| 92121 | خرید و فروخت کے احکام | قرض اور دین سے متعلق مسائل |
سوال
اوزین نے احمد کا قرض دینا تھا۔ اوزین نے احمد کے اکاوئنٹ میں پیمنٹ بھیج کر احمد کو رسید دکھائی۔ احمد نے کہا ٹھیک ہے، لیکن بعد میں جب احمد نے اپنا اکاوئنٹ کھول کر دیکھا تو کوئی پیمنٹ نہیں آئی ہوئی تھی، نہ ہی کوئی میسج آیا، اور نہ ہی اکاوئنٹ ہسٹری میں کوئی پیمنٹ آئی، لیکن اوزین کے اکاوئنٹ سے پیسے کٹ گئے، اور ہسٹری میں بھی دکھائی دے رہا ہے کہ پیمنٹ ہوئی ہے۔ دونوں قرض خواہ اور قرض دار اس بات پر متفق ہیں کہ اوزین نے پیمنٹ بھیجی ہے اور اس کے اکاؤنٹ سے پیمنٹ کٹ بھی ہوئی ہے۔ اور لیکن احمد کے اکاوئنٹ میں نہیں آئی۔
اوزین نے ایزی پیسہ سے پیمنٹ بھیجی تھی۔ اور پھر کمپنی والوں سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی کی ،لیکن ابھی فی الحال تک انکی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ یہ واقعہ 3 اکتوبر 2026 کا ہے۔ ابھی تک 24 گھنٹے گزر چکے ہیں۔ اور کوئی ریفنڈ بھی نہیں ہوا۔ اب اوزین کی طرف سے دعویٰ ہے کہ قرض ادا ہوگیا، کیونکہ اسکے اکاؤنٹ سے پیمنٹ کٹ گئی، لیکن اوزین بھی اس بات کا شاہد ہے کہ احمد کو اسکے اکاؤنٹ میں پیمنٹ موصول نہیں ہوئی۔ اور احمد کہہ رہا ہے کہ قرض ادا نہیں ہوا ، ابھی ادا کرنا ہے۔
اب یہ بتائیں کہ اوزین کی طرف سے قرضہ ادا ہو گیا ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اوزین کی طرف سے قرض ابھی ادا نہیں ہوا ہے؛ کیونکہ بینک یا مائیکرو فنانس ادارے (جیسے ایزی پیسہ) کے ذریعے قرض ادا کرنے کی صورت میں شرعی قبض (قبض حکمی) تب مکمل ہوتا ہے جب رقم عملاً موصول کنندہ (احمد) کے اکاؤنٹ میں داخل ہو جائے، کیوں کہ احمد کا اکاؤنٹ فراہم کرنے والا ادارہ احمد کی طرف سے قبض کا وکیل ہوتا ہے، اور جب تک وکیل کے پاس رقم نہ پہنچے تب تک موکل کا قبضہ شمار نہیں ہوتا۔ محض اوزین کے اکاؤنٹ سے رقم کٹ جانے یا رسید بن جانے سے قرض خواہ کی ذمہ داری مکمل نہیں ہوتی، لہٰذا جب تک وہ رقم احمد کے اکاؤنٹ میں جمع نہیں ہو جاتی اور اسے تصرف کا اختیار حاصل نہیں ہوتا ،تب تک اوزین اس قرض کی ادائیگی کا پابند رہے گا۔
حوالہ جات
) فقہ البیوع ،مکتبہ معارف القرآن ،ص441 (
٢٠٠ - التَّحويل المصرفيّ
١- رُبَّما يقعُ تسليمُ النُّقود عن طريق التَّحويل المصرفيّ (Bank Transfer) وذلك بأن يكون لزيدٍ رصيدٌ في حسابه الجاري (current Account) لدى بنك ألف، ولعمرو رصيدٌ في حسابه الجاري (current Account) لدى بنك ب، فيأمر زيدٌ بنك ألف أن يُحوِّل مبلغاً إلى رصيد عمرو في بنك ب. فحينما يدخلُ المبلغُ في رصيد عمرو في بنك ب، يُعتبر عمروٌ قابضاً لتلك النُّقود. وحقيقتُه فقهاً أن بنك ألف مدينٌ لزيدٍ بمبلغ رصيده، وأمرُه بتحويل المبلغ أمرٌ بدفع دَينه الَّذي على البنك إلى وكيل عمرو. وبنك ب وكيلٌ لعمرو في قبض المبلغ. فقبضُه نيابةً عن عمرو قبضٌ من عمرو حُكمًا. وبهذه الصِّفة قبضُ بنك ب قبضُ أمانة. ثمَّ بخلْط البنك هذا المبلغَ بأمواله الأخرى يُصبح مضموناً عليه، وينقلبُ إلى قبضِ ضمان.
محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
24/ربیع ا لثانی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


