03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
متعددبارطلاق دینےکا حکم
91496طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میرے شوہر نے بلا وجہ لڑائی جھگڑے کی وجہ سے دوبار مجھے کہا میں طلاق دیتا ہوں۔ اس کے بعد ہم واپس سیٹ ہو گئے، تین ماہ کے بعد پھر لڑائی ہوئی، اس مرتبہ انہوں نے تین بار کہا کہ مجھے اس کو نہیں رکھنا، پھر جب گھر سے گئے تو میرے بچوں کو بھی ساتھ لے گئے، ان کو اپنے والدین کے پاس پنجاب میں چھوڑ دیا، جب میں نے کہا کہ میں پنجاب بچے لینے جا رہی ہوں تو انہوں نے کہا اگر تم جاؤ گی تو پھر وہیں میرے ماں باپ کے پاس رہو گی، وہاں سے نکلی تو میں طلاق دے دوں گا، میں پنجاب بچوں کو لینے گئی، ان لوگوں نے مجھے بچے نہیں دیے، اب پھر میرے شوہر نے خاندان کے سب گھروں میں جا کر میری غیر موجودگی میں کہا کہ میں نے اس کو طلاق دے دی ہے، کچھ لوگوں کو اس نے وٹس ایپ پر کہا کہ یہ عدت میں بیٹھے میں نے طلاق دے دی ہے، اب بتائیں کہ طلاق ہو گئی ہے یا نہیں؟

وضاحت: سائلہ نے بتایا کہ شوہر خود بھی اقرار کر رہا ہے کہ میں نے اس کو طلاق دے دی ہے، یعنی آخری مرتبہ کے الفاظ اس نے طلاق دینے کی نیت سے ہی کہے ہیں۔ نیز اس نے بتایا کہ پہلی دو طلاقوں کے بعد فریقین کے درمیان رجوع ہو گیا تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں جب آپ کے شوہر نے آپ کو دو مرتبہ کہا کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" تو ان الفاظ سے آپ پر دو طلاقیں واقع ہو گئیں،البتہ اس کے بعدفریقین کے درمیان رجوع ہو گیا تھا۔اس کے بعدشوہر کے تین مرتبہ کہے گئے الفاظ"مجھے اس کو نہیں رکھنا" سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ یہ الفاظ طلاق کے صریح اور کنایہ الفاظ میں سے نہیں ہیں،[1] جبکہ طلاق کے وقوع کے لیے ان دونوں اقسام میں سے کسی ایک قسم کے الفاظ کا پایا جانا ضروری ہے۔

البتہ ابھی جب شوہر نے کہا کہ "میں نے اس کو طلاق دے دی ہے" اوروٹس ایپ پر میسج بھی کیا کہ یہ عدت میں بیٹھے، میں نے طلاق دے دی ہے، جبکہ اس سے پہلے دی گئی طلاقوں کو تین ماہ گزر چکے تھے، اس لیے اب ان الفاظ کو ان دو طلاقوں کی خبر قرار دینے کا کوئی معنی نہیں، لہذا اس سے انشاء طلاق یعنی نئی طلاق مراد لی جائے گی، خصوصاً جبکہ سائلہ کے بیان کے مطابق اس نے یہ الفاظ طلاق دینے کی نیت سے کہے ہیں،اس لیے اب آپ پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب آپ دونوں کا اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں، نیز اب رجوع نہیں ہو سکتا اور  موجودہ صورتِ حال میں دوبارہ نکاح  کرنا بھی جائز نہیں، البتہ اگر عورت عدت گزارنے کے بعدباقاعدہ اورمستقل رہنے کی غرض سے  کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ خاوند عورت سے ہمبستری بھی کرے، پھر وہ اپنی رضامندی سے عورت کو طلاق دیدے یا وہ وفات پا جائے تو اُس خاوند کی عدت گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، ورنہ کسی صورت میں بھی دوبارہ نکاح کرنا جائز  نہیں۔


[1] فتاوی محمودیہ ازمفتی محمود حسن گنگوہی(کتاب الطلاق، باب  الطلاق بالفاظ الکنایہ، ج: 12، ص: 548، ط:   ادارہ الفاروق کراچی)

حوالہ جات

القرآن الكريم   [البقرة: 230]:

         {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ}

  الفتاوى الهندية (1 / 473) دار الفكر، بیروت:

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

13/صفرالخیر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب