03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دوطرفہ شرط لگانے کا حکم اور جائز متبادل
92297سود اور جوے کے مسائلجوا اور غرر کے احکام

سوال

اگر کسی مقابلے میں عام طور پر شرکت کے لیے فیس لی جاتی ہو، لیکن کسی شخص کو ایک مرحلہ یا ٹیسٹ کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد بغیر کسی فیس کے مقابلے میں شرکت کا موقع دیا جائے، اور وہ شخص خود کوئی رقم ادا نہ کرے، جبکہ مقابلے کے انعامات دیگر شرکاء سے وصول کی گئی فیس کی رقم سے دیے جاتے ہوں۔

1: کیا ایسے شخص کے لیے مقابلے میں کامیاب ہونے کی صورت میں انعام حاصل کرنا شرعاً جائز اور حلال ہے؟

2:اور اگر مذکورہ صورت میں اس شخص کے لیے انعام حاصل کرنا جائز نہ ہو، تو اسے حلال بنانے کی کیا جائز صورت ہوسکتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۔ واضح رہے کہ مقابلے میں دو طرفہ شرط لگانا جائز نہیں ہے، مثلاً زید کہے: ’’اگر عمر میچ جیت گیا تو میں اسے ایک ہزار روپے دوں گا، اور اگر میں جیت گیا تو عمر مجھے ایک ہزار روپے (یا اس سے کم یا زیادہ) دے گا۔‘‘

البتہ اگر شرط دو طرفہ ہو اور دو فریقوں کے درمیان ایک تیسرا فریق بطورِ محلل شامل کیا جائے، جو مقابلے میں باقاعدہ شریک بھی ہو، اس پر کوئی مال مشروط نہ ہو، اور اس کے جیتنے اور ہارنے دونوں کا احتمال موجود ہو، اس طرح کہ اگر وہ جیت جائے تو دونوں فریقوں کا مال لے جائے اور اگر ہار جائے تو اس پر کسی کو کچھ دینا لازم نہ ہو، تو ایسی صورت جائز ہے۔

لہٰذا مذکورہ صورت میں جو شخص بغیر فیس کے مقابلے میں شامل ہو رہا ہے،اگر وہ اکیلا مقابلہ کر رہا ہو اور اس نے شروع سے ہی کچھ بھی ادا نہ کیا ہو، تو اس صورت میں اس کے لیے جیتنے کی صورت میں انعام حاصل کرنا جائز ہوگا۔ لیکن اگر اس نے شروع میں کوئی رقم جمع کی ہو، بعد میں کسی مرحلے پر کامیاب ہونے کی صورت میں اس سے رقم نہ لی جاتی ہو، تو اس کے لیے انعام وصول کرنا جائز نہیں ہوگا؛ کیونکہ ایسی صورت میں یہ معاملہ شروع ہی سے قمار اور جوئے ہی کی ایک صورت میں ہے۔

اس طرح اگر وہ کسی ٹیم کا حصہ ہو اور ٹیم کے دیگر افراد نے فیس ادا کی ہو، جبکہ اس نے فیس ادا نہ کی ہو، تو ایسی صورت میں بھی اس کے لیے انعام حاصل کرنا جائز نہیں ہوگا۔

2۔ اس کی جائز متبادل صورت یہ ہے کہ ایک ٹیم مقابلے میں ایسی شامل کی جائے جو مقابلے میں باقاعدہ حصہ لے، اس کے جیتنے اور ہارنے دونوں کا احتمال موجود ہو، لیکن اس سے مقابلے میں شرکت یا انعام کے لیے کوئی رقم وصول نہ کی جائے۔ ایسی صورت میں اس فریق یا ٹیم یا کسی دوسرے فریق کےجیتنے کی صورت میں انعام حاصل کرنا جائز ہوگا ۔

حوالہ جات

«المحيط البرهاني» (5/ 323):

ثم إذا كان المال مشروطاً من الجانبين، فأدخلا بينهما ثالثاً، وقالا للثالث: إن سبقتنا فالمالان، وإن سبقناك فلا شيء لنا، يجوز استحساناً لانتفاء معنى القمار في حق الثالث، وهو مروي عن سعيد بن المسيب.

ثم إذا أدخلا ثالثاً، فإن سبقهما الثالث استحق المالين، وإن سبقا الثالث إن سبقاه معاً فلا شيء لواحد منهما على صاحبه؛ لانعدام شرط وجوب المال فيما بينهما، وهو سبق أحدهما على صاحبه، وإن سبقاه على التعاقب، فالذي سبق صاحبه يستحق المال على صاحبه لوجود الشرط في حقه، وصاحبه لا يستحق المال عليه، لانعدام الشرط في حق صاحبه.

قال محمد رحمه الله في «الكتاب» : إدخال الثالث إنما يكون حيلة للجواز إذا كان الثالث يتوهم أن يكون سابقاً ومسبوقاً، فأما إذا كان يتيقن بأنه يسبقهما لا محالة، أو يتيقن أنه يصير مسبوقاً لا يجوز؛ لأن القياس أن لا يجوز، وإن انتفى معنى القمار في حقه لما فيه من تعليق تمليك المال بالخطر؛ إلا أنا جوزناه بخلاف القياس بالنص، وهو ما روي عن النبي عليه السلام أنه قال: «من أدخل فرساً بين فرسين، فإن كان يأمن أن يسبق، فلا خير فيه، وإن كان لا يأمن أن يسبق، فلا بأس به» ، فالحديث أفاد الجواز بشرط أن يتوهم أن يكون الثالث سابقاً ومسبوقاً، وما ثبت نصاً بخلاف القياس يراعى فيه جميع الشرائط التي ورد بها النص.»

اسداللہ بن قوت خان

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 15/ ربیع الثانی /8144 ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسداللہ بن قوت خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب