03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
2007ء میں واجب الاداء رقم کس حساب سے ادا کی جائے گی؟
91700خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

1۔ ہمارے بھائی نصیر نے ہماری والدہ سے 1998ء میں مکان بنانے کے لیے تین لاکھ (300000)روپیہ بطورِ قرض لیا، بھائی جان نے چار لاکھ روپیہ مزید ملا کر کل سات لاکھ روپے کا مکان لیا، اور وہ رقم انہوں نے والدہ کو واپس نہیں کی، یہاں تک کہ 2007ء میں والدہ کا انتقال ہو گیا، وفات کے بعد ورثاء کو بھی اس تین لاکھ روپیہ میں سے حصہ نہیں دیا، اب وہ اس رقم میں سے ورثاء کو حصہ ادا کرنا چاہتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا وہ تین لاکھ ہی ادا کریں گے یا مکان کی قیمت کے اعتبار سے ادا کریں گے، جبکہ مکان کی قیمت اس وقت ڈیڑھ کروڑ روپیہ ہے۔

2۔ والدہ کی وفات کے وقت ہم تین بھائی اور تین بہنیں حیات تھیں، اس کے علاوہ اور کوئی وارث نہیں تھا،  اس رقم میں ہربھائی اور بہن کا کتنا حصہ ہو گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔ صوتِ مسئولہ میں آپ کے بھائی نے چونکہ یہ رقم والدہ سے  بطورِ قرض لی تھی اور عام حالات میں  قرض کا  اصول یہ ہے کہ جس جنس، مقدار اور جس معیار کی چیز لی جائے اسی جنس اور اتنی ہی مقدار میں واپس کرنا ضروری ہے، لہذا آپ کے بھائی کے ذمہ رقم کی ادائیگی ہی لازم ہے، باقی مکان چونکہ انہوں نے اپنے لیے خریدا تھا اس لیے اس میں مکان کی قیمت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، البتہ ان کے ذمہ لازم تھا کہ وہ والدہ کو ان کی زندگی میں یہ رقم واپس کرتے یا کم از کم ان کی وفات کےفوراً بعد ورثاء کو ان کے شرعی حصوں کے مطابق ادائیگی کرتے، لیکن جب انہوں نے 2007ء میں بھی ادائیگی نہیں کی اور اب2026ء میں ورثاء کو وہ رقم ادا کرنا چاہتے ہیں، جبکہ اب کرنسی کی قیمت بہت زیادہ گر چکی ہےاورایسی صورتِ حال میں فقہائے کرام رحمہم اللہ کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب رائج الوقت کرنسی کی قیمت بہت زیادہ گِر جائے تو وہ مُلحق بالکساد (کھوٹے ہونے کی وجہ سے جس کے لین دین کا رواج ختم ہو چکا ہو) شمار ہوتی ہے اور پھر اس پر احکام بھی کاسد یعنی منسوخ شدہ کرنسی والے جاری ہوتے ہیں  اور  کاسد کرنسی کی صورت میں دَین کی ادائیگی مفتی بہ قول(هذا قول أبي يوسف رحمه الله وعلیہ الفتوی كما صرح ابن عابدين في رد المحتارو تنبيه الرقود على مسائل النقود) کے مطابق اس کی  خریدفروخت کے دن کی قیمت کے مطابق کی جاتی ہے۔

           رہی یہ بات کہ کرنسی کس حد تک گرِ جائے تو اس کو ملحق بالکساد شمار کیا جائے گا تو حدیثِ پاک کی عبارت "الثلث کثیر"سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اگر کرنسی کی قیمت (حقیقی مالیت /فیس ویلیو) ایک تہائی تک باقی ہے تو اس کا اعتبار کیا جائے گا اور دیون وغیرہ میں اسی مقدار کے مطابق ادائیگی واجب ہو گی، البتہ اگر کرنسی کی قیمت ایک تہائی بھی باقی نہ رہے، بلکہ اس سے بھی کم مالیت رہ جائے تو اس کو ملحق بالکساد قرار دیا جاسکتاہےاورمذکورہ صورت میں کرنسی کی مالیت ایک تہائی سے بھی زیادہ گر چکی ہے، چنانچہ سی پی آئی (Consumer Price Index) کے مطابق 2007ء میں ایک ہزار روپیہ کے عوض جتنی اشیاء آتی تھیں وہ اب تین ہزار روپے میں بھی نہیں خریدی جا سکتیں، مثلا اگست 2007ء میں سونے کا ریٹ تقریباً 39945 روپے تھا، جبکہ اگست 2026ء میں تقریباً 430500روپے ہے، یہی حال دیگر اشیاء کا ہے، اس لیے اب آپ کے بھائی کو چاہیے کہ تین لاکھ روپے کی موجودہ مالیت کے حساب سے ورثاء کو ان کا شرعی حصہ ادا کرے، سی پی آئی (Consumer Price Index) کے اندازے کے مطابق 2007ء میں تین لاکھ روپے کی موجودہ مالیت 2279529روپے بنتی ہے اور یہ رقم چونکہ والدہ کا ترکہ تھی، جس میں آپ کے بھائی کا وراثتی حصہ بھی  ہو گا، اس لیے آپ کے بھائی کے ذمہ لازم ہے کہ وہ اس رقم میں سے اپنی شرعی حصہ نکال کر بقیہ رقم کی مالیت کے برابر سونا یا روپیہ کے علاوہ کوئی اور کرنسی ریال یا ڈالر وغیرہ کے ذریعہ دیگر ورثاء کو ادائیگی کرے،کیونکہ قرض کی جنس سے اضافی رقم ادا کرنے کی صورت میں سود کا شبہ آئے گا، اس لیے احتياطا خلافِ جنس سے دَين ادا کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس پر عمل کرنے میں کسی فریق کی حق تلفی نہیں،بلکہ اس میں جانبین کی رعایت کے ساتھ احتیاط کا پہلو بھی غالب ہے۔ باقی اس رقم میں کس وارث کا کتنا حصہ ہو گا؟ تو اس کا جواب اگلے سوال کے جواب میں آرہا ہے۔

2۔ اگر مرحومہ کی وفات کے وقت ان کے ذمہ واجب الاداء قرض اور وصیت وغیرہ پر عمل کیا جا چکا ہےاورمرحومہ کے ورثاء میں صرف تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہی موجود تھیں  تو اس صورت میں مذکورہ رقم کل نو حصوں میں برابر تقسیم کر کے ہر بیٹے کو دو حصے  اور ہر بیٹی کو ایک حصہ دیا جائے گا، مذکورہ رقم کی تقسیم کا نقشہ درج ذیل ہے:

 

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیٹا

2

22.222%

2

بیٹا

2

22.222%

3

بیٹا

2

22.222%

4

بیٹی

1

11.111%

5

بیٹی

1

11.111%

6

بیٹی

1

11.111%

 

 

 

 

 

 

 

نوٹ: یادر ہے کہ پہلے سوال کے جواب میں اکابر اہلِ افتاء نے عام حالات میں امام ابویوسف رحمہ اللہ کے اس قول پر فتوی نہیں دیا، تا کہ سودکا در وازہ نہ کھلے، لیکن بعض نادر حالات جیسے کرنسی کی قیمت میں غیر معمولی اور بہت زیادہ فرق آجانے کی صورت میں اصل جنس کی مقدار کے مطابق ادائیگی لازم کرنے میں چونکہ دائن (اپنا حق وصول کرنے والا شخص، خواہ وہ فروخت کنندہ ہو تو یا قرض دہندہ یا کوئی اور جیسےموجر)کے ساتھ واضح طور پر ناانصافی ہے، اس لیے ہمارے خیال میں جہاں تا خیر مدیون کے ٹال مٹول اور کو تاہی کی وجہ سے ہو وہاں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کے مطابق عمل کرنے کی گنجائش ہے، اس کے علاوہ عام حالات میں امام ابویوسف رحمہ اللہ کے قول پر عمل کرنے کی اجازت نہیں، بلکہ ایسی حالت میں تنگ دست شخص کو قرآن کریم کی آیتِ مبارکہ { وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ} [البقرة: 280]کے تقاضا کے مطابق  بغیر کسی اضافی رقم کے مہلت دی جائے گی۔

حوالہ جات

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (306/6) دار الكتب العلمية، بيروت:

وفي «المنتقى» : إذا غلت الفلوس قبل القبض أو رخصت، قال أبو يوسف رحمه الله : قولي وقول أبي حنيفة في ذلك سواء وليس له غيرها، ثم رجع أبو يوسف وقال: عليه قيمتها من الدراهم يوم وقع البيع ويوم وقع القبض والذي ذكرنا من الجواب في الكساد فهو الجواب والانقطاع إذا انقطعت الدراهم عن أيدي الناس قبل القبض فسد المبيع عند أبي حنيفة.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (219/6) دار الكتاب الإسلامي:

وفي البزازية معزيا إلى المنتقى غلت فلوس القرض أو رخصت فعند الإمام الأول والثاني  أو لا ليس عليه غيرها، وقال الثاني ثانيا عليه قيمتها من الدراهم يوم البيع والقبض

 

وعليه الفتوى وهكذا في الذخيرة والخلاصة بالعزو إلى المنتقى.

الفتاوى البزازية (46/5) محمد بن محمد الخوارزمي الشهير بالبزازي (المتوفى: 827هـ):

وفي المنتقي غلت الفلوس أو رخصت فعند الإمام الأول والثاني أولاً ليس عليه غيرها وقال الثاني ثانياً عليه قيمتها من الدراهم يوم البيع والقبض وعليه الفتوى.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (533/4) دار الفكر - بيروت

مطلب مهم في أحكام النقود إذا كسدت أو انقطعت أو غلت أو رخصت ]

(قوله : قلت و مما يكثر وقوعه إلخ) أعلم أنه إذا اشترى بالدراهم التي غلب غشها أو بالفلوس ولم يسلمها للبائع ثم كسدت بطل البيع والانقطاع عن أيدي الناس كالكساد ويجب على المشتري رد المبيع لو قائما ومثله أو قيمته لو هالكا، إن لم يكن مقبوضا فلا حكم لهذا البيع أصلا وهذا عنده وعندهما لا يبطل البيع؛ لأن المتعذر التسليم بعد الكساد، وذلك لا يوجب الفساد لاحتمال الزوال بالرواج لكن عند أبي يوسف تجب قيمته يوم البيع، وعند محمد يوم الكساد وهو آخر ما تعامل الناس بها وفي الذخيرة الفتوى على قول أبي يوسف. وفي البزازية عن المنتقى غلت الفلوس أو رخصت فعند الإمام الأول والثاني، أولا ليس عليه غيرها، وقال: الثاني ثانيا عليه قيمتها من الدراهم يوم البيع والقبض وعليه الفتوى وهكذا في الذخيرة والخلاصة عن المنتقى، ونقله في البحر وأقره، فحيث صرح بأن الفتوى عليه في كثير من المعتبرات، فيجب أن يعول عليه إفتاء وقضاء، ولم أر من جعل الفتوى على قول الإمام هذا خلاصة ما ذكره المصنف - رحمه الله تعالى - في رسالته بذل المجهود في مسألة تغير النقود عن المنتقى إذا غلت الفلوس قبل القبض أو رخصت. قال: أبويوسف: قولي في ذلك سواء وليس له غيرها، ثم رجع أبو يوسف وقال عليه قيمتها من الدراهم، يوم وقع البيع ويوم وقع القبض اہ. وقوله: يوم وقع البيع أي في صورة البيع، وقوله: ويوم وقع القبض أي في صورة القرض كما نبه عليه في النهر في باب الصرف.

تنبيه الرقود على مسائل النقود (ص:61) للعلامة ابن عابدين الشامي، ط: سهيل اكيڈمي، لاهور:

( فإن قلت ) يشكل على هذا ما ذكر في مجموع الفتاوى من قوله ولو غلت أو رخصت فعليه رد المثل بالاتفاق انتهى (قلت) لا يشكل لأن أبا يوسف كان يقول أولا بمقابلة الإمام ثم رجع عنها وقال ثانيا والواجب عليه قيمتها كما نقلناه فيما بسق عن البزازيةوصاحب الخلاصة والذخيرة فحكاية الاتفاق بناء على موافقته للامام أولا كما لا يخفى والله تعالي أعلم وقد تتبعت كثيرا من المعتبرات من كتب مشايخنا المعتمدة فلم أر من جعل الفتوى على قول أبي حنيفة

رضي الله عنه بل قالوا: به كان يفتي القاضي الإمام وأما قول أبي يوسف فقد جعلوا الفتوى عليه في كثير من المعتبرات فليكن المعول عليه انتهى كلام الغزى رحمه الله ثم أطال بعده في كيفية الإفتاء والحكم حيث كان للإمام قول وخالفه صاحباه أو وافقه أحدهما إلى آخر الزمان وأيد قول أبي يوسف الثاني .

تنبيه الرقود على مسائل النقود (ص: 62) للعلامة ابن عابدين الشامي، ط: سهيل اكيڈمي، لاهور:

وقال أبو الحسن لم تختلف الرواية عن أبي حنيفة في قرض الفلوس إذا كسدت أن عليه مثلها قال أبويوسف عليه قيمتها من الذهب يوم وقع القرض في الدراهم التي ذكرت أصنافها يعني البخارية والطبرية واليزيدية وقال محمد قيمتها في آخر نفاقها. ......... بقي الكلام فيما إذا نقصت قيمتها فهل للمستقرض رد مثلها وكذا المشتري أو قيمتها؟ لا شك أن عند أبي حنيفة يجب ردمثلها وأما على قولهما فقياس ما ذكروا في الفلوس أنه يجب قيمتها من الذهب يوم القبض عند أبي يوسف ويوم الكساد عند محمد والمحل محتاج إلى التحرير.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (157/7) دار الفكر ، بيروت:

 (قوله ولو استقرض فلوسا فكسدت عند أبي حنيفة - رحمه الله - يرد مثلها ) عددا اتفقت الروايات عنه بذلك، وأما إذا استقرض دراهم غالبة الغش فقال أبو يوسف في قياس قول أبي حنيفة: عليه مثلها، ولست أروي ذلك عنه، ولكن الرواية في الفلوس إذا أقرضها ثم كسدت.

وقال أبو يوسف عليه قيمتها من الذهب يوم القرض في الفلوس والدراهم، وقال محمد: عليه قيمتها في آخر وقت إنفاقها.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

21/صفرالخیر1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب