمنہ اس سے قبل 1993ء میں وفات پاچکی تھیں، لہٰذا والد مرحوم کی وفات کے وقت ان کی کوئی زوجہ حیات نہ تھی۔
مرحوم کی کل اولاد چھ بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں، جن کے نام یہ ہیں: عبدالرحمن، عبدالرزاق، عبدالقادر، نور محمد، عبدالغفار، محمد ہارون، رابعہ، سکینہ، رشیدہ اور بلقیس۔ ان میں سے بیٹی بلقیس اپنے والد کی زندگی ہی میں 1991ء میں انتقال کر گئی تھیں۔ مرحومہ بلقیس کے پسماندگان میں شوہر محمد اسماعیل، دو بیٹے (محمد طارق، محمد سلیمان) اور تین بیٹیاں (سیما، طاہرہ اور جویریہ) موجود ہیں۔
والد مرحوم کی وفات کے بعد دیگر ورثاء میں سے بھی بعض کا انتقال ہوگیا، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
بیٹی رابعہ کا انتقال 2004ء میں ہوا۔ ان کے شوہر صالح محمد کا بعد میں 2017ء میں انتقال ہوگیا۔ ان کے تین بیٹے (محمد فاروق، عبدالكریم، محمد زبیر) اور تین بیٹیاں (مریم، فہمیدہ، صاءمہ) ہیں۔
بیٹی سکینہ کا انتقال 2014ء میں ہوا۔ وہ مطلقہ تھیں اور ان کی صرف ایک بیٹی سیما ہے۔
بیٹا عبدالغفار کا انتقال 2022ء میں ہوا۔ ان کی بیوہ نجمہ حیات ہیں اور ان کی کوئی اولاد نہیں۔
بیٹا عبدالقادر کا انتقال 2023ء میں ہوا۔ ان کی بیوہ رضیہ حیات ہیں اور ان کے تین بیٹے (سمیر، انصار، محمد) اور ایک بیٹی (شہناز) ہے۔
بیٹا عبدالرحمن حیات ہیں۔ ان کی اہلیہ فریدہ کا انتقال 2009ء میں ہوچکا ہے۔ ان کے دو بیٹے (محمد یاسین، محمد شعیب) اور دو بیٹیاں تھیں، جن میں یاسمین حیات ہیں جبکہ شہنیلا کا دو ماہ قبل انتقال ہوگیا۔
بیٹا عبدالرزاق حیات ہیں۔ ان کی اہلیہ یاسمین حیات ہیں اور ان کے چار بیٹے (محمد شاہد، محمد شہزاد، محمد شکیل، محمد سہیل) اور ایک بیٹی (بلقیس) ہے۔
بیٹا محمد ہارون حیات ہیں۔ ان کی اہلیہ بلقیس کا انتقال 2023ء میں ہوچکا ہے، جبکہ ان کے پاس ایک لے پالک بیٹی فائزه ہے۔
بیٹا نور محمد حیات ہیں۔ ان کی اہلیہ زلیخا حیات ہیں اور ان کے دو بیٹے (محمد ناصر، محمد نبیل) اور ایک بیٹی (نور العین) ہے۔
بیٹی رشیدہ حیات ہیں۔ ان کے شوہر عبد الستار حیات ہیں اور ان کی کوئی اولاد نہیں۔
مرحوم محمد کے ترکہ میں کل چھ دکانیں شامل ہیں، جن میں سے ایک دکان کی فروخت کا عمل جاری ہے۔ تمام قرض ، واجب الاداءاخراجات اور دیگر تمام شرعی واجبات ادا کرنے کے بعد قابلِ تقسیم ترکہ دو کروڑ چھپن لاکھ روپے (25,600,000 روپے) باقی ہے۔
اب دریافت طلب امور یہ ہیں:
1:مرحوم محمد کے شرعی ورثاء کون کون ہیں؟
2:256,00000 روپے کی شرعی تقسیم کس تناسب سے ہوگی؟
3:والد کی وفات کے بعد انتقال کرنے والے ورثاء (بیٹیاں اور بیٹوں کے حصّے) کا کیا حکم ہے؟
4:والد سے پہلے انتقال کرنے والے ورثاء کا کیا حکم ہے؟
5:اگر والد نے اپنی وفات سے پہلے اپنے فوت شدہ ورثاء کے حصّے کے حوالے سے کہی یا زبانی یا تحریری دستاویزات لکھی ہے اس کا کیا حکم ہے؟
6:ان فوت شدہ ورثاء کے حصّے ان کے اپنے ورثاء میں کس طرح تقسیم کیے جائیں؟
7:جو ورثاء حیات ہیں ان کے شرعی تقسیم کس تناسب سے کی جائے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ میراث کی تقسیم کسی معین جائیداد کے ساتھ خاص نہیں ہوتی، بلکہ میت نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، مکان، دکان، پلاٹ، نقد رقم، سونا، چاندی، زیورات، کپڑے، برتن، اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان چھوڑا ہو اور مرحوم کا وہ قرض جس کی ادائیگی کسی شخص یا ادارے کے ذمے واجب ہے، یہ سب میت کا ترکہ ہوتا ہے۔
مرحوم محمدکے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز و تکفین کا معتدل خرچہ (اگر كسی وارث نے یہ خرچہ بطورِ تبرع ادا نہ کیا ہو) نکالا جائے گا۔ پھر مرحوم کا قرضہ ادا کیا جائے گا۔ پھر اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کے ایک تہائی (1/3) تک اس کو نافذ کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کو مرحوم کے انتقال کے وقت موجود ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔
1: مرحوم محمد کے شرعی ورثاء :
مرحوم محمد کے شرعی ورثاء میں ان کے چھ بیٹے: عبدالرحمن، عبدالرزاق، عبدالقادر، نور محمد، عبدالغفار اور محمد ہارون؛ نیزتین بیٹیاں: رابعہ، سکینہ اور رشیدہ شامل ہیں۔
2: 2 کروڑ 56 لاکھ روپے کی تقسیم:
مرحوم محمدکی میراث ان کی وفات کے وقت موجود ورثاء (6 بیٹوں اور 3 بیٹیوں) میں تقسیم ہوگی۔ میت کے کل ترکہ کو فیصدی اعتبارسےتقسیم کیا جائے تو کل میراث میں مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو ((13.3333%اور ہر ایک بیٹی کو ((6.6667%فیصد حصہ ملے گا۔
میت کے کل ترکہ (مالیت25,600,000 روپے) میں سے درج ذیل نقشے کے مطابق موجود ورثاء کو ان کے حصے دیئے جائیں گے:
مورث مرحوم محمدکا چارٹ – کل ترکہ: 15عددی حصے
|
نمبر شمار |
ورثاء9 |
عددی حصے15 |
فیصدی حصے 100 |
رقم 2,5600000 |
|
1 |
بیٹا(عبدالرحمٰن) |
2 |
13.3333% |
3,413,333.33 |
|
2 |
بیٹا(عبدالرزاق) |
2 |
13.3333% |
3,413,333.33 |
|
3 |
بیٹا(عبدالقادر) |
2 |
13.3333% |
3,413,333.33 |
|
4 |
بیٹا(نورمحمد) |
2 |
13.3333% |
3,413,333.33 |
|
5 |
بیٹا(عبدالغفار) |
2 |
13.3333% |
3,413,333.33 |
|
6 |
بیٹا(محمد ہارون) |
2 |
13.3333% |
3,413,333.33 |
|
7 |
بیٹی(رابعہ) |
1 |
6.6667% |
1,706,666.67 |
|
8 |
بیٹی(سکینہ) |
1 |
6.6667% |
1,706,666.67 |
|
9 |
بیٹی(رشیدہ) |
1 |
6.6667% |
1,706,666.67 |
3:والد کی وفات کے بعد فوت ہونے والے ورثاء کے حصے کا حکم:
جو ورثاء 1999ء میں مرحوم محمد کی وفات کے وقت زندہ تھے، یعنی چھ بیٹے اور تین بیٹیاں، وہ سب مرحوم محمد کی میراث میں اپنے اپنے شرعی حصے کے مستحق بن چکے تھے، خواہ اس وقت مرحوم کی میراث تقسیم ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ بعد میں جب ان ورثاء میں سے کسی کا انتقال ہوا، تو مرحوم محمد کی میراث میں اس کا مقررہ حصہ اس کے اپنے شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگا۔
4: والد سے پہلے فوت ہونے ورثاءکا میراث میں حصے کا حکم:
واضح رہے کہ میت کے وارث وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس کی وفات کے وقت زندہ ہوں۔ لہٰذا، اگر کوئی وارث اپنے مورث کی زندگی ہی میں فوت ہو گیا ہو تو وہ میراث میں سے حصہ کا مستحق نہیں ہوگا؛ البتہ اگر اس کی اولاد میں سے کوئی موروث کے وفات کے وقت مستحق بنتا ہو، تو اسے اس کا مقررہ حصہ دیا جائے گا۔
چونکہ مرحوم محمد کی وفات کے وقت ان کی زوجہ اور بیٹی بلقیس زندہ نہیں تھیں، اس لیے انہیں میراث میں سے حصہ نہیں ملے گا۔ نیز، ان کے (بلقیس کے) شوہر اور بچوں کو بھی مرحوم محمد کے ترکہ میں سے ان کی طرف سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔
:5 والد کی تحریری یا زبانی وصیت کا حکم:
اسلامی قانونِ وراثت کی رو سے وراثت کے استحقاق کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ وارث، مورث کی وفات کے وقت زندہ موجود ہو۔اگر کوئی رشتہ دار (مثلاً بیٹا یا بیٹی) مورث کی زندگی ہی میں وفات پا جائے، تو وہ شرعاً وارث نہیں رہتا اور نہ ہی اس کا حصہ خود بخود اس کی اولاد (پوتے، پوتیوں یا نواسے، نواسیوں) کی طرف منتقل ہوتا ہے ۔
تاہم، اگر مورث نےاپنی زندگی میں ان فوت شدہ ورثاء کے حق میں کوئی زبانی یا تحریری طورپرانہیں کچھ دینے کا کہا یا لکھا ہے ، تو:
الف. اگر یہ کہا یا لکھا ہوکہ "میرے مرنے کے بعد میرے فلاں فوت شدہ وارث کا حصہ اس کے بچوں کو دے دیا جائے، تو یہ شرعاً وصیت شمار ہوتی ہے ۔ایسی وصیت کا نفاذ مورث کی وفات کے بعد ورثاء میں تقسیم میراث سے پہلے ہوتا ہے بشرط یہ کہ وہ بچے خود مرحوم کے وفات کے وقت شرعی وارث نہیں تھے ۔ ایسی وصیت میت کے کل ترکہ کے ایک تہائی (1/3) حصے تک نافذ العمل ہوتی ہے۔ اگر وصیت ایک تہائی سے زیادہ ہو، تو زائد حصے کا نفاذ دیگر زندہ شرعی ورثاء کی رضامندی پر موقوف ہے ۔اگر ورثاء میں کوئی نابالغ ہو، تو اس کی اجازت کا اعتبار نہیں ہوگا ۔
اگر مورث نے اپنی زندگی اور صحت کی حالت میں فوت شدہ اولاد کے بچوں کو کچھ دینے کا لکھا یا کہا ہے ، تو وہ بطور ہبہ ہوگا ۔ہبہ مکمل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ زندگی ہی میں اس چیز پر ان کو مکمل قبضہ دیکرتصرف کا اختیار دیا جائے ۔محض کاغذات میں نام منتقل کر دینے سے ہبہ مکمل نہیں ہوتا جب تک قبضہ نہ دیا جائے ۔اگر ان کے قبضہ میں نہ دیا ہو اور اس حالت میں موروث کی وفات ہوگئ ہو تو وہ میراث میں تقسیم ہوگا۔
6: فوت ہونے والے ورثاء کے حصے کاتقسیم :
ہر فوت شدہ وارث کا حصہ پہلے الگ کیا جائے گا، پھر اس کی وفات کے وقت موجود اس کے شرعی ورثاء میں درج ذیل طریقے سے تقسیم ہوگا، مثلاً:
بیٹی (رابعہ) کی وراثت کی تقسیم:
بیٹی (رابعہ) مرحومہ کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز و تکفین کا معتدل خرچہ نکالا جائے گا۔ پھر مرحومہ کا قرضہ اور جائز وصیت (تہائی مال تک) نافذ کی جائے گی۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کو مرحومہ کے انتقال کے وقت موجود ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔رابعہ مرحومہ کی میراث ان کی وفات کے وقت موجود ورثاء (شوہر، تین بیٹے اورتین بیٹیوں) میں تقسیم ہوگی۔ کل میراث میں سے مرحومہ کے شوہر کو (25%) جبکہ باقی ماندہ اولاد کو اس طرح ملے گا کہ لڑکے کے دو حصے ہوں گے اور لڑکی کا ایک حصہ ہوگا۔ میت کے ترکہ (1,706,666.67 روپے) میں سے درج ذیل نقشے کے مطابق حصے دیئے جائیں گے:
مرحومہ رابعہ کی وراثت کا چارٹ (کل حصے: 12)
کل رقم:) 1,706,666.67) روپے
|
نمبر شمار |
ورثاء7 |
عددی حصے12 |
فیصدی حصے 100 |
رقم1,706,666.67 روپے |
|
1 |
شوہر(صالح محمد) |
3 |
25% |
426,666.67 |
|
2 |
بیٹا(محمد فاروق) |
2 |
16.6667% |
284,444.44 |
|
3 |
بیٹا(عبدالکریم) |
2 |
16.6667% |
284,444.44 |
|
4 |
بیٹا(محمد زبیر) |
2 |
16.6667% |
284,444.44 |
|
5 |
بیٹی(مریم) |
1 |
8.3333% |
142,222.22 |
|
6 |
بیٹی(فہمیدہ) |
1 |
8.3333% |
142,222.22 |
|
7 |
بیٹی(صاءمہ) |
1 |
8.3333% |
142,222.22 |
بیٹی (سکینہ) کی وراثت کی تقسیم:
بیٹی مرحومہ )سکینہ (کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز و تکفین کا معتدل خرچہ نکالا جائے گا۔ پھر مرحومہ کا قرضہ اور جائز وصیت (تہائی مال تک) نافذ کی جائے گی۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کو مرحومہ کے انتقال کے وقت موجود ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔ مرحومہ )سکینہ (کی میراث ان کی وفات کے وقت موجود ورثاء (ایک بیٹی، چھ بھائی اور ایک بہن) میں تقسیم ہوگی۔ کل میراث میں سے مرحومہ کی بیٹی کو (50%)، ہر بھائی کو( 7.6923%) جب کہ بہن کو(3.8462%) میت کے ترکہ (1,706,666.67روپے) میں سے درج ذیل نقشے کے مطابق حصے دیئے جائیں گے:
مرحومہ )سکینہ( کی وراثت کا چارٹ (کل حصے:26)
کل رقم:)1,706,666.67) روپے
|
ورثاء8 |
عددی حصے26 |
فیصدی حصے 100 |
رقم 1,706,666.67 روپے |
|
|
1 |
بیٹی(سیما ) |
13 |
50% |
853,333.34 |
|
2 |
بھائی (عبدالرحمن) |
2 |
7.6923% |
131,282.05 |
|
3 |
بھائی(عبدالرزاق) |
2 |
7.6923% |
131,282.05 |
|
4 |
بھائی(عبدالقادر) |
2 |
7.6923% |
131,282.05 |
|
5 |
بھائی(نورمحمد) |
2 |
7.6923% |
131,282.05 |
|
6 |
بھائی(عبدالغفار) |
2 |
7.6923% |
131,282.05 |
|
7 |
بھائی(محمد ہارون) |
2 |
7.6923% |
131,282.05 |
|
8 |
بہن (رشیدہ) |
1 |
3.8462% |
65641.03 |
مرحوم عبدالغفار کی وراثت کی تقسیم :
بیٹا مرحوم ) عبدالغفار (کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز و تکفین کا معتدل خرچہ نکالا جائے گا۔ پھر مرحوم کا قرضہ اور جائز وصیت (تہائی مال تک) نافذ کی جائے گی۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کو مرحوم کے انتقال کے وقت موجود ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔ مرحوم ) عبدالغفار (کی میراث ان کی وفات کے وقت موجود ورثاء (ایک بہن ، پانچ بھائی اوربیوی) میں تقسیم ہوگی۔ کل میراث میں سے مرحوم کی زوجہ کو (25%)،جبکہ باقی ماندہ ترکہ پانچ بھائیوں اور ایک بہن میں اس اصول کے مطابق تقسیم ہوگا کہ ہر بھائی کو بہن کے مقابلے میں دوگنا حصہ ملے گا۔ ہر بھائی کو(13.6364%) جب کہ بہن کو(6.8182%) میت کے ترکہ (3,544,615.38روپے) میں سے درج ذیل نقشے کے مطابق حصے دیئے جائیں گے:
مرحوم )عبدالغفار ( کی وراثت کا چارٹ (کل حصے:44)
کل رقم: 3,544,615.38)) روپے
|
نمبر شمار |
ورثاء7 |
عددی حصے44 |
فیصدی حصے 100 |
رقم 3,544,615.38 روپے |
|
1 |
بیوہ (نجمہ) |
25% |
886,153.85 |
|
|
2 |
بھائی(عبدالرحمن) |
6 |
13.6364% |
483,356.64 |
|
3 |
بھائی(عبدالرزاق) |
6 |
13.6364% |
483,356.64 |
|
4 |
بھائی(عبدالقادر) |
6 |
13.6364% |
483,356.64 |
|
5 |
بھائی(نورمحمد) |
6 |
13.6364% |
483,356.64 |
|
6 |
بھائی (محمد ہارون) |
6 |
13.6364% |
483,356.64 |
|
7 |
بہن(رشیدہ) |
3 |
6.8182% |
241,678.32 |
مرحوم عبدالقادر کی وراثت کی تقسیم :
بیٹا مرحوم ) عبدالقادر )کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز و تکفین کا معتدل خرچہ نکالا جائے گا۔ پھر مرحوم کا قرضہ اور جائز وصیت (تہائی مال تک) نافذ کی جائے گی۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کو مرحوم کے انتقال کے وقت موجود ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔ مرحوم ) عبدالقادر (کی میراث ان کی وفات کے وقت موجود ورثاء (بیوی، تین بیٹے اورایک بیٹی) میں تقسیم ہوگی۔ کل میراث میں سے مرحوم کی بیوی کو (12.50%)، ہر ببیٹے کو(25%) جب کہ بیٹی کو(12.50%)میت کے ترکہ (3,413,333.33 روپے) میں سے درج ذیل نقشے کے مطابق حصے دیئے جائیں گے:
مرحوم )عبدالقادر ( کی وراثت کا چارٹ (کل حصے:8)
کل رقم: 4,027,972.02)) روپے
|
نمبر شمار |
ورثاء5 |
عددی حصے8 |
فیصدی حصے 100 |
رقم 4,027,972.02روپے |
|
1 |
بیوہ (رضیہ) |
1 |
12.50% |
503,496.50 |
|
2 |
بیٹا (سمیر) |
2 |
25% |
1,006,992.99 |
|
3 |
بیٹا(انصار) |
2 |
25% |
1,006,992.99 |
|
4 |
بیٹا (محمد) |
2 |
25% |
1,006,992.99 |
|
5 |
بیٹی(شہناز) |
1 |
12.50% |
503,496.50 |
7:زندہ ورثاءکے حصوں کا حکم:
عبدالرحمن، عبدالرزاق، نور محمد، محمد ہارون اور رشیدہ براہِ راست اپنے حصے (بیٹے 4,027972.02روپے اور بیٹی 2,013986.02 روپے) کے مالک ہیں۔ علاوہ ازیں، فوت شدہ بھائیوں اور بہنوں کے حصوں سے بھی (عصبہ ہونے کی صورت میں) انہیں مزید حصہ مل سکتا ہے۔
زندہ ورثاء کے حصوں کاچارٹ :
|
نمبر شمار |
نام ورثاء |
عددی حصے |
فی کس رقم (روپے) |
|
1 |
عبدالرحمٰن (بیٹا) |
10 |
4,027972.02 |
|
2 |
عبدالرزاق (بیٹا) |
10 |
4,027972.02 |
|
3 |
نور محمد (بیٹا) |
10 |
4,027972.02 |
|
4 |
محمد ہارون (بیٹا) |
10 |
4,027972.02 |
|
5 |
رشیدہ (بیٹی) |
5 |
2,013986.02 |
|
6 |
سیما (نواسی - سکینہ کی بیٹی) |
13 |
853,333.34 |
|
7 |
نجمہ (بہو - عبدالغفار کی بیوہ) |
11 |
886153.85 |
|
8 |
سمیر (پوتا - عبدالقادر کا بیٹا) |
2 |
1006992.99 |
|
9 |
انصار (پوتا - عبدالقادر کا بیٹا) |
2 |
1006992.99 |
|
10 |
محمد (پوتا - عبدالقادر کا بیٹا) |
2 |
1006992.99 |
|
11 |
رضیہ (بہو - عبدالقادر کی بیوہ) |
1 |
503496.5025 |
|
12 |
شہناز (پوتی - عبدالقادر کی بیٹی) |
1 |
503496.5025 |
|
13 |
صالح محمد (داماد - رابعہ کےشوہر) |
3 |
426,666.67 |
|
14 |
محمد فاروق (نواسا - رابعہ کا بیٹا) |
2 |
284,444.44 |
|
15 |
عبدالکریم (نواسا - رابعہ کا بیٹا) |
2 |
284,444.44 |
|
16 |
محمد زبیر (نواسا - رابعہ کا بیٹا) |
2 |
284,444.44 |
|
17 |
مریم (نواسی - رابعہ کی بیٹی) |
1 |
142,222.22 |
|
18 |
فہمیدہ (نواسی - رابعہ کی بیٹی) |
1 |
142,222.22 |
|
19 |
صائمہ (نواسی - رابعہ کی بیٹی) |
1 |
142,222.22 |
|
— |
مجموعہ (تمام زندہ19 مستحقین) |
89 |
25,600,000.00 |
حوالہ جات
قال في الفتاوى الهندية:
"وهوأن يموت بعض الورثةقبل قسمة التركة كذا في محيط السرخسي وإذا مات الرجل ،ولم تقسم تركته حتى مات بعض ورثته ......فإن كانت ورثة الميت هم ورثة الميت الأول،ولا تغير في القسمة تقسم قسمة واحدة ؛ لأنه لا فائدة في تكرار القسمة بيانه إذا مات وترك بنين وبنات ثم مات أحد البنين أو إحدى البنات ولا وارث له سوى الإخوة والأخوات قسمت التركة بين الباقين على صفة واحدة للذكر مثل حظ الأنثيين فيكتفي بقسمة واحدة بينهم وأما إذا كان في ورثة الميت الثاني من لم يكن وارثا للميت الأول فإنه تقسم تركة الميت الأول ، أولا ليتبين نصيب الثاني ثم تقسم تركة الميت الثاني بين ورثته فإن كان يستقيم قسمة نصيبه بين ورثته من غير كسر فلا حاجة إلى الضرب." (ج:51,ص:412, المكتبة الشاملة)
قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ .........وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ...... } [النساء: 12, 11]
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (5/ 613):
وإن أقر المريض لوارثه) بمفرده أو مع أجنبي بعين أو دين (بطل) خلافا للشافعي - رضي الله تعالى عنه -: ولنا حديث «لا وصية لوارث ولا إقرار له بدين» (إلا أن يصدقه) بقية الورثة فلو لم يكن وارث آخر أو أوصى لزوجته أو هي له صحت الوصية وأما غيرهما فيرث الكل فرضا وردا فلا يحتاج لوصية شرنبلالية وفي شرحه للوهبانية أقر بوقف، ولا وارث له فلو على جهة عامة صح بتصديق السلطان أو نائبه وكذا لو وقف خلافا لما زعمه الطرسوسي فليحفظ
اسداللہ بن قوت خان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
9 1/صفر /8144 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسداللہ بن قوت خان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


