03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تقسیمِ میراث میں مناسخہ کی ایک صورت کا حکم
92329میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

میں اپنی ذاتی جائیداد کی شرعی تقسیم کے حوالے سے آپ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے یہ خط تحریر کر رہی ہوں۔ 

​میرے شوہر کا انتقال 2021 میں ہو چکا ہے اور اللہ تعالی کے فضل و کرم سے میرے نام پر میری اپنی ذاتی، رہائشی جائیداد موجود ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ اپنی زندگی ہی میں اپنی اس جائیداد کو اپنے بچوں میں شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کر دوں تاکہ بعد میں کسی قسم کا اختلاف یا غلط فہمی پیدا نہ ہو۔ 

​اس وقت میرے بچوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

میرے چار بیٹے ہیں، جن میں سے میرے سب سے بڑے بیٹے کامران (مرحوم) کا انتقال ہو چکا ہے،میرے شوہر کے انتقال کے 6 مہینے بعد ، جبکہ باقی تین بیٹے عمران، عرفان اور فرحان حیات ہیں، اور تینوں شادی شدہ ہیں۔میری تین بیٹیاں ہیں، جو کہ حیات اور شادی شدہ ہیں۔  میرے مرحوم بیٹے کامران کی بیوہ اور ایک بیٹی حیات ہیں۔ 

​میری جائیداد کی موجودہ مالیت تقریباً دو کروڑ تیئس لاکھ روپے (Rs. 23,000,000) ہے۔ 

​میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ قرآن و سنت کی روشنی میں میری زندگی میں اپنی جائیداد بچوں میں تقسیم کرنے کی شرعی صورت کیا ہوگی؟ نیز یہ بھی واضح فرما دیں کہ: 

​1: اگر میری زندگی میں جائیداد تقسیم کی جائے تو کیا یہ میراث شمار ہوگی یا ہبہ (گفٹ)؟

2: میرے مرحوم بیٹے کامران کی بیوہ اور بیٹی کا اس جائیداد میں کوئی شرعی حق یا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟

3: میرے تین حیات بیٹوں کا کتنا حصہ ہوگا؟  میری تین بیٹیوں کا کتنا حصہ ہوگا؟ 

4: اگر جائیداد کی مالیت دو کروڑ تیئس لاکھ روپے ہو تو شرعی اصول کے مطابق ہر فرد کے حصے کی تفصیل بھی رقم کے ساتھ بیان فرما دیں۔

  5: میری ذاتی ملکیت اور میرے لیے محفوظ رہنے والے حصے کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ 

​برائے کرم قرآن وسنت کی روشنی میں اس معاملے کی مکمل اور واضح شرعی رہنمائی فرمائیں، تاکہ میں اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کے بارے میں درست شرعی طریقہ اختیار کر سکوں۔

وضاحت: یہ رہائشی جائیداد میرے شوہر  کی تھی ،قانونی مسائل کی وجہ سے انھوں نے میرے نام کی تھی ، کیونکہ  وہ ملک سے باہر ہوتے تھے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کوئی جائیداد محض کسی دوسرے کے نام یا کاغذات میں منتقل کر دینے سے شرعاً اس کی ملکیت میں نہیں جاتی، بلکہ ہبہ (گفٹ) کے مکمل ہونے کے لیے تمام مالکانہ حقوق اور مکمل قبضہ سپرد کرنا ضروری ہے۔ چونکہ آپ کے شوہر نے قانونی اور انتظامی مجبوری کی وجہ سے یہ جائیداد آپ کے نام کی تھی اور انہوں نے مکمل مالکانہ حقوق کے ساتھ اسے آپ کو ہبہ یا گفٹ نہیں کیا تھا؛ لہٰذا شرعاً یہ جائیداد آپ کی ذاتی ملکیت شمار نہیں ہوگی، بلکہ آپ کے مرحوم شوہر کا ترکہ (میراث) شمار ہوگی اور شرعی لحاظ سے تمام ورثاء میں تقسیم کی جائے گی۔

2: مرحوم کامران چونکہ اپنے والد کی وفات کے وقت حیات تھے، اس لیے والد کی میراث میں ان کا بھی شرعی حصہ تھا۔ لہٰذا اب ان کے انتقال کے بعد ان کے حصے کی رقم اور میراث ان کے ورثاء (بیوہ، بیٹی وغیرہ) میں تقسیم ہوگی۔

: 3آپ کے مرحوم شوہر نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں مذکورہ جائیداد سمیت جو منقولہ و غیر منقولہ مال اور ساز و سامان چھوڑا ہے، یہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کی تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات ادا کیے جائیں گے، بشرطیکہ کسی نے اپنی طرف سے تبرعاً ادا نہ کیے ہوں۔ پھر اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض واجب الادا ہو، تو اس کو ادا کیا جائے گا۔ پھر اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو، تو بقیہ مال میں سے ایک تہائی (1/3) تک ادا کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل 88 حصے کر کے مرحوم کی اہلیہ کو 11 حصے (12.5%)، مرحوم کے چار بیٹوں میں سے ہر ایک کو 14، 14 حصے (15.90%) اور مرحوم کی تین بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 7، 7 حصے (7.95%) دیے جائیں گے۔

آسانی کے لیے ذیل میں نقشہ ملاحظہ کیجیے:

نمبر شمار

ورثاء کی تفصیل

کل حصے (88)

فیصد ی حصہ

کل ترکہ 

1

زوجہ (بیوہ)

11

12.5%

2,875,000

2

بیٹا

14

15.90%

3,659,091.90

3

بیٹا

14

15.90%

3,659,091.90

4

بیٹا

14

15.90%

3,659,091.90

5

بیٹا

14

15.90%

3,659,091.90

6

بیٹی

7

7.95%

1,829,545.45

7

بیٹی

7

7.95%

1,829,545.45

8

بیٹی

7

7.95%

1,829,545.45

مجموعہ

 

88

100%

23,000,000

 

4: اس کے بعد آپ کے بیٹے مرحوم کامران نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں اپنے والد صاحب سے میراث میں اپنے حصے کے 3,659,091.90 روپے سمیت جو منقولہ و غیر منقولہ مال، جائیداد اور ساز و سامان چھوڑا ہے، یہ سب مرحوم کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کی تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات ادا کیے جائیں گے، بشرطیکہ کسی نے اپنی طرف سے بطورِ احسان ادا نہ کیے ہوں۔ پھر اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض واجب الادا ہو، تو اس کو ادا کیا جائے گا۔ پھر اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو، تو بقیہ مال میں سے ایک تہائی (1/3) تک ادا کیا جائے گا۔

اس کے بعد اگر مرحوم کے تمام ورثاء یہی ہیں جو سوال میں ذکر کیے گئے ہیں اور ان کے علاوہ کوئی اور موجود نہیں، تو ان کے تمام ترکہ کو 216 حصوں میں تقسیم کر کے ان کے ورثاء (ماں، بیوی، بیٹی اور بہن بھائیوں) میں درج ذیل نقشے کے مطابق تقسیم کیا جائے گا:

نمبر شمار

ورثاء کی تفصیل

عددی حصے

فیصد ی حصہ

ترکہ

1

ماں

36

16.66%

609,848.48

2

زوجہ (بیوہ)

27

12.50%

457,386.36

3

بیٹی

108

50%

1,829,545.46

4

بھائی

10

4.62%

169,402.36

5

 بھائی

10

4.62%

169,402.36

6

بھائی

10

4.62%

169,402.36

7

بہن

5

2.31%

84,701.18

8

بہن

5

2.31%

84,701.18

9

بہن

5

2.31%

84,701.18

مجموعہ

کل ورثاء

216

100%

3,659,090.91

5: اپنے مرحوم شوہر اور مرحوم بیٹے کی ترکے (میراث) میں سے شرعی حصے کے مطابق جو رقم آپ کو ملے گی، وہ مکمل طور پر آپ کی ذاتی ملکیت ہوگی۔اسے آپ اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی جائز کا م میں خرچ کر سکتی ہیں ۔

حوالہ جات

القرآن الکریم [النساء: 11

يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ .

فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْن.

«مختصر القدوري» (ص124):

‌الهبة: ‌تصح ‌بالإيجاب ‌والقبول وتتم القبض فإذا قبض الموهوب له في المجلس بغير أمر الواهب جاز وإن قبض بعد الافتراق لم تصح إلا أن يأذن له الواهب في القبض.

«شرح مشكلات القدوري» (2/ 55):

قال: (‌الهبة ‌تصح ‌بالإيجاب، ‌والقبول، والقبض)؛ لأن الهبة تبرع في حال الحياة، فصار كالوصية بعد الموت، والإيجاب، والقبول شرط لتمامها كذلك الهبة، وروي عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه لا يتم الصدقة إلا بالقبض الهبة تمليك باختيار.

محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

20/ ربیع الثانی/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب