03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدہ کی طرف سے بیٹی کو گھر ہبہ کرنے کا حکم
92333ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

میرے والد صاحب نے میری والدہ کے نام پر ایک گھر خریدا اور اسے تعمیر کروایا، نیز اس گھر کا انتقال (Mutation)بھی والدہ کے نام کروا دیا اور تمام اختیارات بھی والدہ کو دے دیے۔

اب وہی گھر میری والدہ نے مجھے ہبہ کر دیا ہے، گھر کے سامان سمیت، اور اس کا انتقال(Mutation) بھی میرے نام کروا دیا ہے، تمام اختیارات بھی مجھے دے دیے ہیں اور قبضہ بھی دے دیا ہے۔ میری والدہ حیات ہیں، جبکہ میرے والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے۔اب میں  اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ اسی گھر میں رہتی ہوں، تو کیا میں اس گھر کی شرعا مالک ہوں یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر آپ کی والدہ نے وہ گھر آپ کو سامان سمیت ہبہ کر دیا ہے اور اس کا مکمل اختیار بھی آپ کو دے دیا ہے، نیز آپ کے نام اس کا انتقال کروانے کے ساتھ ساتھ اس پر  قبضہ بھی دے دیا  ہے، تو آپ شرعاً اس مکان کی مالک بن گئی ہیں۔

حوالہ جات

«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص560):

«(و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح.»

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (6/ 127):

«أما أصل الحكم فهو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غير عوض لأن الهبة تمليك العين من غير عوض فكان حكمها ملك الموهوب من غير عوض»

  عبدالغفوربن خان ولی

دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی

 22  /ربیع الثانی /1448

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفور بن خان ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب