| 92336 | جائز و ناجائزامور کا بیان | کھانے پینے کے مسائل |
سوال
پولٹری فارم میں مرغیوں کی فیڈ مشکوک ہوتی ہے اور سپریم کورٹ نے اس پر پابندی بھی لگائی تھی۔ مگر یہ صنعت اتنی وسیع ہے کہ ہر گھر کی ضرورت بن گئی ہے اور سستی بھی ہے ۔ اسکی وضاحت فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پولٹری فارم میں مرغیوں کی فیڈ کے بعض اجزاء کے متعلق یہ شبہ پایا جاتا ہے کہ اس میں خون، مردار کے اجزاء یا خنزیر وغیرہ کے اجزاء شامل کیے جاتے ہیں، نیز بعض اوقات غیر معیاری فیڈ کے استعمال کے متعلق حکومتی یا عدالتی سطح پر پابندی بھی عائد کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں شرعی حکم کی تفصیل یہ ہے کہ اگر فیڈ میں حرام ونجس اجزاء مثلاً خون، خنزیر یا مردار کے گوشت کو اس طرح شامل کیا گیا ہو کہ ان کی اصل حقیقت وماہیت میں کوئی تبدیلی نہ آئی ہو، بلکہ وہ اپنی سابقہ خصوصیات کے ساتھ فیڈ میں موجود ہوں، تو ایسی فیڈ کا استعمال ناجائز ہوگا، اس کی خرید وفروخت اور مرغیوں کو کھلانا بھی جائز نہیں ہوگا۔
البتہ اگر ان حرام ونجس اجزاء کو مختلف کیمیائی مراحل سے گزارنے کے نتیجے میں ان کی اصل حقیقت وماہیت تبدیل ہوجائے، سابقہ نام وخواص ختم ہوجائیں اور ایک نئی حقیقت وخصوصیت پیدا ہوجائے، تو ایسی صورت میں اس تبدیلی کے بعد تیار ہونے والی فیڈکے استعمال کی گنجائش ہوگی۔
اسی طرح مرغیوں کے بارے میں یہ اصول بھی ملحوظ رہے کہ جس جانور کی غذا میں نجاست غالب ہو اور اس کے اثر سے اس کے گوشت میں بدبو یا تغیر پیدا ہوجائے، اسے فقہاء کی اصطلاح میں جلالہ کہا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں بدبو کے زائل ہونے تک اس کا گوشت استعمال نہیں کیا جائے گا۔ تاہم اگر مرغیوں کی بنیادی اور غالب خوراک پاک اجزاء، دانہ، اناج، سویا وغیرہ پر مشتمل ہو اور فیڈ میں کسی مشکوک یا نجس جزو کی مقدار معمولی ہو، نیز اس کا مرغی کے گوشت پر نجاست یا بدبو کی صورت میں کوئی اثر ظاہر نہ ہو، تو ایسی مرغی جلالہ کے حکم میں نہیں ہوگی اور اس کا گوشت کھانا جائز ہوگا۔مارکیٹ میں دستیاب فارمی مرغ کے گوشت میں عموماً بدبو نہیں ہوتی ؛لہٰذا اسکے گوشت کا استعمال جائز ہے۔
رہی سپریم کورٹ یا حکومتی اداروں کی طرف سے کسی خاص فیڈ یا اس کے اجزاء پر پابندی، تو اس کا تعلق بنیادی طور پر صحت، حفظانِ عامہ اور غیر معیاری یا مضرِ صحت اشیاء کی روک تھام سے ہوسکتا ہے۔ ایسی قانونی پابندی کی خلاف ورزی کرنا انتظامی اعتبار سے درست نہیں۔
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (1/ 223):
"وفي المنتقى الجلالة المكروهة التي إذا قربت وجدت منها رائحة، فلا تؤكل"
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (1/ 316):
"ثم هذه المسئلة قد فرعوها علی قول محمد بالطهارة بانقلاب العین الذی علیه الفتویٰ واختاره أکثر المشائخ خلافًا لأبي یوسف کمافي شرح المنیة والفتح وغیرهما. "
محمدحمزہ بن غلام مصطفی
دار الاِفتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۶/ربیع الثانی/۱۴۴۸ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ بن غلام مصطفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


