| 91879 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعد از سلامِ مسنون عرض ہے کہ ہمارے مرحوم والد عبدالمجید کی پانچ اولاد ہیں، جن میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ ہمارے والد صاحب کی حیات ہی میں ہم سب بہن بھائیوں کی شادیاں ہو گئی تھیں۔ ہمارے والد صاحب کا انتقال ستمبر 2013ء میں ، جبکہ ہماری والدہ کا انتقال 2024ء میں ہوا ہے۔
ہمارے مرحوم والد صاحب نے دو فیکٹریاں اور ایک مکان اپنی محنت سے خود بنایا تھا، اور انہیں اپنے والدین کی طرف سے کوئی وراثت نہیں ملی تھی۔
ہمارے مرحوم والد صاحب نے 1994ء میں گبول ٹاؤن میں واقع ایک فیکٹری اپنے تینوں بیٹوں کو ہبہ کر دی تھی، اور اسے تینوں بیٹوں کے نام منتقل بھی کر دیا تھا، نیز اس کا قبضہ بھی انہیں دے دیا تھا۔ اس فیکٹری میں بیٹیوں کو کچھ نہیں دیا گیا تھا۔
2009ء میں ہمارے والد صاحب نے سائٹ ایریا میں واقع ایک فیکٹری اور فیڈرل بی ایریا، کراچی میں واقع ایک مکان میں سے دونوں بہنوں کو علیحدہ علیحدہ مبلغ 25،25 لاکھ روپے ادا کیے اور ایک اسٹامپ پیپر پر ان کے دستخط کروائے، جس میں یہ لکھوایا گیا کہ مذکورہ دونوں جائیدادوں کی مد میں آپ دونوں بہنوں کو اپنا حصہ مل گیا ہے اور اب ان جائیدادوں سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
2010ء میں ہمارے والد صاحب نے سائٹ ایریا میں واقع فیکٹری کا 75 فیصد حصہ تینوں بیٹوں کو مساوی طور پر یعنی ہر ایک بیٹے کو 25 فیصد حصہ ہبہ کر دیا تھا ، اور ان کے نام منتقل کر کے مکمل قبضہ بھی دیا تھا ۔ جبکہ باقی 25 فیصد حصہ والد صاحب نے اپنی ملکیت میں رکھا، اور مکان بھی اپنی ملکیت میں رکھا۔ اسی حالت میں مورخہ 01-09-2013ء کو والد صاحب کا انتقال ہوگیا۔
2014ء میں ہم بھائیوں نے اپنی بہنوں اور والدہ سے کہا کہ والد صاحب کی جو جائیداد، یعنی سائٹ ایریا کی فیکٹری کا 25 فیصد حصہ اور مکان، ان کی ملکیت میں تھا، وہ اب ان کی وراثت بن گئی ہے؛ لہٰذا اس میں والدہ اور بہنوں کے جو بھی شرعی حصے بنتے ہیں، وہ رقم ہم بھائیوں سے لے لیں۔ اس پر بہنوں نے کہا کہ والد صاحب نے ہمیں جو کچھ دے دیا ہے، ہم اس سے مطمئن ہیں، لہٰذا اب ہمیں مزید کچھ نہیں چاہیے۔
اس کے بعد ہم سب بہن بھائی 2014ء ہی میں وراثت نامہ بنوانے کے لیے عدالت گئے، اور وہاں سے ہم سب بہن بھائی اور والدہ مذکورہ بقایا جائیداد کے مالک قرار پائے۔ اس کے بعد اگلی پیشی میں دونوں بہنوں اور والدہ نے جج کے سامنے مذکورہ وراثتی جائیداد میں اپنے حق سے ہمارے بھائیوں کے حق میں دستبرداری اختیار کرلی، اور رجسٹرار آفس میں بھی جا کر وارثتی جائیداد سے دستبرداری کر دی، جس کے بعد یہ دونوں جائیدادیں بھائیوں کے نام منتقل ہوگئیں۔
اب 2026ء کے شروع میں ہماری بہنوں نے دوبارہ مذکورہ جائیداد میں اپنے حق کا ہم بھائیوں سے مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ہم آپ کی خدمت میں درج ذیل سوالات پیش کرتے ہیں:
سوال نمبر 1:کیا شریعت میں والدین کو یہ اجازت ہے کہ وہ اپنی حیات میں اپنی اولاد کو اپنی جائیداد میں سے کوئی حصہ اپنی مرضی کے مطابق ہبہ کر سکتے ہیں؟
سوال نمبر 2:اگر کسی شخص کی پانچ اولاد ہوں، جن میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہوں، تو کیا وہ اپنی جائیداد میں سے کچھ حصہ اپنی اولاد کو ہبہ کر سکتا ہے؟
سوال نمبر 3:بہنیں اپنے انکار اور اپنے حق سے دستبرداری کے تقریباً 13 سال بعد آج دوبارہ اپنے حق کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ کیا شرعاً انہیں ایسا کرنے کا حق ہے؟
سوال نمبر 4:والد صاحب نے اپنی زندگی میں جو جائیداد بیٹوں کے نام ہبہ کر دی تھی، کیا والد صاحب کے انتقال کے بعد اس جائیداد میں بیٹیوں کا بھی حصہ بنتا ہے؟
سوال نمبر 5:والد صاحب کے انتقال کے وقت جو جائیداد ان کی ملکیت میں تھی، یعنی فیکٹری کا 25 فیصد حصہ اور مکان، کیا اس میں بیٹیوں کا شرعی حصہ بنتا ہے؟ اگر بنتا ہے تو اس کی تقسیم کس حساب سے ہوگی؟ یعنی والد صاحب کے انتقال کے وقت جائیداد کی مالیت کے حساب سے یا موجودہ (آج کی) مالیت کے حساب سے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال نمبر ۱ اور ۲: زندگی میں جائیداد کی تقسیم اور ہبہ
واضح رہے کہ والد چونکہ اپنی تمام جائیداد کا مالک ہے، اس لیے مالک اپنی مملوکہ چیز میں ہر جائز تصرف کرنے کا حق رکھتا ہے۔ نیز انسان اپنی زندگی میں اپنا کل یا بعض مال اولادسمیت کسی کو بھی ہبہ کر سکتا ہے ۔البتہ اپنی اولاد کو ہبہ کرنے کی صورت میں ،تمام اولاد کے درمیان برابری کرنا ضروری ہے اور بغیر کسی معتبر وجہ کے کسی کو زیادہ دینا، کسی کو کم دینا یا کسی کو بالکل محروم کرنا والد کے لیے جائز نہیں ہے۔ تاہم اگر والد نے اپنی زندگی میں کوئی چیز اپنی اولاد میں سے کسی کو ہبہ کر دی اور اسے قبضہ بھی دے دیا، تو وہ اس کا مالک بن جاتا ہے۔
سوال نمبر ۳: حقِ وراثت سے دستبرداری اور اس سے رجوع
کسی وارث کا میراث کی تقسیم سے پہلے اپنے شرعی حق سے دستبردار ہونا شرعاً معتبر نہیں ہوتا۔ البتہ اگر میراث تقسیم ہونے کے بعد کوئی وارث اپنے حصے پر قبضے کے بعد ، کسی دوسرے وارث کے حق میں اپنے حصے سے دستبردار ہوجائے تو یہ دستبرداری معتبر ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ ورثاء (بہنوں اور والدہ) نے مورث (والد) کے انتقال کے بعد تقسیم میراث سے پہلے عدالت یا رجسٹرار آفس میں اپنے شرعی حصے سے دستبرداری اختیار کر لی تھی اور بھائیوں کو اس کا مالک بنا دیا تھا، اور شرعی طور پر ایسی دستبرداری کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ۔لہذا اب بھی بیٹیوں کو اپنا حصہ وصول کرنے کا حق حاصل ہیں ۔
سوال نمبر ۴: زندگی میں ہبہ شدہ جائیداد کا حکم
والد صاحب نے اپنی زندگی میں جو جائیداد اپنے بیٹوں کے نام ہبہ کی تھی اور اس کا قبضہ بھی انہیں دے دیا تھا، تو بیٹے اس جائیداد کے مالک بن گئے تھے۔ لہٰذا والد صاحب کے انتقال کے بعد میراث کی تقسیم میں وہ جائیداد شامل نہیں ہوگی، کیونکہ میراث صرف ان اموال اور جائیدادوں میں جاری ہوتی ہے جو میت کے انتقال کے وقت اس کی ملکیت میں ہوں۔ صورتِ مسئولہ میں مذکورہ فیکٹریاں(۲۵٪ کے علاوہ ) والد صاحب کے انتقال کے وقت ان کی ملکیت میں نہیں تھیں بلکہ ان کے بیٹوں کی ملکیت میں تھیں، لہٰذا ان جائیدادوں میں بیٹیوں کا کوئی شرعی حصہ نہیں ہوگا۔
سوال نمبر ۵: بقایا جائیداد (۲۵٪ فیکٹری اور گھر) میں حصے کا حکم
والد صاحب کے انتقال کے وقت جو جائیداد ان کی ملکیت میں تھی، یعنی فیکٹری کا 25 فیصد حصہ اور ایک مکان، وہ بطورِ میراث تمام شرعی ورثاء میں شرعی اصول کے مطابق تقسیم ہوگی۔
جہاں تک آپ کے بہنوں کا میراث سے دستبرداری کاتعلق ہےتواس کی تفصیل جاننے سے پہلے یہ سمجھیں کہ زندگی میں والدنے جوکچھ ان کو دیاتھا وہ ہبہ تھا وہ بیٹیوں کی میراث کا بدل نہیں ہوسکتاکیونکہ وارث کی ملکیت میراث میں مورث کے مرنے کے بعدآتی ہے اس سے پہلے نہیں۔ لہذا جب زندگی میں بیٹیاں مالک ہی نہیں تو وہ اس کا بدل لیکرمعاملہ کس بنیاد پرکر سکتی ہے ؟ اس لئے جوکچھ والد نے ان کواپنی زندگی میں دیاتھا وہ سب کچھ ہبہ تھا ، جبکہ یہ شرط کہ انہیں میراث میں کوئی حصہ نہیں ملے گا، شرط فاسد ہونے کی وجہ سے شرعاً معتبر نہیں ہوگی۔ کیونکہ ہبہ شرطِ فاسد کی وجہ سے فاسد نہیں ہوتا، بلکہ ایسی شرط خود لغو قرار پاتی ہے۔ لہٰذا مذکورہ 25،25 لاکھ روپے بیٹیوں کی ملکیت ہوں گے، اور والد صاحب کے انتقال کے بعد بھی میراث میں ان کا حق برقرار رہے گا۔ البتہ اگربہنوں نے والد صاحب سےحساب کرتےوقت یہ وعدہ کیا ہو کہ (والدکی وفات کے بعد) وہ ترکہ میں سے اپنا حصہ نہیں لیں گی اوریہ وعدہ انہوں نے خوشی سے کیاتھا،اوراسی پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے بعد میں رجسٹری بھی کروائی تو پھراُن کو چاہئے کہ اپنا وعدہ پورا کریں اور ترکہ میں سےتھوڑا مال لے کر اپنے باقی حصے سے دستبردار ہوجائیں۔
مزید یہ کہ میراث کی تقسیم محض جائیداد کی مالیت کے اعتبار سے نہیں بلکہ جائیداد کے عین اور حصوں کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ لہٰذا صورتِ مذکورہ میں اگر جائیداد کی تقسیم اب ہو رہی ہے اور بہنیں اپنے حصے کے بدلے رقم لینا چاہتی ہیں، تو ان کے حصے کی قیمت موجودہ قیمت کے حساب سے مقرر کی جائے گی، نہ کہ والد کے انتقال کے وقت کی قیمت کے حساب سے۔
حوالہ جات
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 464)
وإذا قال عبدي هذا لفلان، وداري هذه لفلان، ولم يقل وصية ولا كان في ذكر وصية ولا بعد موتي كانت هبة قياسا واستحسانا، وإن قبضها في حال حياته صح، وإن لم يقبضها حتى مات فهو باطل.
المبسوط للسرخسي (12/ 57)
قال: (وإن كان الموهوب حاضرا في المجلس فقبضه الموهوب له بإذن الواهب ملكه، وإن قبضه بغير إذنه في القياس: لا يملكه، وفي الاستحسان: يملكه، نص على ذلك في الزيادات).
الاختيار لتعليل المختار (5/ 65)
قال: (ويعتبر في المال والورثة الموجود عند الموت) حتى لو أوصى بثلث ماله ولا مال له ثم اكتسب مالا ومات أو كان له فذهب أو نقص، فإن المعتبر ماله حالة الموت ; لأن وقتئذ تنفذ الوصية وينتقل المال إلى ملك الموصى له، وكذلك الورثة لا اعتبار لمن مات قبله لا بإجازته ولا برده لأن المال إنما ينتقل إليهم بعد الموت فلا اعتبار بغير المالك.
غمز عیون البصائر فی شرح الأشباہ و النظائر: (354/3)
"لَوْ قَال الْوَارِث: تَرکْت حَقِّی لَمْ یَبْطُلْ حَقّہُ؛ إذْ الْمِلْک لَا یَبْطل بِالتَّرْک(الأشباہ)قولہ: لو قال الوارث: ترکت حقی إلخ. اعلم أن الإعراض عن الملک أو حق الملک ضابطہ أنہ إن کان ملکا لازما لم یبطل بذلک کما لو مات عن ابنین فقال أحدہما: ترکت نصیبی من المیراث لم یبطل لأنہ لازم لا یترک بالترک بل إن کان عینا فلا بد من التملیک وإن کان دینا فلا بد من الإبراء".
شفیع اللہ بن معروف خان
دارالافتاءجامعہ الرشید کراچی
تاریخ:۰۶،ربیع الاول، ١٤٤۸
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شفیع اللّٰہ بن معروف خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


