| 90774 | طلاق کے احکام | طلاق سے رجو ع کا بیان |
سوال
میرے شوہر نے 17 اپریل 2025 کو ایک طلاق کا نوٹس بھیجا۔ میری عدت (3 حیض) مکمل ہوئی۔ عدت کے بعد میرے شوہر نے کہا کہ انہوں نے رجوع کر لیا تھا۔ میں نے کہا کہ مجھے تو اس کا علم ہی نہیں اور نہ ہی کوئی گواہ ہیں۔ مجھ سے کہا گیا کہ گواہوں کی ضرورت نہیں۔نہ قولاً رجوع ہوا اور نہ ہی فعلاً۔ ان کے بقول انہوں نے مجھے چھوا تھا، وہ بھی عدالت کے اندر، لیکن میں اس کی تصدیق نہیں کر سکتی کہ مجھے چھوا گیا تھا یا نہیں۔گواہوں کے معاملے میں وہ شخص بہانے بنا رہا ہے۔ جبکہ میں نے دو ہفتے پہلے کہا تھا کہ آپ گواہوں کی گواہی مجھے واٹس ایپ پر ریکارڈ کروا کر سنا دیں، لیکن نہیں سنوائی۔
میں اپنی والدہ کے گھر میں رہ رہی ہوں تقریباً 1 سال 7 ماہ سے، اس دوران کوئی جسمانی تعلق بھی نہیں ہوا۔ عدالت میں آمنا سامنا ہوتا تھا کیونکہ بیٹی کی تحویل کا کیس چل رہا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں نے رجوع کی نیت سے ایک طلاق دی تھی اور 2 رکعت نفل پڑھ کر اللہ کو گواہ بھی بنایا تھا، اور بعد میں یہ بھی کہا کہ میرے پاس 2 گواہ بھی ہیں، اور ان کی موجودگی میں اپریل ہی میں رجوع کر لیا تھا۔ جبکہ ایک گواہ سے میری بات ہوتی تھی، انہوں نے کسی گواہی کا ذکر نہیں کیا۔عدت کے دوران ہماری کوئی بات بھی نہیں ہوتی تھی۔
آپ ان تمام معلومات کی روشنی میں میری رہنمائی فرما دیں کہ کیا رجوع ہوا ہے؟ کیا میں اس شخص کے نکاح میں ہوں؟ میں ابھی تک اپنی والدہ کے گھر رہ رہی ہوں
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ طلاقِ رجعی کی صورت میں عدت گزرنے کے بعد اگر مرد یہ کہے کہ میں نے عدت کے دوران رجوع کر لیا تھا اور عورت اس کی تصدیق کر دے تو رجوع ثابت ہو جاتا ہے۔ اور اگر عورت رجوع سے انکار کر دے تو ایسی صورت میں مرد اپنے دعوے پر دو گواہ پیش کرے گا۔ اگروہ دو گواہ پیش کرد ے اور وہ رجوع کی گواہی دیں تو رجعت ثابت ہو جاتی ہے۔
اور اگر مرد کے پاس گواہ نہ ہوں تو پھر عورت سے اس بات پر قسم لی جائے گی کہ رجوع نہیں ہوا ہے۔ اگر عورت قسم کھا لے کہ رجوع نہیں ہوا ،تو اس کا قول معتبر ہو گا اور رجوع ثابت نہیں ہو گا ۔ اور اگر عورت قسم سے انکار کرے تو پھر بھی رجوع ثابت ہو جاتا ہے اور نکاح باقی رہتا ہے۔
مذکورہ صورت میں آپ کے شوہر پر لازم ہے کہ وہ اپنے دعوائے رجوع پردو گواہ پیش کرے ۔ اگر وہ دو گواہ پیش کرتا ہے اور وہ رجوع کی گواہی دیتے ہیںتو رجوع ثابت ہوجا ئےگا، نکاح باقی رہے گا ۔ اگر وہ گواہ پیش نہیں کرتا تو شرعی اصول کےمطابق آپ پر قسم ہے ، قسم کھانے کے بعد آپ کے قول کا اعتبار ہوگا اور رجوع ثابت نہیں ہوگا ،نکاح ختم ہوچکا ہے اور اگر آپ قسم سے انکار کرتی ہیں پھر آپ کے شوہر کے قول کا اعتبار ہے اور رجوع ثابت ہوگا، نکاح باقی رہے گا۔
حوالہ جات
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (3/ 185):
«فأما إذا أخبر عن الرجعة في الزمن الماضي بأن قال: كنت راجعتك أمس فإن صدقته المرأة فقد ثبتت الرجعة، سواء قال ذلك في العدة أو بعد انقضاء العدة بعد أن كانت المرأة في العدة أمس.
وإن كذبته فإن قال ذلك في العدة فالقول قوله؛ لأنه أخبر عما يملك إن شاءه في الحال؛ لأن الزوج يملك الرجعة في الحال، ومن أخبر عن أمر يملك إن شاءه في الحال يصدق فيه.
إذ لو لم يصدق ينشئه للحال، فلا يفيد التكذيب فصار كالوكيل قبل العزل إذا قال بعته أمس، وإن قال بعد انقضاء العدة فالقول قولها؛ لأنه أخبر عما لا يملك إنشاءه في الحال؛ لأنه لا يملك الرجعة بعد انقضاء العدة فصار كالوكيل بعد العزل إذا قال قد بعت، وكذبه الموكل ولا يمين عليها في قول أبي حنيفة، وعند أبي يوسف، ومحمد تستحلف.
«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص229):
«(ادعاها بعد العدة فيها) بأن قال كنت راجعتك في عدتك
(فصدقته صحح) بالمصادفة (وإلا لا) يصح إجماعا (و) كذا (لو أقام بينة بعد العدة أنه قال في عدتها قد راجعتها أو) أنه (قال قد جامعتها) وتقدم قبولها على نفس اللمس والتقبيل فليحفظ (كان رجعة) لان الثابت بالبينة كالثابت بالمعاينة، وهذا من أعجب المسائل حيث لا يثبت إقراره بإقراره بل بالبينة (كما لو قال فيها كنت راجعتك أمس) فإنها تصح (وإن كذبته) لملكه الانشاء في الحال»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (3/ 401):
«قوله: ادعاها) أي الرجعة بعد العدة فيها أي في العدة والظرف متعلق بادعى، والجار والمجرور متعلق بالضمير العائد على الرجعة أي ادعى بعد العدة الرجعة في العدة فهو على حد قول الشاعر:
وما هو بالحديث المترجم
أي وما الحديث عنها (قوله: صح بالمصادقة) لأن النكاح يثبت بتصادقهما فالرجعة أولى بحر. وظاهره ولو كانا كاذبين، ولا يخفى أن هذا حكم القضاء، أما الديانة فعلى ما في نفس الأمر (قوله: وإلا لا يصح) أي ما ادعاه من الرجعة لأنه أخبر عن شيء لا يملك إنشاءه في الحال وهي تنكره، فكان القول لها بلا يمين لما عرف في الأشياء بحر: أي الآتية في كتاب الدعوى حيث قال المصنف هناك: ولا تحليف في نكاح ورجعة وفي إيلاء واستيلاد ورق ونسب وولاء وحد ولعان والفتوى على أنه يحلف في الأشياء السبعة اهـ أي السبعة الأولى، وهذا قولهما أما الأخيران فلا تحليف اتفاقا»
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (4/ 56):
«قوله ولو قال بعد العدة راجعتك فيها فصدقته تصح، وإلا لا) أي، وإن لم تصدقه لا تصح الرجعة لأنه أخبر عن شيء لا يملك إنشاءه في الحال، وهي تنكره فكان القول لها من غير يمين لما عرف في الأشياء الستة، وإن صدقته صحت لأن النكاح يثبت بتصادقهما فالرجعة أولى، ونظيره الوكيل بالبيع إذا قال قبل العزل كنت بعته من فلان صدق بخلاف ما لو قاله بعد العزل كذا في الكافي، وفي تلخيص الجامع للصدر من ملك الإنشاء ملك الإخبار كالوصي والمولى والمراجع والوكيل بالبيع، ومن له الخيار انتهى، ولو أقام بينة بعد العدة أنه قال في عدتها قد راجعتها أو أنه قال قد جامعتها كان رجعة لأن الثابت بالبينة كالثابت بالمعاينة، وهذا من أعجب المسائل فإنه يثبت إقرار نفسه بالبينة بما لو أقر به في الحال لم يكن مقبولا كذا في المبسوط قيد بقوله بعد العدة لأنه لو قال في العدة كنت راجعتك أمس ثبتت، وإن كذبته لملكه الإنشاء في الحال»
اسداللہ بن قوت خان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
2 /محرم /8144 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسداللہ بن قوت خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


