| 92281 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
مجھے درج ذیل مسئلے کے بارے میں رہنمائی چاہیے: میں نے ایک “One Rupee Game” دیکھی ہے، جس میں صرف 1 روپے میں کسی مہنگی چیز (مثلاً Samsung A54) کو جیتنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اس میں 1 روپیہ ادا کرکے گیم/قرعہ اندازی میں شامل ہونا ہوتا ہے اور جیتنے والے کو وہ چیز ملتی ہے۔
براہِ کرم بتائیں کہ کیا اس طرح کی گیم میں 1 روپیہ دے کر حصہ لینا اور انعام جیتنے کی کوشش کرنا شرعاً جائز/حلال ہے یا جوا (قمار/میسر) کے زمرے میں آتا ہے؟
دوسرا یہ کہ آج کل مختلف قرعہ اندازیاں ہوتی ہیں، جس میں بہت سے لوگ حصہ لیتے ہیں۔ اس میں یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص500 روپے ادا کرتا ہے، جس کے بدلےسٹور کی جانب سے اسے ایک پروڈکٹ (صابن/واشنگ پاؤڈر وغیرہ) دیا جاتا ہے ، اور اس پروڈکٹ کی قیمت عام بازار میں بہت سستی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ اسے ایک ٹکٹ بھی دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص دو یا اس سے زیادہ ٹکٹ خریدے تو اسے کچھ ڈسکاؤنٹ بھی دیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ بہت سے لوگ آن لائن صرف ٹکٹ خریدتے ہیں اور جو سامان ملتا ہے ، وہ وصول نہیں کرتے۔اور یہ ٹکٹ انعامی ٹکٹ ہوتے ہیں ، جس کا نام قرعہ اندازی میں نکلے تو اس کومہنگا انعا م (عمرہ پیکج/موبائل وغیرہ) ملتا ہے ۔کیا اس میں حصہ لینا جائز ہے۔
3۔اگر اس میں کوئی شرعی شرط یا تفصیل اہم ہے تو براہِ کرم اس کی بھی وضاحت فرما دیں۔جزاکم اللہ خیراً
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قمار (جوا) اس معاملے کو کہتے ہیں جس میں کوئی شخص اس امید پر مال لگائے کہ اسے اس کے بدلے میں یا تو زیادہ مال حاصل ہوگا،اور یا وہ مال ڈوب جائے گا ۔ شریعت نے ایسے تمام معاملات سے منع کیا ہے جن میں مال کا استحقاق محض اتفاق، قرعہ اندازی یا قسمت آزمائی پر موقوف ہو۔
1۔ صورتِ مسئولہ میں مذکورہ "ون روپی گیم" کو اگرچہ ایزی پیسہ کمپنی خرید و فروخت کا معاملہ قرار دیتی ہے اور بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ کسٹمر نے ایک روپے کے عوض کوئی چیز خریدی ہے، لیکن حقیقت میں یہ خرید و فروخت کا معاملہ نہیں ہے؛ کیونکہ کسٹمر کو اس چیز کا حصول یقینی طور پر نہیں ہوتا، بلکہ اس کا ملنا قرعہ اندازی میں نام آنے پر موقوف ہوتا ہے۔
مزید یہ کہ کمپنی ایک ہی چیز کے حصول کے لیے بہت سے لوگوں سے ایک ایک روپیہ وصول کرتی ہے،جوان میں سے کسی کو واپس نہیں ملتا ،جبکہ اس کے عوض ان سب لوگوں میں سے کسی ایک کابھی اس چیز کا مالک بننا قرعہ اندازی کے نتیجے پر منحصر ہوتا ہے۔ لہٰذا اس معاملے میں ایک روپے کے عوض کسی چیز کی حقیقی خرید و فروخت نہیں، بلکہ مال دے کر قرعہ اندازی کے ذریعے زیادہ مال حاصل کرنے کا امکان پیدا کیا جاتا ہے، جو قمار کی صورت ہے؛ اس لیے مذکورہ "ون روپی گیم" میں حصہ لینا شرعاً ناجائز ہے۔
2۔ اگر حقیقت یہ ہے کہ سٹور کی طرف سے پروڈکٹ( صابن، واشنگ پاؤڈر) یا دیگر سامان کومحض لکی ڈرا کا ذریعہ بنانے کے لیے ان کی حقیقی قیمت سے کہیں زیادہ پر فروخت کیا جا رہا ہو، یا بعض افراد صرف ٹکٹ خریدتے ہوں اور سامان وصول ہی نہیں کرتے، تو اس کا مطلب یہی ہے کہ اصل مقصود سامان کی خرید و فروخت نہیں ،بلکہ انعام حاصل کرنے کی امید میں لکی ڈرا میں شرکت کرنا ہے۔
ایسی صورت میں ادا کی جانے والی رقم درحقیقت انعام کے حصول کی غرض سے لگائی جاتی ہے، جبکہ انعام ملنا یا نہ ملنا، اور ملنے کی صورت میں اس کی مقدار، سب غیر یقینی ہوتے ہیں اور قرعہ نہ نکلنے کی صورت میں رقم مفت میں ضائع ہوجاتی ہے ۔اس لیے یہ معاملہ بھی تملیک علی الخطر کی صورت ہے، جو شرعاً قمار (جوا) ہے، لہٰذا اس میں شرکت کرنا، اس کا انعقاد کرنا اور اس کے ذریعے مال کمانا جائز نہیں۔
3 ۔البتہ خریداری کرنے کی صورت میں بذریعہ قرعہ اندازی عمرہ ٹکٹ یا کوئی دوسراا نعام دینے کے معاملےمیں اگر مندرجہ ذیل شرائط پائی جائیں تو یہ معاملہ جائز ہوگا، ورنہ جائز نہیں ہوگا:
١۔مذکورہ اسٹورنے سامان کی قیمت اتنی ہی مقرر کی ہو جو کہ مارکیٹ میں ایسے سامان کی رائج ہو، یعنی اسٹور نے اس سامان کی عام قیمت میں انعام کی بنا پر اضافہ نہ کیا ہو ؛ اگراسٹور انعامی اسکیم کی بنا پر مارکیٹ ریٹ (ثمن مثل) سے زیادہ ریٹ (قیمت) رکھے گا تو گویا خریدار (گاہک) انعام کی امید اور لالچ میں اس اسٹور سے سامان مہنگے داموں خرید رہا ہے، جب کہ عمرہ پیکج کا ملنا یقینی نہیں، بلکہ موہوم ہے، اس طرح یہ معاملہ جوئے (قمار) کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا۔
٢۔اسٹور اس انعامی اسکیم کو اپنی ناقص مصنوعات نکالنے کا ذریعہ نہ بنائے، یعنی عمرہ پیکج یا کسی اور مہنگےانعام کا لالچ دے کر لوگوں کو اپنی ناقص مصنوعات خریدنے پرامادہ نہ کرے، ورنہ اس میں بھی جوئے (قمار) کی مشابہت کی وجہ سے یہ صورت جائز نہ ہو گی۔
٣۔اسٹور سے مذکورہ سامان خریدنے والے گاہک (کسٹمر) کا مقصود اس خریداری سے واقعی اسٹور کا سامان حاصل کرنا اور اس سے نفع اٹھانا ہو، یعنی سامان مقصود ہو، موہوم انعام کا حصول مقصود نہ ہو، بلکہ انعام ایک ضمنی اور تبعی چیز ہو کہ اگر اسٹور کی طرف سے بطور تبرع مل جائے تو ٹھیک اور نہ ملے تو بھی کوئی مسئلہ نہیں، لیکن اگر گاہک کو سامان کی کوئی ضرورت نہ ہو اور وہ یہ خریداری فقط موہوم انعام حاصل کرنے کی لالچ میں کرے تو پھر یہ معاملہ جوئے (قمار) کی مشابہت اختیار کر لے گا اور ناجائز ہوگا۔
چنانچہ اگر مذکورہ شرائط کی مکمل رعایت رکھی جائے تو اسٹور کا قرعہ اندازی کے ذریعہ گاہک کو انعام دینا اسٹور کی طرف سے تبرع اور احسان شمار ہوگا اور گاہک (کسٹمر) کے لیے اس انعام کا لینا جائز ہوگا، لیکن اگر مذکورہ شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی مفقود ہو تو اس صورت میں یہ معاملہ جائز نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ{ (المائدة:90(
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (7/ 91):
«وأما القمار فقدمنا أنه الميسر وفي القاموس قامره مقامرة وقمارا فقمره كنصره وتقمره راهنه فغلبه وهو التقامر اهـ.
وذكر النووي أنه مأخوذ من القمر؛ لأن ماله تارة يزداد إذا غلب وينتقص إذا غلب كالقمر يزيد وينقص»
«تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (4/ 131):
«أن التعليق بالشرط المحض لا يجوز في التمليكات؛ لأنه من باب القمار وأنه منهي عنه»
"بحوث فی قضايافقهية معاصرة "2 /239:
وبما أن حقيقة الجائزة أنهاهبةبدون مقابل ، فانها ليست من عقود المعاوضة، وانمامن قبيل التبرعات، فمن شروط جوازها أن تکون تبرعاً من المجيز بدون أن يلتزم المجاز بدفع عوض مالی مقابل الجائزة۔۔۔ الجوائز علی شراء المنتجات۔۔۔۔۔وإن حکم هذه الجوائز أنها تجوز بشروط: الشرط الاول: أن يقع شراء البضاعة بثمن مثله، ولايزاد فی ثمن البضاعة من أجل احتمال الحصول علی الجوائز وهذا لأنه إن زاد البائع علی ثمن المثل فالمقدار الزائد إنمايدفع من قبل المشتری مقابل الجائزة المحتملة فصارت الجائزة بمقابل مالی فلم يبق تبرعا وإن هذا المقابل المالی إنماوقع المخاطرة فصارت العملية قمارا،أما إذا بيعت البضاعة بثمن مثلها، فإن المشتری قد حصل علی عوض کامل للثمن الذی بذله، ولم يخاطر بشئ فالجائزة التی يحصل عليها جائزة بدون مقابل، فيدخل فی التبرعات المشروعة۔
محمد عمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
17/ربیع الثانی /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


