03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دوطرفہ شرط لگانے کا حکم
90937سود اور جوے کے مسائلجوا اور غرر کے احکام

سوال

دو گروپوں کے درمیان کھیل اور شرط طے ہوئی کہ جو ہارے گا، وہ سب کو کھانا کھلائے گا۔ کھیل کے بعد کھانے میں جیتنے والے، ہارنے والے، اور کچھ افراد شامل تھے جو کھیل میں شامل نہ تھے، مگر کھانے میں شریک ہوگئے۔فقہِ حنفی کی معلومات کے مطابق بعض کتب (فتاویٰ عالمگیری، ج 5، ص 329؛ رد المحتار، ج 6، ص 403) میں بیان ہے کہ اگر ہارنے والے کا  دیاہوا کھانا صرف جیتنے والے کے لیے خاص نہ ہو، بلکہ اور لوگ بھی اس میں شریک ہوں، تو یہ قمار نہیں بنتا۔براہِ مہربانی اس خاص صورت پر آپ کی دارالافتاء کی رہنمائی اور حوالہ جات کے ساتھ فتویٰ ارسال فرمایں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ قمار (جوا) چار عناصر سے مرکب ہوتا ہے:

(1) عقدِ معاوضہ (جس میں دو طرفہ شرط) کا پایا جانا:

دو افراد یا دو جماعتوں کے درمیان عقد معاوضہ ہوتا ہے اس طورپہ کہ اس میں  دو طرفہ مال لینے دینے کی شرط ہوتی ہے ۔ مثلاً زید کہے: ’’اگر عمر میچ جیت گیا تو میں اسے ایک ہزار روپے دوں گا، اور اگر میں جیت گیا تو عمر مجھے ایک ہزار روپے (یا اس سے کم یا زیادہ) دے گا۔‘‘

لہذا اگر عقد معاوضہ ہو(جعالہ)،  اور اس میں  شرط یک طرفہ ہو،مثلاً زید کہے: ’’اگر عمر جیت گیا تو میں اسے ایک ہزار روپے دوں گا، اور اگر میں جیت گیا تو عمر کو مجھے کچھ نہیں دینا ہوگا‘‘ اور عمر نے قبول کیا ، تو یہ صورت اگرچہ قمار نہیں ہے اور نہ ہی قمار کی وعیدوں کے تحت آتی ہے، لیکن شرعاً قیاس کے مطابق  تعلیقُ التملیک علی الخطر (یعنی کسی کو کسی چیز کا مالک بنانا ایک غیر یقینی واقعے پر موقوف کرنا)  ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

البتہ چند صورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں جن میں بطور عقد یک طرفہ شرط  استحسانا جائز ہے:

الف- جہاد کی تیاری اور تربیت کی غرض سے گھڑ دوڑ، اونٹوں کی دوڑ اور تیر اندازی کے مقابلے؛ جیسا کہ حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت سے ثابت ہے کہ  ’’اونٹوں، گھوڑوں اور نیزوں کے مقابلے کے سوا شرط لگانا درست نہیں‘‘۔اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ مذکورہ تین چیزوں میں دو طرفہ شرط جائز ہے؛ کیونکہ یہ قرآنِ کریم کی صریح نصوص کے خلاف ہوگا اور نہ اس کو بلا معاوضہ پر محمول کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کے بغیر تو سارے مباح مسابقے جائز ہیں ۔ لہٰذا اس حدیث کا صحیح مفہوم یہی ہے کہ ان امور میں یک طرفہ شرط جائز ہے، کیونکہ یہ اعلاءِ کلمۃ اللہ اور جہاد کی تیاری کا ذریعہ ہیں۔

ب- دوڑنے کے مقابلے؛ جیسا کہ حضرت عائشہؓ کی حدیث سے ثابت ہے۔

ج- کشتی (مصارعہ) کے مقابلے؛ جیسا کہ حضرت رکانہؓ کی حدیث سے ثابت ہے۔

د۔اسی طرح اگر  شرط دوطرفہ اوردو فریقوں کے درمیان ایک محلل داخل کیا جائے، جو مقابلے میں شریک بھی ہو، اس پر کوئی مال مشروط نہ ہو، اور اس کے جیتنے اور ہارنے دونوں کا احتمال موجود ہو، اس طرح کہ اگر وہ جیت جائے تو دونوں فریقوں کا مال لے جائے اور اگر ہار جائے تو اس پر کسی کو کچھ دینا لازم نہ ہو،تو اس طرح یہ صورت تیسرے کے حق میں قمار سے نکل جائے گا، لیکن تعلیق التملیک علی الخطر  میں داخل ہو جائے گا ، تو یہ صورت بھی حدیث(حوالہ میں مذکور) کی بنا پر اس اصل حکم سے مستثنیٰ ہے۔

ھ۔ان احادیث پر قیاس کرتے ہوئے فقہاء فرماتے ہیں کہ ہر وہ مقابلہ جو دینی تعلیم، جہاد اور اعلاءِ کلمۃ اللہ کا ذریعہ ہو، اس میں بھی یک طرفہ شرط بطور عقد  جائز ہے؛ مثلاً طلبہ کے درمیان علمی مسائل کے مسابقے۔ لہٰذا جن مسابقوں میں یہ مقاصد موجود نہ ہوں، اس میں یک طرفہ شرط  بطور عقدبھی اصل قیاس کے مطابق ناجائز ہے۔

ان  کے علاووہ یک طرفہ شرط جو بطور عقد نہ ہو اور   جتنے انعامات ہیں  وہ یک طرفہ وعدہ ہے ، دیانتا اس کو پورا کرنا لازم ہے ,قضاء نہیں ۔

(2) دونوں فریقوں کا اپنا مال داؤ پر لگانا:

ہر فریق اپنا مال   داؤ پر لگا رہا ہو ۔ لہٰذا اگر کوئی تیسرا شخص کسی حلال اور مباح مقابلے پر کچھ مال دینے کا وعدہ کرے تو یہ محض اس کی طرف سے تبرع اور ہبہ ہوگا، جس کا لینا اور دینا جائز ہے۔

(3) مال کے حصول کا غیر یقینی واقعے پر موقوف ہونا:

مالِ زائد کا حصول ایسے واقعے پر موقوف ہو جس کے پیش آنے اور نہ پیش آنے، دونوں کا احتمال موجود ہو۔

(4) مال کا بلا عوض منتقل ہونا:

داؤ پر لگایا گیا مال یا تو بلا عوض اپنے ہاتھ سے چلا جائے، یا دوسرے کا مال بلا عوض حاصل کر لیا جائے۔

لہٰذا مذکورہ صورت میں  چونکہ دونوں طرف سے کھانا کھلانے کی شرط پائی جاتی ہے، اس لیے یہ جائز نہیں، بلکہ جوا اور قمار ہے ۔پھرچاہے فریقین خود بھی کھانے میں شریک ہوں یا     دیگر لوگوں کو بھی شامل کریں ۔ جہاں تک فتاوی عالمگیری اور شامی کے حوالو ں کی بات ہے   تو دونوں میں ایسا کوئی جزیہ تو نہیں  ملا ،  البتہ اگر اس سے مراد محلل والی صورت ہے تو اوپرجواب میں  نمبر "د"میں اس کا حکم مع شرائط مذکور ہے ۔

حوالہ جات

«المحيط البرهاني» (5/ 323):

«فإن شرطوا لذلك جعلاً، فإن شرطوا الجعل من الجانبين فهو حرام.

وصورة ذلك: أن يقول الرجل لغيره: تعال حتى نتسابق، فإن سبق فرسك، أو قال: إبلك أو قال: سهمك أعطيك كذا، وإن سبق فرسي، أو قال: إبلي، أو قال: سهمي أعطني كذا، وهذا هو القمار بعينه؛ وهذا لأن القمار مشتق من القمر الذي يزداد وينقص، سمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويستفيد مال صاحبه، فيزداد مال كل واحد منهما مرة وينتقص أخرى، فإذا كان المال مشروطاً من الجانبين كان قماراً، والقمار حرام، ولأن فيه تعليق تمليك المال بالخطر، وإنه لا يجوز.

وإن شرطوا الجعل من أحد الجانبين، وصورته: أن يقول أحدهما لصاحبه إن سبقتني أعطيك كذا، وإن سبقتك فلا شيء لي عليك، فهذا جائز استحساناً، والقياس أن لا يجوز.

وجه القياس: أن المال إذا كان مشروطاً من أحد الجانبين؛ إن كان لا يتمكن فيه معنى القمار؛ لأن المشروط له المال لا يذهب ماله بحال من الأحوال، والقمار أن يكون واحد من المقامرين بحال يجوز أن يذهب ماله، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه لما ذكرنا من اشتقاق القمر، إلا أن فيه تعليق تمليك المال بالخطر، وإنه لا يجوز، ألا ترى أن الاستباق فيما عدا هذه الأشياء الثلاثة نحو البغال والحمير لا يجوز، وإن كان المال مشروطاً من أحد الجانبين إنما لم يجز؛ لأن فيه تعليق تمليك المال بالخطر.

وجه الاستحسان: ما روينا من حديث أبي هريرة؛ ووجه الاستدلال به: أن النبي عليه السلام نفى السباق عاماً بقوله: «لا سبق» ، واستثنى الأشياء (الثلاثة) بقوله: «إلا في خف أو نصل أو حافر» ، والاستثناء من النفي إثبات، ومن التحريم إباحة، وليس المراد من الحديث ما إذا لم يكن المال مشروطاً أصلاً، فإن الاستباق بدون شرط المال جائز في الأشياء كلها، وليس المراد ما إذا كان المال مشروطاً من الجانبين؛ لأن ذلك قمار، والقمار حرام بالإجماع وبنص التنزيل، فكان المراد ما إذا كان المال مشروطاً من أحد الجانبين، والنص الوارد في الأشياء الثلاثة إذا كان مشروطاً من أحد الجانبين لا يكون وارداً فيما عدا الأشياء الثلاثة؛ لأن فيما عدا الأشياء الثلاثة نص آخر بخلافه، وهو قوله: «لا سبق» نفى السبق عاماً، واستثنى الأشياء الثلاثة ففيما عدا الأشياء الثلاثة ينتفي السبق بالنفي العام، ولأن الأشياء الثلاثة من آلات الحراب، وللناس إلى المخاطرة والرهان (في) حاجة حتى يتعلموا الفروسية والرمي، فأما ما عدا الأشياء الثلاثة فليس من آلات الحراب، ولا حاجة إلى الرهان في ذلك، وكذلك النص الوارد في الأشياء الثلاثة إذا كان المال مشروطاً من أحد الجانبين لا يعتبر وارداً فيما إذا كان المال مشروطاً من الجانبين، فالمانع فيه شيئان: القمار، وتمليك المال بالخطر، وإذا كان المال مشروطاً من أحد الجانبين، فالمانع فيه شيء واحد، وهو تمليك المال بالخطر، والجواز عند قلة المانع لا يدل على الجواز عند كثرة المانع.

ثم إذا كان المال مشروطاً من الجانبين، فأدخلا بينهما ثالثاً، وقالا للثالث: إن سبقتنا فالمالان، وإن سبقناك فلا شيء لنا، يجوز استحساناً لانتفاء معنى القمار في حق الثالث، وهو مروي عن سعيد بن المسيب.

ثم إذا أدخلا ثالثاً، فإن سبقهما الثالث استحق المالين، وإن سبقا الثالث إن سبقاه معاً فلا شيء لواحد منهما على صاحبه؛ لانعدام شرط وجوب المال فيما بينهما، وهو سبق أحدهما على صاحبه، وإن سبقاه على التعاقب، فالذي سبق صاحبه يستحق المال على صاحبه لوجود الشرط في حقه، وصاحبه لا يستحق المال عليه، لانعدام الشرط في حق صاحبه.

قال محمد رحمه الله في «الكتاب» : إدخال الثالث إنما يكون حيلة للجواز إذا كان الثالث يتوهم أن يكون سابقاً ومسبوقاً، فأما إذا كان يتيقن بأنه يسبقهما لا محالة، أو يتيقن أنه يصير مسبوقاً لا يجوز؛ لأن القياس أن لا يجوز، وإن انتفى معنى القمار في حقه لما فيه من تعليق تمليك المال بالخطر؛ إلا أنا جوزناه بخلاف القياس بالنص، وهو ما روي عن النبي عليه السلام أنه قال: «من أدخل فرساً بين فرسين، فإن كان يأمن أن يسبق، فلا خير فيه، وإن كان لا يأمن أن يسبق، فلا بأس به» ، فالحديث أفاد الجواز بشرط أن يتوهم أن يكون الثالث سابقاً ومسبوقاً، وما ثبت نصاً بخلاف القياس يراعى فيه جميع الشرائط التي ورد بها النص.»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 403):

«في متفرقات التتارخانية عن السراجية يكره الرمي إلى هدف نحو القبلة (قوله وكذا الحكم في المتفقهة) أي على هذا التفصيل وكذا المصارعة على هذا التفصيل وإنما جاز، لأن فيه حثا على الجهاد وتعلم العلم، فإن قيام الدين بالجهاد والعلم فجاز فيما يرجع إليهما لا غير كذا في فصول العلامي»

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 402):

قوله ولا بأس بالمسابقة إلخ) لقوله صلى الله عليه وسلم " «لا سبق إلا في خف أو نصل حافر» والسبق بفتح الباء ما يجعل من المال للسابق على سبقه، وبالسكون: مصدر سبقت أي لا تجوز المسابقة بعوض إلا في هذه الأجناس الثلاثة قال الخطابي: والرواية الصحيحة بالفتح أبو السعود عن المناوي قال الجراحي: وزيادة أو جناح موضوع باتفاق المحدثين اهـ والخف الإبل والحافر الخيل والنصل حديدة السهم والمراد به المراماة»۔

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (5/ 324):

(الباب السادس في المسابقة) السباق يجوز في أربعة أشياء: في الخف يعني البعير، وفي الحافر يعني الفرس والبغل، وفي النصل يعني الرمي، وفي المشي بالأقدام يعني العدو، وإنما يجوز ذلك إن كان البدل معلوما في جانب واحد بأن قال: إن سبقتني فلك كذا، وإن سبقتك لا شيء لي عليك أو على القلب، أما إذا كان البدل من الجانبين فهو قمار حرام إلا إذا أدخلا محللا بينهما فقال كل واحد منهما: إن سبقتني فلك كذا، وإن سبقتك فلي كذا، وإن سبق الثالث لا شيء له، والمراد من الجواز الحل لا الاستحقاق، كذا في الخلاصہ۔

ثم إذا كان المال مشروطا من الجانبين فأدخلا بينهما ثالثا وقالا للثالث: إن سبقتنا فالمالان لك، وإن سبقناك فلا شيء لنا يجوز استحسانا، ثم إذا أدخلا ثالثا، فإن سبقهما الثالث استحق المالين، وإن سبقا الثالث إن سبقاه معا فلا شيء لواحد منهما على صاحبه، وإن سبقاه على التعاقب فالذي سبق صاحبه يستحق المال على صاحبه وصاحبه لا يستحق المال عليه، قال محمد - رحمه الله تعالى - في الكتاب: إدخال الثالث إنما يكون حيلة للجواز إذا كان الثالث يتوهم منه أن يكون سابقا ومسبوقا، فأما إذا كان يتيقن أنه يسبقهما لا محالة أو يتيقن أنه يصير مسبوقا فلا يجوز،.»

 

اسداللہ بن قوت خان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

11 /محرم /8144 ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسداللہ بن قوت خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب