03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاقوں کوتین مختلف شرطوں پر معلق کرنا
92518طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

تین طلاقوں کوتین  مختلف شرطوں پر معلق کرنا 

مفتی صاحب میں نے کچھ عرصہ پہلے تین قسمیں کھائی تھی۔  پہلی قسم یہ تھی کہ اگر میں نے حرام طریقے سے خواہش پوری کی تو جویریہ کو ایک طلاق، پھر میں نے ایک دوسری قسم کھائی تھی ایک  ہفتے بعد کہ اگر میں نے فحش فلم کے کے ذریعے خواہش پوری کی تو جویریہ کو ایک طلاق ،پھر اس  کے ایک  ہفتے بعد میں نے قسم کھائی  کہ اگر میں نے شہوت کی نظر سے کسی لڑکی کو فون پر دیکھا تو جویریہ کو ایک طلاق ۔پوچھنا یہ ہے  کہ اس کے بعدمیں نے ہاتھ سے خواہش پوری کرلی اور اس کے  چند منٹ بعد میں نے فحش فلم دیکھ کر خواہش پوری کرلی۔ اب مجھے سمجھ نہیں آرہی ،کوئی کہتا ہےکہ دو ہوئی ہیں، کوئی کہتا ہے کہ تین ہوئی ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ میں نےجب  فون کھولا اس نیت سے کہ اب فحش فلم کے ذریعے خواہش پوری کرنی ہے ۔ تو میں ویب سائٹ پر گیا کافی ساری فحش فلمیں سامنے آئی اور اس میں سے جو پسند آئی اس پر  میں نے   کلک کر کے خواہش پوری کی۔ اب کوئی کہتاہے  کہ اسی عمل میں آپ کی تینوں  پوری ہو گئی اور کوئی کہتاہے کہ جب  کسی لڑکی کو شہوت کی نظر سے دیکھوگے تو اس کے بعد تین ہو جائے گی۔اب سمجھ نہیں آرہی مجھے کیا کرنا چاہیے۔  نکاح ہوچکاہے ،ازدواجی تعلق بھی قائم کرچکے ہیں ،رخصتی نہیں ہوئی، گھروالے  شادی کی تیاری کررہے ہیں۔

تنقیح:سائل کی وضاحت سے معلوم ہواکہ اس نے  متعددبار فحش فلمیں ، شہوت کی نظر سے کسی لڑکی کو فون پر دیکھاہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حرام طریقے سے خواہش پوری کرنا،فحش فلمیں دیکھناسخت گناہ ہے، یہ انسان کو بے حیائی اور جنسی بے راہ روی کاعادی بنادیتاہے ،لہذا اس کی جتنی قباحت بیان کی جائے کم ہے، ایسے مناظر دیکھنا سخت گناہ اور  حرام  ہے،اس پر صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرنا لازم ہے، اور آئندہ اس طرح کی چیزوں کے دیکھنے سے بلکہ سوچنے سے بھی اجتناب کرنا لازم ہے۔آپ کو چاہیے کہ کسی متبع السنۃ شیخ سے اصلاحی تعلق قائم کریں اور ان سے ان بری عادات کاعلاج کروائیں ۔

سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق آپ تینوں شرطیں پوری کرچکےہیں  ،لہذاتین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ۔  آپ کانکاح ختم ہوگیاہے ،آپ کے لیے اس لڑکی سے  شرعی تحلیل کے بغیر دوبارہ نکاح کرناجائز نہیں  ،لہذااگر آپ رخصتی کراکے ازدواجی تعلق قائم کریں گے تویہ گناہ  کبیرہ اور حرام ہے ۔لہذا آپ گھر والوں کو منع کریں اوراس لڑکی کی رخصتی   کرنے سے روکیں۔

حوالہ جات

[البقرة: 230]:

ﵟفَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗﵞ 

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/244):

وإذا أضافه إلى شرط وقع ‌عقيب ‌الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق" وهذا بالاتفاق.

فتح القدير للكمال بن الهمام (4/ 177):

(وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها) والأصل فيه قوله تعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}.

حاشية ابن عابدين (2/ 399):

وأما إذا فعله لاستجلاب الشهوة فهو آثم.

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص96):

روي عنه صلى الله عليه وسلم ناكح اليد ملعون وقال ابن جريج سألت عنه عطاء فقال: مكروه وسمعت قوما يحشرون وأيديهم حبالى فأظنهم هؤلاء وقال سعيد بن جبير عذب الله أمة كانوا يعبثون بمذاكيرهم وورد سبعة لا ينظر الله إليهم منهم الناكح يده.

 عزیزالرحمن

  دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی

27/ربیع الثانی   /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیز الرحمن بن اول داد شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب