03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فائیور کا کمیشن بچانے کے لیے کلائنٹ سے براہ راست ڈیل کرنا
92512جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

جب فائیور کے ذریعے کوئی آرڈر ملتا ہے تو فائیور اس پر اپنا کمیشن (سروس چارج) کاٹتا ہے۔ کمیشن سے بچنے کے لیے ہم کلائنٹ سے پلیٹ فارم کے باہر رابطہ کر کے براہ راست ڈیل کر لیتے ہیں، یعنی کام اور ادائیگی فائیور کے بجائے براہ راست کلائنٹ سے وصول کی جاتی ہے، اور فائیور کو اس کا حصہ نہیں ملتا۔ واضح رہے کہ فائیور کے ساتھ طے شدہ معاہدے (Terms of Service) میں یہ شرط شامل ہوتی ہے کہ سیلر اسی کلائنٹ کے ساتھ لین دین پلیٹ فارم کے اندر رہ کر ہی جاری رکھے گا۔

الف) اگر معاہدے میں یہ شرط واضح طور پر شامل ہو کہ سیلر پلیٹ فارم کے اندر رہ کر ہی کلائنٹ سے لین دین کرے گا، تو اس صورت میں اس شرط کے خلاف جا کر کلائنٹ سے پلیٹ فارم کے باہر براہ راست ڈیل کرنا اور فائیور کا کمیشن روک لینا کیسا ہے؟

ب) اگر فائیور کے ساتھ ایسی کوئی واضح شرط طے نہ ہو کہ کلائنٹ سے ڈیلنگ پلیٹ فارم کے اندر ہی رہ کر کی جائے گی، تو کیا کمیشن بچانے کے لیے کلائنٹ سے پلیٹ فارم کے باہر جا کر براہ راست ڈیل کرنا اور فائیور کا کمیشن نہ دینا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

الف) قرآنِ کریم میں اللہ تعالی کا فرمان ہے:   المائدة: 1 "اے ایمانو والو! اپنے معاہدوں کو پورا کرو۔" حدیث شریف میں وعدے کی خلاف ورزی کرنے کو منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ صورت مذکورہ میں اگر  فائیور کی Terms of Service میں یہ واضح اور صریح شرط موجود ہو کہ پلیٹ فارم کے ذریعے  ملنے والے آرڈر کی صورت میں سیلر پلیٹ فارم کے اندر ہ کر کلائنٹ کے ساتھ  تمام لین دین کرے گا، تو ایسی صورت میں کسٹمر کاپلیٹ فارم کے ذریعے آرڈر لینے کے بعد فائیور کی شرائط کی  خلاف ورزی کرتے ہوئے کسٹمرسے  براہ راست ڈیل کرنا اور فائیور کوکمیشن  ادا نہ کرنا ،ناجائز عمل ہے۔

ب) سوال میں آپ کی تصریح کے مطابق فائیور  کے  پلیٹ فارم سے سیلرزکسٹمرز سے آرڈر لیتے  ہیں اور فائیور اس سروس کی فراہمی پر کمیشن چارج کرتا ہے۔ اگر سیلر نے فائیور کے ذریعے آرڈر لیا  ہو تو اس پر کمیشن کی ادائیگی بہرصورت لازم ہے ،چاہے وہ پلیٹ فارم کے اندر ہ کرکسٹمر سے لین دین کرے یا باہر رہ کر۔اس لیے کہ فائیور کو کمیشن کی ادائیگی  بروکری کی خدمات فراہم کرنے کی وجہ سے ادا کرنا لازم ہے۔

حوالہ جات

سورة البقرة: 198

لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ

سورة المائدة: 1

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

صحيح مسلم(1/ 99):

عن أبي هريرة؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قَالَ: "مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا. وَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا".

سنن الترمذي(3/ 27):

قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا صُلْحًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا،وَالْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ، إِلَّا شَرْطًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا

عبدالحنان ناصر بن محمد ناصر

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

  27/ربیع االثانی  /1448ھ            

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالحنان ناصر بن محمد ناصر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب